مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اپنے قریبی دوستوں سے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی کارکردگی کے بارے میں رائے لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ عموماً اہم امریکی عہدے داروں کی تقرری یا برطرفی کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے دوستوں کے ایک حلقے سے مشورہ کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے قریبی حلقے کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ پیٹ ہیگسٹھ نے ایران کے خلاف جنگ کی زمینی صورت حال کے بارے میں صدر کو درست معلومات فراہم نہیں کیں، بلکہ انہیں وہی کچھ بتایا جو وہ سننا چاہتے تھے۔
امریکی حکام نے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ ان کے پیغامات عوام تک درست انداز میں نہیں پہنچ رہے اور مطلوبہ اثر پیدا نہیں کر پا رہے۔ وہ ایران کے خلاف جنگ کو اپنے سیاسی تعطل کی وجوہات میں سے ایک سمجھتے ہیں اور اب کسی کو اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس مقصد کے لیے وہ ان عہدے داروں میں سے کسی کو قربانی کا بکرا بنا سکتے ہیں جنہوں نے جنگ کو تیز رفتار اور مؤثر قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی حلقے کے افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ ایران کے خلاف محض دھمکیوں کے ذریعے تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ