مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کنسٹ میں شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں حریدی یہودیوں کو لازمی فوجی خدمت سے استثنا دینے سے متعلق متنازع بل پر بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔
تفصیلات کے مطابق نیتن یاہو کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید تنقید اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ ارکان نے ان کے خلاف "شرم کرو" اور "چلے جاؤ" جیسے نعرے لگائے، جس کے بعد وہ اجلاس مکمل ہونے سے پہلے ہی پارلیمنٹ کی عمارت سے روانہ ہوگئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی دوران عدالتی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ استنبول کی ایک فوجداری عدالت نے صمود عالمی فلوٹیلا کیس میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا بین الاقوامی حکم جاری کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نتن یاہو پر انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، املاک کی تباہی، تشدد اور آزادی سلب کرنے جیسے الزامات پر مبنی فرد جرم عائد کی گئی ہے اور سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2025 میں غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے صمود فلوٹیلا کے غیر فوجی جہازوں پر اسرائیلی بحریہ کی کارروائی سے متعلق ہے، جس میں متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
اس عدالتی کارروائی کو نتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی قانونی پیروی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ