30 جون، 2026، 11:50 PM

ڈینا ڈسٹرائر پر امریکی حملہ جنگی جرم ہے، قانونی انکوائری کریں گے، عباس عراقچی

ڈینا ڈسٹرائر پر امریکی حملہ جنگی جرم ہے، قانونی انکوائری کریں گے، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تربیتی اور سفارتی مشن پر موجود غیر مسلح بحری جہاز کو پیشگی اطلاع کے بغیر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ایران اس معاملے کو قانونی طور پر آگے بڑھائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 40 روزہ جنگ کے دوران ایرانی بحریہ کے ڈسٹرائر ڈینا پر امریکی بحریہ کے حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر درج ہوگا۔

عباس عراقچی نے یہ بات ڈینا ڈسٹرائر کے حملے میں شہید ہونے والے عملے کے ذاتی سامان اور یادگار اشیا کی نمائش کے دورے کے بعد کہی۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ اور اس کے کمانڈر شہرام ایرانی کا نمائش کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور شہید ہونے والے بحری اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈینا ڈسٹرائر جنگی محاذ سے سیکڑوں کلومیٹر دور ایک تربیتی اور سفارتی مشن پر تھا اور ایک دوسرے ملک میں بحری تقریب میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز کسی فوجی کارروائی میں شریک نہیں تھا، اس پر کوئی ہتھیار نصب نہیں تھے اور اسے پیشگی انتباہ کے بغیر نشانہ بنایا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس حملے کو کسی بحری کامیابی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ صرف حملہ آور کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ جنگی علاقے سے دور معمول کے مشن پر مامور، غیر مسلح اور کسی فوری خطرے سے بے خبر اہلکاروں کو نشانہ بنانا واضح طور پر جنگی جرم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ کا قانونی شعبہ ایرانی بحریہ کے تعاون سے حملے سے متعلق تمام شواہد جمع کرے گا اور اس معاملے میں دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کرے گا۔

News ID 1940076

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha