مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماحولیاتی امور کے شعبے میں یونیورسٹی کے پروفیسر اور کتاب ’’ایک پائپ لائن کو کیسے دھماکے سے اڑایا جائے‘‘ کے مصنف آندریاس مالم کو برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا۔ وہ ممنوعہ تنظیم ’’فلسطین ایکشن‘‘ کے شریک بانی کے ہمراہ ایک پروگرام میں خطاب کے لیے برطانیہ جانے والے تھے۔
اس فیصلے کے خلاف اب وسیع پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
برطانوی امیگریشن حکام کا مؤقف تھا کہ اس مصنف کی برطانیہ میں موجودگی کو ’’عوامی مفاد کے لیے مفید نہیں سمجھا جا سکتا۔‘‘ مالم نے اس فیصلے کو ’’شرمناک اسکینڈل‘‘ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
مالم، سویڈن کی لوند یونیورسٹی میں انسانی ماحولیات کے شعبے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ انہیں جریدے ’’ٹریبیون‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کرنا تھا، جس کا موضوع ’’واشنگٹن کی عالمی دہشت گردی کی بالادستی اور اس کے فروغ میں برطانیہ کا کردار‘‘ تھا۔
انہیں ’’فلسطین ایکشن‘‘ کی شریک بانی ہدیٰ عموری کے ساتھ خطاب کرنا تھا۔ توقع تھی کہ وہ اپنی گفتگو میں اس پابندی کے اثرات پر بھی روشنی ڈالیں گے، جن میں مصنفہ سیلی رونی پر اس کے اثرات بھی شامل تھے۔ سیلی رونی کو اس تنظیم کی حمایت کرنے کے باعث برطانیہ میں اپنی کتابیں فروخت کرنے سے عملاً روک دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سیلی رونی نے کہا کہ مالم کو ملک میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ ’’ثقافتی خود آزاری کا ایک افسوس ناک اور خوف ناک اقدام‘‘ ہے۔
فلسطین کی حامی اس مصنفہ نے آندریاس مالم کو اس وقت یورپ میں سرگرم ممتاز ترین اور سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے دانشوروں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے انہیں ملک میں داخلے سے روکنا نہ صرف ماحولیاتی امور کے ایک قابلِ احترام ماہر پر ظالمانہ حملہ ہے، بلکہ ثقافتی خود آزاری کا ایک افسوس ناک اور خوف ناک اقدام بھی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں امریکہ کے دو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مبصرین، جنک اویگور اور حسن پیکر کو بھی اسی بنیاد پر برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا تھا کہ ان کی موجودگی ’’عوامی مفاد میں نہیں ہو سکتی۔‘‘
مالم نے کہا کہ برطانیہ کے سفر پر اچانک عائد کی جانے والی اس پابندی سے مجھے گہری مایوسی ہوئی ہے۔ میں کئی دہائیوں سے برطانیہ آتا رہا ہوں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں میں نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے لیے آرکائیوز میں تحقیق کی اور درجنوں جامعات اور متعدد کانفرنسوں میں شرکت کی۔
مالم نے برطانوی حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ توقع تھی کہ برنہم کی حکومت آزادیٔ اظہار اور دیگر جمہوری حقوق کے بنیادی تصورات کا کچھ زیادہ احترام کرے گی۔ میں اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔
جریدے ’’ٹریبیون‘‘ کے مدیر، اولیور ایگلیٹن نے بھی کہا کہ آندریاس کو لندن آنا تھا، تاکہ وہ ہمارے پروگرام میں آزادیٔ اظہار پر ہونے والے غیر معمولی حملوں کے بارے میں گفتگو کریں۔ ان حملوں کا آغاز ’فلسطین ایکشن‘ کو ممنوعہ قرار دینے سے ہوا تھا، جن میں سیلی رونی کی کتابوں پر عملاً پابندی بھی شامل ہے، لیکن اب خود آندریاس کو بھی ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ سنسرشپ کے بارے میں بات کرنے کی وجہ سے، واقعی جارج آرویل کے انداز میں، خود سنسرشپ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ شرم ناک ہے کہ اینڈی برنہم کی حکومت بھی کیئر اسٹارمر کے دور کی طرح پابندیاں عائد کر رہی ہے اور برطانیہ میں یہ ایک نئی اور خوف ناک حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ مصنفین اور ماہرینِ تعلیم کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے، صرف اس لیے کہ وہ ان فلسطینیوں کی حمایت کر رہے ہیں جنہیں نسل کشی کا سامنا ہے، نیز ان لوگوں کے حقوق کی حمایت کر رہے ہیں جو اس نسل کشی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔
واضح رہے مالم کی کتابوں نے بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے ہیں اور ماحولیاتی انصاف اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے بہت سے لوگوں کو تحریک دی ہے۔
ان کی کتاب ’’ایک پائپ لائن کو کیسے دھماکے سے اڑایا جائے‘‘ سے اسی نام کی ایک فلم بھی متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔
وہ آکسفورڈ، کنگز کالج لندن اور کیمبرج سمیت برطانیہ کی مختلف جامعات میں لیکچرز دینے کے لیے باقاعدگی سے وہاں جاتے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ