5 نومبر، 2026، 10:17 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران جنگ نے امریکی کانگریس کے انتخابات میں ٹرمپ کو کیسے شکست سے دوچار کیا؟

ایران جنگ نے امریکی کانگریس کے انتخابات میں ٹرمپ کو کیسے شکست سے دوچار کیا؟

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کو محض جماعتی مقابلے یا ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی اقتصادی کارکردگی سے عوامی ناراضی کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا؛ اس شکست کے اہم اسباب میں سے ایک وائٹ ہاؤس کی خارجہ پالیسی اور ایران پر امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کے اثرات بھی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک:امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کو محض جماعتی مقابلے یا ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی اقتصادی کارکردگی سے عوامی ناراضی کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا؛ اس شکست کے اہم اسباب میں سے ایک وائٹ ہاؤس کی خارجہ پالیسی اور ایران پر امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کے اثرات بھی ہیں۔ یہ تصادم ایسا تھا جس کے اخراجات علاقائی سرحدوں سے آگے نکل گئے، توانائی کی منڈی متاثر ہوئی اور بالآخر اس کے اثرات امریکی شہریوں کی روزمرہ زندگی تک پہنچ گئے۔ اب اہم بات یہ ہے کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی جماعت کی انتخابی شکست میں ایران کے کردار کا اعتراف کیا ہے۔

امریکی صدر نے روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے ساتھ تصادم کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی پر اثرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا: ’’ایران بھی اس کی وجوہات میں سے ایک تھا۔‘‘ انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بھی ریپبلکن پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو نقصان پہنچانے والے عوامل میں شمار کیا۔ تاہم، اس کے باوجود انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دوبارہ اسی صورت حال میں ہوتے تو یہی فیصلہ دہراتے۔ ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کی سب سے اہم وجہ انتخابی بیلٹ پیپرز پر ان کا نام موجود نہ ہونا تھا۔

ٹرمپ کے یہ بیانات، اپنی ذمہ داری کم کرنے کی کوششوں سے قطع نظر، ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کے نتائج کے حوالے سے ایک قابلِ توجہ اعتراف ہیں۔ امریکی صدر اب تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ تصادم نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی پوزیشن کمزور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن کے تزویراتی فیصلوں کے نتائج کا جائزہ صرف علاقائی حالات و واقعات کے تناظر میں نہیں لیا جا سکتا۔

ایران پر جارحیت کے اہم ترین نتائج میں سے ایک عالمی توانائی کی منڈی پر اس کے اثرات اور امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ توانائی کی ترسیل کے راستوں، بالخصوص آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں اور تیل کی منڈی میں غیر یقینی صورت حال بڑھنے کے باعث اقتصادی اخراجات میں اضافہ ہوا اور امریکی خاندانوں پر مزید دباؤ پڑا۔ ٹرمپ حکومت کے لیے یہ مسئلہ دوہری اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں واپسی سے قبل مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی میں کمی کے وعدے کے ذریعے ووٹروں کے ایک بڑے طبقے کی حمایت حاصل کی تھی۔

اعداد و شمار اس دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکہ میں عام پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً ایک ڈالر زیادہ تھی۔ اسی طرح بحران کے بعض مراحل میں تیل کی قیمت بھی 112 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی۔ امریکی شہریوں کے لیے یہ اعداد و شمار محض عالمی منڈی کے اشاریے نہیں ہیں، بلکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست آمدورفت، اشیاء کی نقل و حمل اور متعدد خدمات و مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔

اسی وجہ سے ایران کے ساتھ تصادم بتدریج خارجہ پالیسی کے ایک معاملے سے نکل کر امریکہ کے اندر ایک اقتصادی اور معاشی مسئلہ بن گیا۔ روزمرہ اخراجات میں اضافے کا سامنا کرنے والے شہریوں نے حکومتی فیصلوں کے اثرات اپنی زندگیوں میں محسوس کیے، جبکہ ٹرمپ اس سے پہلے اخراجاتِ زندگی کم کرنے کا وعدہ کر چکے تھے۔

ووٹرز اور خارجہ پالیسی کا معاشی بوجھ

انتخابات کے بعد کیے جانے والے ایگزٹ پولز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹروں کے فیصلے میں اخراجاتِ زندگی کا مسئلہ کس قدر اہم تھا۔ ایک ایگزٹ پول کے نتائج کے مطابق، تقریباً 90 فیصد ووٹروں نے اخراجاتِ زندگی کو اپنے انتخاب میں اہم یا انتہائی اہم عامل قرار دیا۔ اسی طرح تقریباً دو تہائی شرکاء نے اشیاء اور خدمات کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرایا۔ اسی سروے میں 62 فیصد افراد نے امریکی صدر کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اقتصادی عدم اطمینان انتخابات میں کوئی ضمنی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حکومت کی کارکردگی جانچنے کے اہم ترین معیارات میں شامل ہو چکا تھا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ووٹروں کا ایک بڑا حصہ ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں، جن میں ایران کے ساتھ تصادم اور تجارتی محصولات بھی شامل ہیں، کو اپنی معاشی صورت حال خراب ہونے کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔

ایسے ماحول میں ڈیموکریٹس ایندھن اور اخراجاتِ زندگی میں اضافے کو حکومتی پالیسیوں سے جوڑنے میں کامیاب رہے۔ دوسرے الفاظ میں، انہوں نے ٹرمپ حکومت کے بیرونی تصادم کو ایک پیچیدہ بین الاقوامی معاملے سے نکال کر ووٹروں کے لیے ایک ٹھوس اور روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا مسئلہ بنا دیا: آخر امریکی شہریوں کو ایسے فیصلے کی قیمت کیوں ادا کرنی چاہیے جس کے لیے حکومت سلامتی اور تزویراتی جواز پیش کرتی ہے؟

وعدوں اور عملی کارکردگی کے درمیان خلیج

ٹرمپ ایک طرف اپنے فیصلے کو درست قرار دے رہے ہیں، جبکہ انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعض اخراجات ریپبلکن پارٹی کے کھاتے میں لکھے گئے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دے کر شکست کو اپنی کارکردگی سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ خود انتخابات میں امیدوار نہیں تھے، لیکن امریکہ میں وسط مدتی انتخابات عموماً صدر اور برسراقتدار حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک موقع بن جاتے ہیں۔

دوسری جانب، ٹرمپ کے انتخابی وعدوں اور ان کی حکومت کی عملی کارکردگی کے درمیان تضاد نے بھی اس شکست میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سابقہ حکومتوں کی بیرونی مداخلتوں پر تنقید اور داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے وعدے کے ذریعے امریکی معاشرے کے ایک حصے کی حمایت حاصل کی تھی۔ لیکن ایران کے ساتھ مہنگے تصادم میں داخل ہونے سے ان کے اس تاثر کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کوئی حکومت اخراجاتِ زندگی کم کرنے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو کسی بیرونی بحران کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اس کے اقتصادی وعدوں کی ساکھ کو شدید دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔

البتہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کے تمام اسباب کو صرف ایران کے معاملے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ تجارتی محصولات، مہنگائی، ریپبلکن امیدواروں کی صورت حال اور مجموعی طور پر حکومت کی کارکردگی سے عوامی ناراضی نے بھی انتخابی نتائج میں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، ایران کے کردار کے بارے میں ٹرمپ کا واضح اعتراف اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر ان کا زور ظاہر کرتا ہے کہ یہ معاملہ ان کی حکومت کے لیے انتخابی مقابلے میں ایک کمزور پہلو بن گیا ہے۔

واشنگٹن سے آگے تک جانے والا پیغام

امریکی انتخابات کے نتائج پر برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کا ردعمل بھی ایک دوسرے زاویے سے قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے ان نتائج کو عالمی برادری کے لیے ایران کے ساتھ جاری تصادم ختم کرنے اور اخراجاتِ زندگی کم کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک موقع قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکی ووٹروں کا پیغام بھی اسی سمت میں ہے۔

یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ تصادم کے نتائج صرف تہران اور واشنگٹن کے تعلقات تک محدود نہیں رہے، بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکے ہیں۔ توانائی کے اخراجات میں اضافہ، اقتصادی غیر یقینی صورت حال اور بحران کے جاری رہنے کے خدشات نے دیگر حکومتوں کو بھی سیاسی حل تلاش کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی طرف مائل کیا ہے۔

اس تناظر میں امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کا تجزیہ صرف کانگریس کی نشستوں میں تبدیلی کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان انتخابات نے ظاہر کیا کہ مہنگی خارجہ پالیسی ملک کے اندر برسراقتدار حکومت کو کمزور کرنے والے عوامل میں سے ایک بن سکتی ہے۔ ٹرمپ شاید اب بھی ایران کے بارے میں اپنے فیصلے کو درست قرار دینے پر اصرار کریں، لیکن وہ اس کے سیاسی اور اقتصادی نتائج کو نظرانداز نہیں کر سکتے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ خود اپنی جماعت کی انتخابی شکست میں ایران کے کردار کو تسلیم کر چکے ہیں۔

حالیہ امریکی انتخابات میں جو بات واضح ہوئی، وہ خارجہ پالیسی کے اخراجات کا امریکہ کے اندر واپس لوٹنا تھا۔ یہ اخراجات پہلے توانائی کی منڈی اور شہریوں کے معاشی حالات میں ظاہر ہوئے اور پھر سیاسی مقابلے کے میدان میں بھی سامنے آ گئے۔ اس طرح ایران کے ساتھ تصادم نہ صرف ٹرمپ حکومت کی خارجہ پالیسی کے اہم چیلنجوں میں سے ایک بن گیا، بلکہ اس کے اثرات امریکہ کے اندر ریپبلکن پارٹی کی سیاسی پوزیشن کمزور کرنے والے اہم عوامل میں بھی شامل ہو گئے۔

News ID 1942616

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha