مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم دو دہائیوں سے زائد عرصے تک امریکی سینیٹ میں موجود رہے اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی مداخلت، ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں اضافے اور اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے سرگرم حامی سمجھے جاتے تھے۔ ان کا نام اکثر واشنگٹن کی ان پالیسیوں کے ساتھ جوڑا جاتا تھا جو خطے میں مزاحمتی قوتوں کے خلاف اختیار کی گئیں۔
اگرچہ امریکی ذرائع ابلاغ انہیں ریپبلکن پارٹی کے بااثر رہنماؤں میں شمار کرتے تھے، لیکن مغربی ایشیا میں وہ زیادہ تر جنگی مؤقف، قبضے کی حمایت اور خطے کے ممالک پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے باعث پہچانے جاتے تھے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں سے لے کر غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں تک، وہ مسلسل امریکی عسکری طاقت کے استعمال کی حمایت کرتے رہے۔
ان کے انتقال سے قبل سامنے آنے والا آخری بیان بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق جب طبیعت بگڑنے پر ان کے قریبی افراد نے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا، "میں ابھی نہیں مر سکتا، مجھے ابھی روس پر پابندیوں کو آگے بڑھانا ہے، ایران کا معاملہ نمٹانا ہے اور اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔"
اس جملے نے ان کی سیاسی ترجیحات کی عکاسی کی، کیونکہ یہی وہ تین بڑے اہداف تھے جن پر وہ برسوں سے کام کر رہے تھے، تاہم ان میں سے کوئی بھی اپنی زندگی میں مکمل نہ کر سکے۔ چند گھنٹوں بعد ان کے انتقال کی خبر سامنے آگئی اور یہ تمام منصوبے ادھورے رہ گئے۔
گراہم جس "ایران کے مسئلے کے حل" کی بات کرتے تھے، اس سے مراد ایران پر دباؤ، پابندیوں، دھمکیوں اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کی پالیسی یا سیاسی نظام میں تبدیلی لانے کی حکمت عملی تھی۔ یہ وہ پالیسی تھی جس پر گزشتہ برسوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھاری وسائل صرف کیے، لیکن اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہ کر سکے۔
زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا معمار
لنڈسے گراہم ان ابتدائی سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کی حمایت کی۔ وہ نہ صرف امریکہ کی جوہری معاہدے میں واپسی کے مخالف تھے بلکہ بارہا ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافے، اقتصادی دباؤ کو بڑھانے اور یہاں تک کہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔
انہوں نے متعدد انٹرویوز اور تقاریر میں زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سے نمٹنے کا واحد راستہ تباہ کن پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کا بیک وقت استعمال ہے۔ حالیہ برسوں میں بھی انہوں نے علاقائی حالات کے تناظر میں کئی مرتبہ امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایران کی تیل تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں فوجی دباؤ تہران کو پسپائی پر مجبور کر سکتا ہے۔
گراہم زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے بڑے حامیوں میں شامل تھے۔ یہ وہ پالیسی تھی جسے ٹرمپ حکومت نے 2018 میں جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد اختیار کیا۔ اس کا مقصد ایران کی تیل برآمدات کو صفر تک لانا، اس کی معیشت کو مکمل طور پر تنہا کرنا اور ملک کے اندر بے چینی پیدا کرنا قرار دیا گیا تھا۔ تاہم یہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے۔ بلکہ بعد میں متعدد امریکی تجزیہ کاروں نے بھی اعتراف کیا کہ یہ حکمت عملی اسلامی جمہوریہ ایران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکی۔
اسرائیلی حکومت کے غیر مشروط حامی
لنڈسے گراہم کے سیاسی کردار کی ایک نمایاں خصوصیت اسرائیلی حکومت کی بھرپور حمایت بھی تھی۔ خطے کے تمام بڑے بحرانوں، جن میں غزہ کی جنگیں، لبنان پر بار بار حملے اور شام میں کارروائیاں شامل ہیں، وہ تل ابیب کے ساتھ کھڑے رہے اور ہمیشہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے لیے مالی اور فوجی حمایت میں اضافے کا مطالبہ کرتے رہے۔ وہ نہ صرف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے تھے بلکہ کئی مواقع پر امریکی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے رہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ براہ راست اسرائیلی فوج کے ساتھ جنگ میں شامل ہو جائے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی حکام بھی گراہم کو امریکی سیاسی نظام میں اپنے قریبی ترین اتحادیوں میں شمار کرتے تھے۔
یہی پس منظر تھا کہ ان کے انتقال کی خبر کے بعد اسرائیلی حکام نے غیر معمولی ردعمل ظاہر کیا۔ بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے سب سے بڑے دوستوں میں سے ایک کو کھو دیا ہے۔ اسحاق ہرزوگ، ایتامار بن گویر اور یائر لاپید نے بھی الگ الگ پیغامات میں انہیں ایسے سیاست دان کے طور پر یاد کیا جو ہمیشہ اسرائیل کی سلامتی کو ترجیح دیتے تھے۔
واشنگٹن کا ردعمل
امریکی حکام کے ردعمل سے بھی ظاہر ہوا کہ گراہم اس ملک کے سیاسی ڈھانچے میں کس حد تک بااثر تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے انہیں ایک حقیقی محب وطن قرار دیا اور امریکہ کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ اسی طرح ان کے احترام میں وائٹ ہاؤس پر امریکی پرچم کو سرنگوں رکھنے کا حکم بھی دیا گیا۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ گراہم محض ایک عام سینیٹر نہیں تھے بلکہ وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی، خصوصاً ایران، روس اور مغربی ایشیا سے متعلق پالیسی سازی میں ایک اہم اور بااثر شخصیت سمجھے جاتے تھے۔
گراہم کی تمام کوششوں کے باوجود، بہت سے وہ اہداف جن کے حصول کے لیے انہوں نے برسوں کام کیا، پورے نہ ہو سکے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف قائم رہا بلکہ اس نے اپنی دفاعی، میزائل اور علاقائی صلاحیتوں کو مزید ترقی دی اور مغربی ایشیا کے متعدد معاملات میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا فریق بن گیا۔ ایران کو تنہا کرنے کا منصوبہ بھی شدید چیلنجز سے دوچار ہوا۔ ایشیائی طاقتوں کے ساتھ تہران کے بڑھتے ہوئے تعاون، علاقائی تنظیموں میں شمولیت اور مختلف ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط میں اضافے نے ظاہر کیا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی ایران کو علاقائی اور عالمی معاملات سے خارج نہیں کر سکی۔
دوسری جانب حالیہ برسوں کے واقعات نے یہ بھی ثابت کیا کہ ایران کے مستقبل سے متعلق گراہم کے کئی اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔ وہ بارہا ایران کے سیاسی نظام کے قریب آنے والے خاتمے کی بات کرتے رہے، لیکن خطے کی صورتحال اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مسلسل کردار نے ان پیش گوئیوں کے برعکس منظر پیش کیا۔
ایک سیاست دان کا نہیں بلکہ ایک سوچ کا اختتام
لنڈسے گراہم کی موت کو صرف ایک امریکی سینیٹر کی زندگی کے اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ واشنگٹن کے اس سیاسی طبقے کی علامت تھے جو یہ سمجھتا تھا کہ پابندیوں، دھمکیوں اور جنگ کے ذریعے اقوام کی خواہشات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور امریکہ کے مطلوبہ نظام کو خطے پر مسلط کیا جا سکتا ہے۔
ان کا سیاسی ریکارڈ جنگوں کی حمایت، سیاسی نظاموں کی تبدیلی کی کوششوں، اقتصادی دباؤ اور اسرائیلی حکومت کی غیر مشروط حمایت سے بھرا ہوا تھا۔ یہ وہ طرز عمل تھا جس نے بہت سے مواقع پر نہ صرف اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں کیے بلکہ خطے میں عدم استحکام اور بحران میں بھی اضافہ کیا۔
گراہم کا آخری جملہ، جس میں وہ ایران کا مسئلہ حل کرنے کی بات کر رہے تھے، آج اس فاصلے کی یاد دہانی ہے جو جنگ پسند سیاست دانوں کی خواہشات اور زمینی حقائق کے درمیان موجود ہوتا ہے۔
وہ اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب نہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کامیاب ہوئی، نہ ایران کو علاقائی معاملات سے باہر کیا جا سکا، نہ مغربی ایشیا میں امریکہ کا مطلوبہ نظام قائم ہو سکا اور نہ ہی وہ بہت سے اہداف حاصل ہوئے جن کے لیے انہوں نے برسوں کوشش کی۔ اس تناظر میں گراہم کا انتقال صرف ایک سینیٹر کی سیاسی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اس سوچ کے انجام کی علامت بھی ہے جو یہ سمجھتی تھی کہ فوجی طاقت، پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے قوموں کا مستقبل طے کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے سے پہلے آنے والے کئی جنگ پسند سیاست دانوں کی طرح ادھورے منصوبوں اور نامکمل خواہشات کے ساتھ سیاسی منظرنامے سے رخصت ہوئے، جبکہ تاریخ ان پالیسیوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ان کے عملی نتائج اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کرے گی۔
آپ کا تبصرہ