4 نومبر، 2026، 9:25 AM

ایران کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا اسرائیلی بیانیہ؛ جنگ میں پھنسانے کی کوشش پر واشنگٹن میں اختلافات

ایران کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا اسرائیلی بیانیہ؛ جنگ میں پھنسانے کی کوشش پر واشنگٹن میں اختلافات

صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے خطرے کو بنیاد بنا کر امریکہ کو نئی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش نے امریکی حکام کے درمیان گہری خلیج پیدا کردی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صیہونی حکومت نے امریکہ کے ساتھ ایسی مبینہ انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں جن میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران اپنے دشمنوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم امریکی اور علاقائی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کے بعض حکام نے اس دعوے پر تشویش جبکہ دیگر نے شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صیہونی حکومت کے انٹیلی جنس اداروں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو دعوی کیا ہے کہ ایران تیزی سے میزائلوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے لیس کرنے یا حملوں میں استعمال کے لیے ایسے ہتھیار اسمگل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

صیہونی حکام نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی انٹیلی جنس اداروں اور حکام کے ساتھ مشاورت میں ایران کے مبینہ کیمیائی خطرے کو اس کی جوہری صلاحیتوں سے بھی زیادہ سنگین بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، تل ابیب نے خلیجی ممالک کو بھی اسی نوعیت کی معلومات فراہم کی ہیں، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا۔ علاقائی ممالک نے ان الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور انہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تنازع کے زیادہ شدید مرحلے میں دھکیلنے کی اسرائیلی کوشش قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس معاملے نے امریکہ میں ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے بعض حکام میں تشویش پیدا کردی ہے، جبکہ دوسرے حکام ان دعوؤں کی صداقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی دباؤ مہم کا حصہ ہے۔

انٹیلی جنس ذرائع کے درمیان ایران کی مبینہ کیمیائی صلاحیتوں کی تیاری کی رفتار اور ان کی افادیت کے حوالے سے بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حکام کا خیال ہے کہ بیلسٹک میزائلوں پر کیمیائی وار ہیڈ نصب کرنا کوئی پیچیدہ کام نہیں، تاہم کیمیائی مواد کو مؤثر انداز میں پھیلانے اور کیمیائی بموں کی اسمگلنگ کے عمل میں بڑے لاجسٹک مسائل درپیش ہوسکتے ہیں۔

امریکی حکام نے اس معاملے پر پیدا ہونے والے حالیہ تنازع کو 2002 میں عراق کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق پیش کی گئی جھوٹی اور گمراہ کن انٹیلی جنس معلومات کی یاد دہانی قرار دیا ہے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں ٹرمپ کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صیہونی حکومت کی مسلسل کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ اس سے قبل بھی ایسی انٹیلی جنس کہانیوں اور منظرناموں کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں جن کا مقصد واشنگٹن کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنا تھا۔

حال ہی میں صیہونی ذرائع ابلاغ نے نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ایک سخت اور دوٹوک ٹیلی فونک گفتگو کی خبر بھی دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو نے جنگ فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ٹرمپ نے مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

News ID 1942594

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha