مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کی خودساختہ اور اسرائیلی حملوں پر کسی ردِعمل کا مظاہرہ نہ کرنے والی حکومت کے وزیرِ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی شام کی حکومت کے قیام میں چلینجز کا سامنا ہے، کیونکہ دو سال کے عرصے میں ہزار سے زیادہ اسرائیلی حملوں کا متحمل رہا ہے۔
الشیبانی نے بتایا کہ شام سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے دستخط کردہ دفاعی معاہدۂ مکہ میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سالانہ "منامہ ڈائیلاگ" کے اجلاس میں کہا کہ شمولیت کے جائزے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شام تنازعات کے محاذ سے نکل آیا ہے تاکہ علاقائی سلامتی کے فیصلوں کی میز پر اپنی جگہ حاصل کر سکے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ جنوبی شام میں ریاست سازی کا عمل چیلنجوں سے دوچار ہے، کیونکہ دو سال سے کم عرصے میں اسرائیل کی جانب سے ایک ہزار سے زائد خلاف ورزیاں برداشت کرنی پڑی ہیں۔
آپ کا تبصرہ