مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو الگ الگ واقعات کے دوران دو آئل ٹینکروں اور ایک ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی، جبکہ ایرانی بحریہ کے الیکٹرانک وارفیئر یونٹس نے دو امریکی لوکاس ڈرونز کو اپنے کنٹرول میں لے کر بحفاظت زمین پر اتار لیا۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے بیان میں ایرانی عوام کی 250 روزہ ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام نے بصیرت اور مزاحمت کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے اور ایرانی بحریہ پوری قوت اور اختیار کے ساتھ آبنائے ہرمز کا انتظام جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیان کے مطابق، گزشتہ شب ایک بڑا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے غیر مجاز جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں آگ لگ گئی اور اسے روک دیا گیا۔
ایک دوسرا سپر ٹینکر بھی آبنائے ہرمز کے مشرق میں اسی غیر مجاز راستے سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اس سپر ٹینکر کی آگ بجھانے کے لیے قریب آنے والی ایک ٹگ بوٹ بھی آگ کی لپیٹ میں آگئی۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ کے الیکٹرانک وارفیئر یونٹس نے دراندازی کرنے والے دو لوکاس ڈرونز کا کنٹرول سنبھال لیا اور انہیں بحفاظت زمین پر اتار کر اپنے قبضے میں لے لیا۔
بیان میں امریکی حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ جہازوں کو قوانین کی خلاف ورزی اور بارودی سرنگوں سے متاثرہ راستے سے گزرنے کی ترغیب دے کر تباہ ہونے والے جہازوں کے بھاری انشورنس اخراجات امریکی ٹیکس دہندگان اور خطے میں اپنے اتحادیوں پر مسلط کر رہی ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے مطابق، اگر واشنگٹن نے دانش مندی سے کام لیا ہوتا تو وہ ایران کے منجمد اثاثے جاری کرکے ان بھاری نقصانات اور شرم ناک انتخابی شکست سے بچ سکتا تھا، کیونکہ ایران کے منجمد اثاثوں کی مالیت اب تک ہونے والے اخراجات کے نصف سے بھی کم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی کوششوں سے امریکہ کو مزید مالی نقصانات اور بڑے سیاسی دھچکوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ