18 جولائی، 2026، 11:40 AM

"جنگ بھی، مذاکرات بھی" کی پالیسی ختم ہوچکی ہے، محسن رضائی

"جنگ بھی، مذاکرات بھی" کی پالیسی ختم ہوچکی ہے، محسن رضائی

رہبر معظم کے مشیر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی معاہدے کی بنیادی شقوں کی خلاف ورزی کی، اس لیے اب "جنگ بھی، مذاکرات بھی" کی پالیسی کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم کے فوجی مشیر اور سپاہ پاسداران کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے کہا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جوہری معاہدے کی طرح ایران کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی معاہدے کو بھی ختم کر دیں گے، کیونکہ اس معاہدے کی بنیادی شقوں پر عملدرآمد باقی نہیں رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ان پانچ بنیادی نکات کی خلاف ورزی کی جو معاہدے کے اگلے مراحل کے لیے لازمی قرار دیے گئے تھے۔ پہلی خلاف ورزی لبنان کے معاملے میں ہوئی، جہاں جنگ بندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی گئی اور اسرائیل نے لبنان سے انخلا بھی نہیں کیا۔

محسن رضائی نے مزید کہا کہ دشمن خوزستان، بوشہر، ہرمزگان اور سیستان و بلوچستان سمیت مختلف ایرانی صوبوں، فوجی اڈوں، اسپتالوں اور اہم مواصلاتی پلوں کو نشانہ بنا کر نئی کارروائیوں کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایرانی مسلح افواج مسلسل اور سخت جوابی حملے کر رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ دشمن چھ سے سات روز کی جنگ کے بعد سمندری محاصرے کے ساتھ نئی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے، جس میں خارک پر حملہ، جوہری تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنانا یا ایران کے کسی حصے پر قبضہ کرکے مذاکرات میں برتری حاصل کرنا شامل ہے، لیکن اب "جنگ بھی، مذاکرات بھی" کی پالیسی ختم ہوچکی ہے۔

News ID 1940352

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha