مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حوالے سے اپنے سابقہ دعوے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس فی الحال ایران پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کی ووٹنگ ختم ہونے سے قبل برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے موجودہ تنازع کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بظاہر امریکہ اپنے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کر رہا ہے۔
صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہ رواں ہفتے کے آخر میں حملے کا امکان ہے، ٹرمپ نے کہا: ’’میں تیار ہوں، ہم تیار ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہم مکمل ہتھیاروں سے لیس اور تیار ہیں، تاہم ممکن ہے کہ اس کی بالکل ضرورت ہی پیش نہ آئے۔‘‘
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر امریکی عوام کی شدید ناراضی کے ماحول میں منعقد ہوئے۔ ان مسائل کو ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی مہم جوئی کے براہ راست نتائج قرار دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انتخابات کے فوراً بعد توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافے اور ایران کی معیشت پر دباؤ کا دعوی کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کو ’’شاندار‘‘ قرار دیا۔
امریکی صدر نے ایک اور بیان میں، ایران کے خلاف وسیع فضائی حملوں، بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے استعمال اور ایرانی تنصیبات و بنیادی ڈھانچے کے خلاف فوجی کارروائیوں کا اعتراف کرنے کے باوجود عجیب انداز میں دعوی کیا کہ امریکہ درحقیقت ایران کے ساتھ جنگ نہیں کر رہا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اپنے فوجی منصوبوں کو پہلے سے ظاہر نہیں کرتے۔ تہران کے ساتھ افزودہ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ ان کے بقول، یہ ذخائر بڑی مقدار میں ملبے اور پتھروں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ٹرمپ کے لہجے میں عارضی تبدیلی کی وجہ وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت کی ممکنہ بھاری شکست کا خدشہ اور امریکہ میں بڑھتے ہوئے داخلی و معاشی بحرانوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
آپ کا تبصرہ