28 اگست، 2026، 11:46 AM

غزہ میں انسانی امداد کی راہ میں اسرائیلی رکاوٹیں تشویشناک حد تک بڑھ گئیں

غزہ میں انسانی امداد کی راہ میں اسرائیلی رکاوٹیں تشویشناک حد تک بڑھ گئیں

بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی تنظیم کی سربراہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ اسرائیلی پابندیوں اور رکاوٹوں نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں کو مکمل تباہی کے دہانے پہنچا دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آتھینا رے برن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں اسرائیل کی جانب سے عائد کی جانے والی بے مثال پابندیوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام دوہرے استعمال کی اشیا کی اصطلاح کو بنیاد بنا کر غزہ میں انسانی امداد کے لیے ضروری متعدد بنیادی آلات داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ ان اشیا میں قینچی، بیساکھی، وہیل چیئر اور مصنوعی اعضا جیسے طبی و امدادی سامان بھی شامل ہیں۔

رے برن کے مطابق، اسرائیلی حکام نہ صرف طبی ماہرین کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں بلکہ بنیادی ضروری اشیا پر بھی سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موٹر آئل کی رسد میں رکاوٹوں کے نتیجے میں غزہ کی منڈی میں اس کی قیمت میں 45 گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام غزہ میں تربوز اور پیاز جیسی عام غذائی اشیا کے داخلے میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔

رے برن نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام نے 30 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امدادی اداروں کی نقل و حرکت اور رسائی کی حدود مسلسل تبدیل کیے جانے کے باعث کم از کم 85 اہم مقامات تک رسائی محدود ہوگئی ہے۔ ان مقامات میں اسکول، طبی مراکز اور پانی کے ذرائع بھی شامل ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں امدادی اداروں کے لیے اسرائیل کی جانب سے مسلسل محدود کیے جانے والے عملی دائرۂ کار کے نتیجے میں انسانی امداد کی کارروائیاں مکمل تباہی کے دہانے تک پہنچ گئی ہیں۔

News ID 1940942

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha