مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرائیلی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہر دنی استرینوویچ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی جنگ کی نوعیت تبدیل کر دے گی اور ایران بھی خلیج فارس کے ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو اسی طرح نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کرے گا اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے رکن جیسن کرو نے بھی اس تصور کو ایک تزویراتی غلطی قرار دیا کہ مزید فوجی حملوں سے موجودہ تنازع کا فیصلہ کن حل نکل آئے گا۔ ان کے مطابق یہ سوچ عراق اور افغانستان میں امریکہ کی طویل جنگوں کے تجربات کی یاد دلاتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہر نیا فوجی حملہ تنازع کو مزید وسیع کر سکتا ہے، جس کے اثرات خلیج فارس کے ممالک، عالمی توانائی منڈیوں اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں تک پھیل سکتے ہیں۔
جیسن کرو نے مزید کہا کہ ان حملوں سے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ملتی کہ ایران میں برسراقتدار نظام ختم ہو جائے گا یا اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کر لے گا۔
آپ کا تبصرہ