مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتہ کے روز پیغمبرِ اکرم کی ولادتِ باسعادت کی پندرہ سوویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ’’روایتِ رحمت‘‘ نامی فنّی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے حالیہ جنگوں، بالخصوص 40 روزہ جنگ میں عالمِ اسلام کو یہ عظیم درس دیا کہ اگر ہم متحد رہیں تو ہر ظلم کے مقابلے میں مزاحمت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے دنیا کی بظاہر سب سے بڑی فوج کے سامنے 40 دن تک ڈٹ کر مقابلہ کیا، جبکہ اس فوج کو دیگر ممالک اور کئی دوسری افواج کی مدد اور حمایت بھی حاصل تھی۔
عراقچی نے مزید کہا کہ 49 دن تک ثابت قدم رہنا ایک غیر معمولی کارنامہ اور اپنی نوعیت کا ایک بڑا سبق تھا۔ ایرانی عوام نے اپنی طاقت اور استقامت ثابت کرتے ہوئے دکھا دیا کہ اگر ہم سب متحد ہوں تو فتح ہماری ہوگی۔ 40 روزہ جنگ داخلی اتحاد اور یکجہتی کے ایک شاندار دور کی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس داخلی اتحاد و یکجہتی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ عوام، مسلح افواج، حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان جو اتحاد اور یکجہتی پیدا ہوئی، اسی نے ایسی مزاحمت کو جنم دیا جس کی پوری دنیا کو توقع نہیں تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں خود گواہی دیتا ہوں کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام ایرانی عوام کی استقامت اور ان کے حیرت انگیز کارنامے کو سراہتے تھے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایران کے تمام شہداء، بالخصوص حالیہ جنگ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہبرِ انقلاب 70 سال تک راہِ خدا میں مسلسل جدوجہد کے بعد مقامِ شہادت کے مستحق تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اس عظیم جرم کو بھول جائیں گے یا اسے معاف کر دیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ عالمِ اسلام کا اتحاد اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر حالت اور ہر طرح کے حالات کے باوجود اس اتحاد کے حصول کی کوشش جاری رکھیں گے۔
ڈاکٹر عراقچی نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور مصر عالمِ اسلام کے بڑے ممالک ہیں، اسی طرح ترکی، پاکستان اور دیگر ممالک بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ عالمِ اسلام کے ہر اسلامی ملک کو ملا کر عالمِ اسلام کا ایک بڑا خاندان تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب ایک ہی شکل، ایک ہی رنگ اور ایک ہی راستے پر چلیں۔ اختلافات کا ہونا فطری ہے اور یقیناً ہمارے درمیان اختلافات موجود ہیں۔
ڈاکٹر عراقچی نے مزید کہا کہ اگرچہ ہمارے بہت سے اسلامی ممالک کے ساتھ سنجیدہ اختلافات ہیں، لیکن ان تمام اختلافات کو ایک بڑے مقصد کے لیے قربان کرنا چاہیے، تاکہ عالمِ اسلام اپنی حقیقی قوت و حیثیت کو پہچان سکے اور بڑی طاقتوں کی جانب سے ہونے والی زیادتیوں اور ظلم کے مقابلے میں متحد ہو کر ڈٹ سکے۔
آپ کا تبصرہ