مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فضائیہ کے پائلٹوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے تقریباً 70 سال پرانے دو F-5 لڑاکا طیاروں کے ذریعے ایک اہم امریکی فوجی اڈے پر اچانک حملہ کرکے بڑی تعداد میں امریکی ہیلی کاپٹر تباہ کیے اور بغیر کسی نقصان کے واپس پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق تہران میں ملٹری کورٹ کے سربراہ حجت الاسلام احمدرضا پورخاقان سے ملاقات کے دوران ایرانی فضائیہ کے پائلٹوں نے اس کارروائی کی تفصیلات بیان کیں۔
پائلٹوں کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی اور میناب کے متعدد طلبہ کی شہادت کی خبر ملنے کے بعد انہوں نے دشمن کو سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ایک ہمسایہ ملک میں واقع ایک اہم امریکی اڈے پر بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان جمع کیا گیا ہے، جس کے بعد یکم مارچ کی صبح دو F-5 طیاروں کے ذریعے کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دشمن کے ریڈار اور دفاعی نظام سے بچنے کے لیے طیاروں نے تقریباً 18 میٹر کی انتہائی کم بلندی پر پرواز کی۔ پائلٹوں کے مطابق وہ فعال پیٹریاٹ دفاعی نظاموں سے بچتے ہوئے مکمل ریڈیو خاموشی کے ساتھ ہدف تک پہنچے، جہاں امریکی ہیلی کاپٹر موجود تھے۔
ایرانی پائلٹوں نے مزید انکشاف کیا کہ انہوں نے اڈے کے رن وے پر موجود ہیلی کاپٹروں پر شدید بمباری کی اور بڑی تعداد میں انہیں تباہ کردیا۔ امریکی فوج نے صرف 12 ہیلی کاپٹروں کی تباہی کا اعتراف کیا، جبکہ اصل تعداد اور جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ تھا۔
پائلٹوں نے مزید کہا کہ واپسی کے دوران ایک F-16 نے ان کا تعاقب کیا۔ ان کے بقول اسی دوران دوسرے ملک کے ایک اڈے سے ایران پر حملے کے لیے آنے والے تین امریکی F-15 طیارے بھی اسی F-16 اور اپنے ہی پیٹریاٹ دفاعی نظام کی فائرنگ کا نشانہ بن کر مارے گئے۔
پائلٹوں کے مطابق امریکی انفراسٹرکچر کو اس کارروائی میں پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ کارروائی میں جدید، بھاری اور انتہائی درست بم استعمال کیے گئے، جن سے امریکی ہیلی کاپٹروں کو ردعمل کا موقع ملنے سے پہلے ہی شدید نقصان پہنچا اور اڈے کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا۔
آپ کا تبصرہ