مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری تنازع میں ایران کی مداخلت سے متعلق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کے بے بنیاد الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین خود یمنی عوام کے خلاف پابندیوں اور اقتصادی محاصرے میں شریک ہونے کی وجہ سے یمن میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں شریک ہے۔
یورپی حکام دوسروں پر الزام تراشی اور حقیقت سے توجہ ہٹانے والے بیانات دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے یمن میں ایرانی فوجی ماہرین کی موجودگی سے متعلق دعوؤں کی بھی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ان جعلی خبروں کی اشاعت کا مقصد حقائق پر پردہ ڈالنا اور رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ یمنی قوم ثابت کر چکی ہے کہ وہ اپنی قومی خودمختاری اور انسانی وقار کے دفاع کے لیے ضروری صلاحیت، تجربہ، شجاعت اور عزم رکھتی ہے اور اس راستے میں اسے کسی بھی فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔
بقائی نے یمن کے مختلف علاقوں، بالخصوص شہری تنصیبات، اہم بنیادی ڈھانچوں اور رہائشی علاقوں پر فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں 270 سے زائد یمنی مسلمان شہید ہوئے، جن میں 130 بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ 650 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں بنیادی ڈھانچے اور عوام کے گھروں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے یمن کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف جارحیت بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
جزیرہ نمائے عرب میں جاری تنازعات کے حوالے سے ایران کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ جزیرہ نمائے عرب میں امن کے قیام کے لیے فوجی حملوں کا خاتمہ، یمنی عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام، اس ملک کا بحری اور فضائی محاصرہ ختم کرنا اور یمنیوں و سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے روڈ میپ کی بنیاد پر مذاکرات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سلسلے میں ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہے۔
بقائی نے یمن کے غیر انسانی محاصرے کو جائز قرار دینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مسلسل غلط استعمال پر تنقید کرتے ہوئے فوجی حملوں کی فوری بندش، مکمل محاصرے کے خاتمے اور اس ملک کے خلاف عائد غیر قانونی پابندیوں اور قدغنوں کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آپ کا تبصرہ