مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد وزیر خارجہ مارکو روبیو، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاکہ 2028ء کے صدارتی انتخابات میں اپنی نامزدگی کی تیاری کر سکے۔
اس رپورٹ میں ریپبلکن پارٹی کے بعض ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ روبیو انتخابات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔
ان ذرائع کے مطابق، وہ اس وقت ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے اہم ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں اور اپنی نامزدگی کے امکانات بہتر بنانے کے لیے انہیں ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے خلاف جنگ سے فاصلہ اختیار کرنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کے بعد ایران کے خلاف جنگ کو ان نتائج کا ایک سبب قرار دیا اور خود کو اس جنگ سے الگ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
اسی دوران امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی شکست کا ذمہ دار وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کو ٹھہرا سکتے ہیں۔
برطانوی ذرائع نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران سے متعلق معاملات میں روبیو کا کردار محدود ہوتا گیا ہے، حالانکہ وہ ملک کے وزیرِ خارجہ ہیں۔
اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے متعلق مذاکرات اور یوکرائن جنگ کے معاملے میں بھی انہیں کسی حد تک پس منظر میں رکھا گیا ہے اور ان معاملات میں مرکزی کردار ٹرمپ کے خصوصی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو سونپ دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ