4 نومبر، 2026، 3:36 PM

ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی خاموشی

ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی خاموشی

آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کیے غیر ایک بار پھر سیاسی حل کی تلاش پر زور دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے اپنے تازہ بیان میں دعوی کیا ہے کہ وہ ہمیشہ ایران کے جوہری معاملے کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی راستے تلاش کرتے رہے ہیں، جبکہ انہوں نے اب تک ایران کی حفاظتی نگرانی کے تحت آنے والی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے فوجی حملوں کی ایجنسی کی بنیادی ذمہ داریوں کے دائرے میں مذمت نہیں کی۔

گروسی نے کولمبیا کے ریڈیو کاراکول کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے فوجی حملوں کے نتائج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عدم پھیلاؤ کے شعبے میں سرگرم ایک بین الاقوامی ادارے کے سربراہ اور سفارت کار کی حیثیت سے وہ ہمیشہ سیاسی اور سفارتی حل کے خواہاں رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ طاقت کے استعمال کے مفید یا غیر مفید ہونے کے بارے میں کوئی رائے دینا پسند نہیں کریں گے اور اس طرح کے اقدامات کی افادیت کا فیصلہ انہی لوگوں پر چھوڑتے ہیں جنہوں نے یہ کارروائیاں کی ہیں۔

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے انٹرویو کے ایک اور حصے میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آیا ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیا ہے، اعتراف کیا کہ سامعین کو الجھن میں نہیں ڈالنا چاہیے، حقیقت یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔

News ID 1942598

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha