مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی بحریہ کے سابق کمانڈر اور بیگن۔سادات مرکز برائے تزویراتی مطالعات کے محقق الیعزر ماروم نے کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی قابل ذکر نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ جب تک ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی طرف فوری پیش قدمی کے بارے میں ٹھوس اور درست معلومات موجود نہ ہوں، موجودہ حالات میں ایران پر ایک اور حملہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
ماروم نے کہا کہ ان کے خیال میں ایسے حملے کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوں گے، اس لیے وہ فی الحال ایران پر حملے کی سفارش نہیں کرتے۔
انہوں نے ایران کے لیے جوہری معاملے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران اسے اپنے اہم ترین سودے بازی کے کارڈ کے طور پر دیکھتا ہے اور اس سے دستبردار نہیں ہوگا۔
اسرائیلی بحریہ کے سابق سربراہ نے مزید خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے محدود پیمانے پر کیا جانے والا حملہ بھی ایران کی طرف سے ایندھن اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایسی کارروائی سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور فوجی تصادم کا خاتمہ مزید مشکل ہوجائے گا۔
آپ کا تبصرہ