مہر خبررساں ایجنسی نے کشمیر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان حکومت سازی پر اتفاقِ رائے کے بعد پی ڈی پی کے سربراہ مفتی محمد سعید یکم مارچ کو جموں و کشمیر کی نئی مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔مفتی سعید نے جمعہ کی صبح دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت سازی پر موجود اختلافات ختم ہوگئے ہیں اور دو مہینے کے انتظار کے بعد اب ریاست میں حکومت بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ وہ پورے چھ سال کی مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالیں گے اور حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم مودی بھی شرکت کریں گے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تین حساس نکات پر اختلافات تھے جن میں ریاست میں مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات پر ریاستی حکومت کی پالیسی، آئین کی دفعہ 370 کے بارے میں حکومتی موقف اور مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں حریت کو شامل کرنے کا دروازہ کھلا رکھنے کے معاملات شامل تھے۔
دونوں جماعتیں اپنے اتحاد کا اعلان پہلے ہی کر چکی تھیں لیکن بظاہر اس تحریری دستاویز کے متن پر اختلافات تھے جس کی بنیاد پر یہ حکومت کام کرے گی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جموں کشمیر کی ریاستی حکومت میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی بھی شامل ہوگی۔
حالیہ انتخابات میں کسی بھی جماعت کو اکثریت نہیں مل سکی اور پی ڈی پی کو 28 ، بی جے پی کو 25 نشستوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ نیشنل کانفرنس 15 سیٹوں سے تیسرے اور کانگرس چوتھے نمبر پر رہی ۔
آپ کا تبصرہ