مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، ایران کے ساتھ حالیہ فوجی محاذ آرائی کے تجربے نے ظاہر کیا ہے کہ تہران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال سیاسی اور سلامتی کے مقاصد کے حصول کی ضمانت نہیں دے سکتا، بلکہ اس کے آغاز کرنے والوں کو بھاری قیمت اور غیر متوقع نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں جب اسرائیلی سیاسی اور فوجی حلقوں میں ایران کے ساتھ ایک نئی محاذ آرائی کے امکانات پر بات ہو رہی ہے، خود اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور سابق فوجی عہدیدار اس کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر رہے ہیں۔
عبرانی اخبار ہارٹز نے اپنی ایک رپورٹ میں زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنا ایک سنگین تزویراتی غلطی ثابت ہوسکتی ہے، جس کے اثرات ایران اور مقبوضہ فلسطین کے علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی ممالک بھی ایک وسیع بحران کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کے پھیلاؤ کا خدشہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں ایک سنجیدہ موضوع بن چکا ہے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اسحاق بریک نے اخبار معاریو میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان پر خبردار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکی اور اسرائیلی فیصلہ ساز سیاسی مفادات اور داخلی حالات سے متاثر ہو کر ایسے اقدام کی طرف بڑھے تو اس کے نتائج محض دو طرفہ محاذ آرائی تک محدود نہیں رہیں گے۔
غلط تزویراتی اندازے کی بھاری قیمت
اسحاق بریک کے مطابق ایران کے ساتھ دوبارہ محاذ آرائی پورے خطے میں بحران کی آگ پھیلا سکتی ہے، اسرائیل کے داخلی مسائل کو مزید سنگین بناسکتی ہے اور اسے ایسی صورت حال سے دوچار کر سکتی ہے جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگا۔ ان کے انتباہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی نظام کا حصہ رہ چکے ہیں اور ان کا تجزیہ اسرائیل کی فوجی صلاحیتوں، عملیاتی حدود اور کمزوریوں کے بارے میں تجربے پر مبنی ہے۔
ایران کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے سلامتی سے متعلق اندازوں میں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی قیمت کے حوالے سے تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں تل ابیب کے بعض فیصلہ ساز حلقوں کا خیال تھا کہ ہتھیاروں میں برتری اور امریکی فوجی حمایت کی بدولت ایران پر اپنی مرضی مسلط کی جا سکتی ہے، لیکن عملی تجربے نے ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں داخل ہونے کا مطلب ایسے راستے پر چل پڑنا ہے جس کا اختتام آسانی سے طے نہیں کیا جا سکتا۔
ایران اپنی متنوع فوجی صلاحیتوں، وسیع تزویراتی جغرافیے اور طاقت کے مختلف ذرائع استعمال کرنے کی استعداد کے باعث اپنے خلاف کسی بھی کارروائی کی قیمت ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے ایران کے خلاف نئی محاذ آرائی کا فیصلہ کرتے وقت فوجی، سلامتی اور اقتصادی نتائج کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ بحران کے آغاز کرنے والے فریق ممکن ہے بعد میں اس کے تمام اثرات پر قابو نہ رکھ سکیں۔
ممکنہ جنگ کے اثرات صرف اسرائیلی فوجی اہداف کو پہنچنے والے نقصان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اہم بنیادی ڈھانچے، اقتصادی مراکز، توانائی کی تنصیبات اور خطے کی اہم تجارتی گزرگاہیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ خلیجی ممالک اپنے جغرافیائی محل وقوع اور عالمی توانائی کی منڈی میں اہم کردار کے باعث کسی وسیع بحران کے اثرات سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس خطے کے امن و سلامتی میں خلل عالمی منڈیوں، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
اس تناظر میں ہارٹز کی جانب سے خلیجی ممالک تک بحران پھیلنے کے خدشے کا اظہار محض ایک محدود سلامتی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی اثرات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
اسرائیل کا داخلی بحران اور امریکی مشکلات
اسحاق بریک کے انتباہ کا ایک اہم پہلو ایران کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کے اسرائیل کی داخلی صورت حال پر اثرات ہیں۔ اسرائیل کو پہلے ہی سیاسی، سماجی اور سلامتی کے متعدد مسائل کا سامنا ہے اور وسیع فوجی بحران اس کے سیاسی اور اقتصادی نظام پر دباؤ مزید بڑھا سکتا ہے۔
ایسے حالات میں نئی جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ ممکن ہے کہ سلامتی کے مفادات اور اخراجات کے حقیقت پسندانہ جائزے کے بجائے اسرائیلی رہنماؤں کے سیاسی مفادات سے متاثر ہو۔ نیتن یاہو کو بھی داخلی سیاسی محاذ پر مختلف دباؤ اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال اسرائیل کے طویل مدتی تزویراتی مفادات اور حکومت کے قلیل مدتی سیاسی مقاصد کے درمیان فرق کو نمایاں کرتی ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی شمولیت بھی بے لاگ نہیں ہوگی۔ واشنگٹن کو اسرائیل کی حمایت، خطے میں اپنے فوجیوں اور تنصیبات کی سلامتی اور خلیجی خطے میں بحران کے پھیلاؤ کو روکنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ محاذ آرائی کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، امریکہ کے سیاسی اور فوجی اخراجات بھی اتنے ہی بڑھیں گے۔ چنانچہ کسی نئی فوجی کارروائی کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن اس کے تمام نتائج کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوگا۔
نئی محاذ آرائی کیوں خطرناک ہے؟
مجموعی صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب اور واشنگٹن کے لیے اصل سوال صرف نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا اس کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں گے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو قابو میں رکھا جاسکے گا؟ کسی فوجی آپریشن کا تکنیکی طور پر ممکن ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کے سیاسی اور سلامتی سے متعلق مقاصد بھی حاصل ہو جائیں گے۔
گزشتہ آٹھ ماہ کے تجربے نے بھی ظاہر کیا ہے کہ ایران میں جوابی کارروائی کرنے اور مخالف فریق پر بھاری قیمت عائد کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس تجربے نے تہران کے ساتھ محاذ آرائی سے متعلق حساب کتاب کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ایران فوجی دباؤ کے جواب میں صرف محدود اور قابلِ پیش گوئی ردعمل تک خود کو محدود رکھنے والا فریق نہیں ہے۔
درحقیقت ایران کی دفاعی صلاحیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کو جغرافیائی و تزویراتی حیثیت اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے ساتھ مربوط کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایسے سلسلہ وار اثرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے جن پر قابو پانا امریکہ اور اسرائیل کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
مضمون کے مطابق ہارٹز اور معاریو میں شائع ہونے والے انتباہات اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور فوجی حلقوں کے ایک حصے میں ایران کے ساتھ دوبارہ محاذ آرائی کی قیمت کے حوالے سے پائی جانے والی سنجیدہ تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ محض فوجی برتری سیاسی اور تزویراتی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
تل ابیب اور واشنگٹن کے سامنے اب معاملہ صرف فوجی کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے انتخاب کا نہیں، بلکہ خطے کی نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنے اور ایسے بحران میں داخل ہونے کے درمیان انتخاب کا ہے جس کے اثرات اور اخراجات ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے ایران کے خلاف نئی جنگ طاقت کے مظاہرے کے بجائے ایک ایسی تزویراتی غلطی کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے جس کے نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑیں گے۔
آپ کا تبصرہ