مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوجی اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے تین ملازمین نے پینٹاگون کی جانب سے برطرف کیے جانے کے خلاف امریکی وزارت دفاع کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، برطرف کیے گئے ملازمین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں آزادی اظہار کے حق کے استعمال اور حکومتی مداخلت پر اعتراض کرنے کی پاداش میں نوکری سے نکالا گیا۔
مقدمے میں اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے ناشر میکس لیڈرر، مدیر ایریک سلاوین اور مشرق وسطی سے متعلق امور کی صحافی لارا کورٹ کو درخواست گزار نامزد کیا گیا ہے۔ یہ وفاقی مقدمہ جمعرات کے روز واشنگٹن ڈی سی میں دائر کیا گیا۔
پینٹاگون، جو اس فوجی نشریے کے بجٹ کا ایک حصہ فراہم کرتا ہے، نے گزشتہ ہفتے ان افراد کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا تھا۔ تاہم پینٹاگون کے ترجمان نے شکایت میں کیے گئے الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایریک سلاوین کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت عہدے سے ہٹایا گیا جب انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فوج کی جانب سے ممکنہ سنسرشپ پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق انہیں نافرمانی کے الزام میں برطرف کیا گیا، جبکہ لارا کورٹ بھی اسی انٹرویو میں شریک تھیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہیں جوابی کارروائی کے طور پر اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن میں بگڑتی صورتحال سے متعلق رپورٹ شائع کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کی ادارتی آزادی اس کے بنیادی مشن کے لیے انتہائی اہم ہے، تاکہ امریکی فوجی برادری، بالخصوص بیرونِ ملک تعینات فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو غیر جانب دار اور معتبر صحافتی معلومات فراہم کی جاسکیں۔
آپ کا تبصرہ