2 نومبر، 2026، 6:00 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

عالمی جنگ صلاحیت؛ ماہر افرادی قوت کےحصول کےلیے ممالک میں کیسے مقابلہ ہوتا ہے؟

عالمی جنگ صلاحیت؛ ماہر افرادی قوت کےحصول کےلیے ممالک میں کیسے مقابلہ ہوتا ہے؟

باصلاحیت افراد اور دانشوروں کو اپنی طرف راغب کرنے کی مسابقت اب محض ایک سادہ علمی مقابلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک بھرپور عالمی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس نے دنیا کی معیشت، تعلیمی نظام اور امیگریشن قوانین کی حدود و ضوابط کو تبدیل کر دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، شعبۂ ٹیکنالوجی: تحقیق، ترقی اور اختراع کے شعبوں میں ماہر افرادی قوت کو اپنے ہاں لانے کے لیے عالمی مسابقت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں لکسمبرگ اور جرمنی سے لے کر جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات تک مختلف ممالک نے ان انسانی وسائل کی تربیت، انہیں اپنی طرف راغب کرنے اور اپنے ہاں برقرار رکھنے کے لیے پیچیدہ اور ہدفی پالیسیوں کا ایک مجموعہ اختیار کر رکھا ہے۔

رینڈ (RAND) انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ، جس میں مختلف ممالک کے بین الاقوامی تجربات کا جائزہ لیا گیا ہے، ظاہر کرتی ہے کہ اب صرف تحقیقی بجٹ پر توجہ مرکوز کرنا کافی نہیں رہا، بلکہ اس مسابقتی میدان میں اپنی بقا برقرار رکھنے کے لیے ممالک اپنے تعلیمی نظام، امیگریشن قوانین اور ملازمت سے متعلق ترغیبی مراعات کو ازسرنو تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

۱۔ ملکی افرادی قوت کی تربیت؛ STEM وظائف سے پائیدار پیشہ ورانہ مواقع تک

بہت سے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ماہر افرادی قوت کی تربیت کے لیے آزاد منڈی پر انحصار کافی نہیں، بلکہ حکومتوں کو براہِ راست اس عمل میں حصہ لینا چاہیے۔ اسی تناظر میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں کی سرپرستی کو ترجیحی پروگراموں میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور روس، STEM کے شعبوں میں ہدفی وظائف فراہم کرکے اور جامعات کی بعض تعلیمی نشستوں کو مفت کرکے (خصوصاً روس میں انجینئرنگ کے شعبوں میں داخلوں کی تعداد میں کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے) ان شعبوں میں داخلے کے لیے معاشی کشش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کینیڈا نے بھی ’’گلوبل اسکلز اپرچیونٹی‘‘ پروگرام کے ذریعے طلبہ کے بین الاقوامی تبادلے کو آسان بنایا ہے۔

یورپ میں سوئٹزرلینڈ اپنے ’’ینگ پروفیسرز پروگرام‘‘ کے ذریعے پیشہ ورانہ زندگی کے ابتدائی مراحل میں موجود محققین کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ جرمنی، آسٹریا اور نیدرلینڈز، ولہلم لائب نِز، وِٹگن شٹائن اور اسپینوزا جیسے معتبر انعامات کے ذریعے نہ صرف ممتاز سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ انہیں اس بات کا پابند بھی بناتے ہیں کہ وہ اپنی تحقیقی ٹیموں میں کم عمر محققین کی تربیت کریں۔

اسپین بھی ’’رامون ای کاخال‘‘ اور ’’خوان دے لا سیئروا‘‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے تجربہ کار اور نئے محققین کو تحقیق و ترقی کے مراکز میں شامل کرتا ہے۔ آسٹریا نے مستقل جامعہ ملازمت تک رسائی کے نظام متعارف کروا کر نئے آنے والوں کے لیے علمی و تحقیقی شعبوں میں پیشہ ورانہ راستوں کو زیادہ پُرکشش بنایا ہے، تاکہ انہیں ملک چھوڑنے سے روکا جا سکے۔

۲۔ غیر ملکی افرادی قوت کو راغب کرنا؛ امیگریشن قوانین میں آسانی اور اسناد کو تسلیم کرنا

بین الاقوامی سطح پر باصلاحیت افراد کو اپنی طرف راغب کرنے کی مسابقت نے ممالک کو سخت امیگریشن قوانین میں اصلاحات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں غالب رجحان امتیازی نمبر دینے کے نظام کی طرف بڑھنے اور انتظامی کارروائیوں کو تیز کرنے کا ہے۔

لکسمبرگ اپنے ’’PEARL‘‘ اور ’’ATTRACT‘‘ پروگراموں کے ذریعے غیر ملکی محققین کو اس ملک میں تحقیقی گروپ تشکیل دینے کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔

جرمنی نے 2011ء کے ’’قانونِ تسلیمِ اسناد‘‘ کے ذریعے غیر ملکی تعلیمی اسناد کو تسلیم کرنے کے قانونی حق کو مستحکم کیا اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے ویزے جاری کرنے کے عمل کو تیز کیا۔

یورپی یونین کی سطح پر غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہر ملازمین کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ’’بلیو کارڈ‘‘ متعارف کرایا گیا ہے۔ آسٹریا نے بھی سابقہ کوٹہ سسٹم کی جگہ امتیازی نمبروں پر مبنی ’’سرخ، سفید، سرخ کارڈ‘‘ متعارف کرایا ہے، جس میں مہارت، تجربے، تعلیم، عمر اور زبان کی بنیاد پر نمبر دیے جاتے ہیں۔

برطانیہ نے ’’گلوبل ٹیلنٹ ویزا‘‘ کے ذریعے منتخب جامعات کے فارغ التحصیل افراد اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اسی طرح سنگاپور نے بھی ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ملازمین اور ترقی پذیر صنعتوں کے کاروباری افراد کے لیے خصوصی ویزے متعارف کروائے ہیں۔

۳۔برین ڈرین کا مقابلہ اور بیرونِ ملک مقیم شہریوں سے روابط

ماہر افرادی قوت کو اپنی طرف راغب کرنا اس مساوات کا صرف نصف حصہ ہے؛ اس سے بھی بڑا چیلنج انہیں اپنے ہاں برقرار رکھنا ہے۔ ممالک برین ڈرین (ذہین اور ماہر افراد کے ملک چھوڑنے) کے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے تخلیقی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں۔

اٹلی نے ٹیکس مراعات اور تحقیقی مواقع کو یکجا کرکے ’’برین ڈرین کو الٹنے‘‘ کا پروگرام شروع کیا ہے، تاکہ بیرونِ ملک مقیم اپنے ہنرمند شہریوں کو وطن واپس آنے کی ترغیب دے سکے۔

چین نے بیرونِ ملک مقیم اپنے شہریوں کو ملک کے اندر جزوقتی ملازمت کرنے کی اجازت دے کر انہیں ملکی علمی و تحقیقی ماحول سے وابستہ رکھنے کے عمل کو مضبوط بنایا ہے۔

قزاقستان اپنے ’’بولاشاک اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے تحت طلبہ کو پابند کرتا ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کم از کم پانچ سال تک ملک واپس آکر خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ہی فارغ التحصیل طلبہ کا ایک نیٹ ورک بھی تشکیل دیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا بھی اپنی جامعات میں زیرِ تعلیم غیر ملکی شہریوں کے لیے وظائف مختص کرتا ہے اور انہیں ترغیب دیتا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسی ملک میں قیام کریں اور ملازمت اختیار کریں۔

۴۔ سب کے لیے ایک جیسا حل موجود نہیں

قطر کی درخواست پر تیار کی گئی رینڈ (RAND) انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ اگرچہ مختلف ممالک کے یہ بین الاقوامی تجربات قابلِ استفادہ اور ترغیب دینے والے ہیں، لیکن تمام حالات کے لیے ایک جیسا حل موجود نہیں۔ جو پالیسیاں کسی ایک ملک میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں، ممکن ہے کہ کسی دوسرے ملک میں ناکام ہو جائیں۔

مثال کے طور پر قطر ایک کم آبادی اور زیادہ آمدنی رکھنے والا ملک ہے، جسے ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں اس کی افرادی قوت کا ۹۴ فیصد غیر ملکی شہریوں پر مشتمل ہونا اور اپنے شہریوں کی نجی شعبے میں ملازمت اختیار کرنے کی کم رغبت شامل ہے۔ اس کی وجوہات میں نسبتاً کم تنخواہ یا سماجی مرتبے کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دوحہ نے حال ہی میں 2020ء میں کفالت کے نظام کو ختم کرکے اور آزاد ویزا (پانچ سالہ، جس کی تجدید کفیل کی ضرورت کے بغیر ممکن ہے) متعارف کروا کر بین الاقوامی ماہرین کے لیے کام کے حالات بہتر بنانے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس عالمی جنگ میں کامیابی صرف ایک جامع اور ہمہ جہت حکمتِ عملی کے ذریعے ممکن ہے۔ اس حکمتِ عملی میں تعلیمی نظام کی اصلاح، مضبوط تحقیقی بنیادی ڈھانچے کی تشکیل، ممتاز اور باصلاحیت افراد کی نقل مکانی کو آسان بنانا اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہے، تاکہ نہ صرف ان صلاحیتوں کو اپنی طرف راغب کیا جا سکے بلکہ انہیں ملک کے علمی اور اقتصادی ماحول میں جڑ پکڑنے کے مواقع بھی فراہم کیے جا سکیں۔

 ۵۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے پالیسی سازوں کے لیے سفارشات؛ ممتاز انسانی سرمائے کو برقرار رکھنے، وطن واپس لانے اور راغب کرنے کے نظام کی ازسرنو تشکیل

لکسمبرگ سے جنوبی کوریا تک مختلف ممالک کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ صلاحیتوں کے حصول کی جنگ محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو علمی اور اقتصادی پالیسی سازی کی سمت متعین کر رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران بھی ایک ایسے ملک کے طور پر، جس کے پاس نوجوان اور تعلیم یافتہ انسانی سرمایہ موجود ہے، لیکن اسے برین ڈرین کے سنگین مسئلے اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے، ایک حقیقت پسندانہ اور کئی سطحوں پر مشتمل حکمتِ عملی اختیار کرکے ان تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے۔

۱۔ بیرونِ ملک مقیم علمی برادری سے روابط اور وطن واپسی کی ترغیبات کی ازسرنو تشکیل

پہلا قدم یہ ہے کہ ممتاز اور باصلاحیت افراد کی صرف جسمانی طور پر وطن واپسی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے بیرونِ ملک مقیم افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی طرف پیش رفت کی جائے۔

اس سلسلے میں چین کا نمونہ ظاہر کرتا ہے کہ مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی تشکیل، مختصر دورانیے کے تربیتی کورسز کے انعقاد اور مجازی روابط کو آسان بنا کر بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے علم و تجربے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ چین نے بھی اسی طریقے سے اپنے بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیے جزوقتی کام اور ملکی منصوبوں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

اس حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ مستقل طور پر وطن واپسی کی ترغیب دینے کے لیے مختلف مراعات پر مشتمل جامع پیکیجز بھی تیار کیے جانے چاہییں۔

اس سلسلے میں اٹلی کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف تشہیر کافی نہیں، بلکہ کئی سالوں کے لیے ٹیکس سے چھوٹ، تدریسی عملے کے رکن یا سینئر محقق کی حیثیت سے ملازمت کی ضمانت اور تحقیقی گرانٹس تک آسان رسائی جیسی سہولتیں ’’برین ڈرین کو الٹنے‘‘ کے پروگراموں کے تحت فراہم کی جانی چاہییں۔

اسی طرح بیرونِ ملک تعلیم کے لیے بھیجے جانے والے طلبہ کو وظائف دیتے وقت قزاقستان کے ’’بولاشاک اسکالرشپ‘‘ پروگرام سے نمونہ لیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وظائف اس شرط پر دیے جائیں کہ طلبہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک کے اندر ترجیحی منصوبوں میں کئی سال تک خدمات انجام دینے کے پابند ہوں گے۔

*ڈائسپورا یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی کسی قوم یا برادری کے اپنے وطن سے باہر منتشر ہونے کے ہیں۔

۲۔ غیر ملکی ممتاز افراد کو راغب کرنے میں آسانی اور اقامتی قوانین میں اصلاحات

وطن واپسی کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ماہرین کو راغب کرنے کے لیے بھی ضوابط کو شفاف اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔

موجودہ پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران، آسٹریا کے نمونے سے استفادہ کرکے پڑوسی ممالک، عالمِ اسلام اور دنیا کے مختلف ممالک سے ماہرین کو راغب کرنے کے لیے امتیازی نمبروں پر مبنی نظام وضع کر سکتا ہے، تاکہ مہارت، تعلیمی قابلیت، تجربے اور زبان پر عبور کی بنیاد پر ہنرمند افرادی قوت کو ملک میں لانے کا عمل تیز اور شفاف بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ جرمنی اور برطانیہ کے تجربات کی طرح معتبر بین الاقوامی جامعات کی تعلیمی اسناد کو تسلیم کرنا اور انتظامی بیوروکریسی میں کمی لانا بھی ضروری ہے۔

اسی سلسلے میں برطانیہ یا سنگاپور کی طرز پر کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے ’’ممتاز صلاحیتوں کے حامل افراد کا ویزا‘‘ متعارف کرانا، نئے کاروباری اداروں (اسٹارٹ اپس) اور علم پر مبنی معیشت کی ترقی میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

۳۔ سہ فریقی ماڈل کے تحت جامعات اور صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا

جامعات، صنعت اور حکومت کے درمیان روابط اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب عملی تحقیق اور جامعات میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔

اسپین کے ’’رامون ای کاخال‘‘ جیسے پروگراموں کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی تحقیق و ترقی کے مراکز میں کام کرنے کے لیے محققین کو گرانٹس فراہم کرنے سے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ علم کی منتقلی کا عمل بھی آسان ہوتا ہے۔

اس بنیاد پر ایران کو اپنے تحقیقی بجٹ کو صنعت کے حقیقی مسائل، مثلاً توانائی، پانی، صحت اور جدید ٹیکنالوجیز کے حل کی جانب موڑنا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ اختراعی کاروباری افراد کی تربیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا تجربہ، جس میں نصابِ تعلیم میں کاروباری سرگرمیوں سے متعلق تربیت کو شامل کیا گیا ہے، اور ڈنمارک کی ٹیکنیکل یونیورسٹی جیسی جامعات میں کاروباری ترقی کے مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، ظاہر کرتا ہے کہ تحقیقی مقالوں کو علم پر مبنی کمپنیوں میں تبدیل کرنے کے رجحان کو مضبوط بنانا چاہیے، تاکہ جامعات کی پیداوار صرف اسناد تک محدود نہ رہے بلکہ نئے کاروبار بھی وجود میں آئیں۔

۴۔ STEM کے شعبوں میں افرادی قوت کی تربیت پر توجہ مرکوز کرنا

آخر میں، علم پر مبنی معیشت کی ترقی میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں کی بنیادی اہمیت کے پیشِ نظر ان شعبوں کے طلبہ کے لیے ہدفی وظائف متعارف کرانے اور ان شعبوں میں جامعات کی داخلہ گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اور روس کے تجربات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سوئٹزرلینڈ کے ’’ینگ پروفیسرز پروگرام‘‘ کی طرز پر ممتاز اساتذہ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محققین کی اگلی نسل کی تربیت بھی ماہر افرادی قوت کی تیاری کے سلسلے کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

محسن محمدی، محققِ شعبۂ حکمرانی

News ID 1942558

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha