4 نومبر، 2026، 9:03 AM

ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے درپے نہیں رہا، ایرانی نائب وزیر خارجہ

ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے درپے نہیں رہا، ایرانی نائب وزیر خارجہ

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کا فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایران کی اپنی اصولی اور اسٹرٹیجک پالیسی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایران کی پالیسی کو دوبارہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں منعقدہ چوتھی بین الاقوامی کانفرنس برائے یوریشیائی سلامتی سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے درپے نہیں رہا، نہ ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرے گا۔

یہ بین الاقوامی کانفرنس بیلاروس کے صدر کے خطاب سے شروع ہوئی، جس میں روس کے وزیر خارجہ سمیت تقریباً 50 ممالک کے 600 حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔

خطیب زادہ نے کہا کہ کسی بھی طاقت نے ایران سے یہ مؤقف بطور رعایت حاصل نہیں کیا، بلکہ یہ ایک اصولی اور تزویراتی فیصلہ ہے جس تک ایران خود پہنچا ہے۔ گزشتہ سال کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کی درستگی ثابت کردی ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے گذشتہ سال امریکہ اور صیہونی حکومت کی مشترکہ جارحیتوں کو ان کی بالادستی قائم کرنے اور تسلط پسندی کی خواہشات کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کے خلاف ان جارحانہ اقدامات کے خطے اور پوری دنیا پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے صرف ایک ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی قوانین کو نشانہ بنایا اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ ان اقدامات نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تحفظ کے لیے حاصل کی گئی اجتماعی کامیابیوں کو چیلنج کیا۔ اس کے علاوہ، مذاکرات کے دوران حملے کرکے سفارت کاری کی بنیادوں کو بھی تباہ کردیا، یا کم از کم اس کی جو باقیات موجود تھیں انہیں ختم کردیا۔

خطیب زادہ نے جارح قوتوں کی جانب سے شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای، میناب اور لامرد کے بے گناہ طلبہ اور بچوں کو شہید کرنے، میدان جنگ سے دو ہزار کلومیٹر دور بحری جہاز دنا پر حملے، شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے ایک رکن ملک کی حفاظتی نگرانی میں موجود تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بم ایران پر گرے، لیکن ان حملوں سے پیدا ہونے والی خطرناک مثال کے اثرات پوری عالمی برادری کو بھگتنا پڑے۔ ان واقعات نے خطے اور اس سے باہر بھی گہرے زخم چھوڑے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ادارۂ مطالعاتِ سیاسی و بین الاقوامی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران نے دو ایسی طاقتوں کی بے لگام جارحیت کا مقابلہ کیا ہے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ان طاقتوں کے جوہری اسلحہ خانوں نے نہ تو ان کے لیے جنگ مختصر کی اور نہ ہی انہیں سکون اور امن فراہم کیا۔ اس کے برعکس، ان ہتھیاروں نے ان کے لیے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کردیا اور انہیں ایک ایسا سبق سکھایا جسے سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت وہ ابھی تک پیدا نہیں کرسکی ہیں۔

News ID 1942592

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha