مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شہر شیراز میں آج صبح 20 گمنام شہداء کے پاکیزہ جسد خاکی کی وطن واپسی پر شاندار استقبال کیا گیا۔

یہ شہداء دفاعِ مقدس کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے تھے اور تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد تلاش کی کارروائیوں کے نتیجے میں ان کے جسد خاکی ملے ہیں۔
شیراز کے تاریخی مقام دروازۂ قرآن پر ہونے والی اس پُروقار تقریب میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، والدین، خواتین، نوجوانوں اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر فضا سوگوار اور جذباتی مناظر سے معمور تھی۔
شہریوں نے شہداء کے تابوتوں پر پھول نچھاور کیے اور عقیدت و احترام کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔
تقریب میں شریک ایک خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تابوتوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے اپنے بیٹے برسوں بعد اپنے گھر واپس لوٹ آئے ہوں۔

ایک نوجوان نے کہا کہ اگرچہ ہم نے دفاعِ مقدس کا زمانہ نہیں دیکھا، لیکن آج ملک میں قائم امن انہی شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
ایک والد نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ایثار و قربانی اور شہادت کی ثقافت کو نئی نسل تک منتقل کرنا انتہائی ضروری ہے۔

صوبۂ فارس میں شہداء فاؤنڈیشن کے سربراہ ابراہیم بیانی نے بتایا کہ یہ شہداء تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کے بعد تلاش کی کارروائیوں کے نتیجے میں ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے شہداء کا یہ پُرجوش استقبال اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ ان کی قربانیوں کی قدر و منزلت سے بخوبی آگاہ ہیں، کیونکہ اگر ان شہداء نے قربانیاں نہ دی ہوتیں تو ملک کی سرزمین اور سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

دفاعِ مقدس کے آثار کے تحفظ کے صوبائی ادارے کے سربراہ سردار سعید کوشکی نے بتایا کہ یہ شہداء ۲۱ آبان تک صوبۂ فارس کے مختلف شہروں میں رکھے جائیں گے۔ اس دوران انہیں عوامی اجتماعات اور رات کی خصوصی مجالس میں بھی لے جایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان کی زیارت اور خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔
پروگرام کے مطابق، 12 نومبر کی شب حرمِ حضرت شاہ چراغؑ میں شہداء کی الوداعی تقریب منعقد ہوگی، جبکہ 23 نومبر کی صبح ساڑھے 9 بجے حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت کے موقع پر میدانِ شہداء سے حرمِ حضرت شاہ چراغؑ تک ان شہداء کا جلوسِ جنازہ نکالا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ