مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی باضابطہ مذاکرات جاری نہیں ہیں، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان غیر رسمی رابطے برقرار ہیں۔
رافائل گروسی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر روسی خبر رساں ایجنسی ’’ریا نووستی‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مکمل اور باضابطہ مذاکرات کا کوئی عمل جاری نہیں ہے، تاہم غیر رسمی رابطے موجود ہیں جو دوبارہ مذاکرات شروع ہونے کا باعث بن سکتے ہیں۔
امریکی جانب سے ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کے بارے میں سوال پر گروسی نے کہا کہ فی الحال حقیقی معنوں میں کوئی مذاکراتی عمل موجود نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطے ہوئے ہیں اور یہ رابطے فی الحال مکمل طور پر غیر رسمی نوعیت کے ہیں، تاہم امید ہے کہ یہ دوبارہ مذاکرات کے آغاز کا سبب بنیں گے۔
گروسی نے کہا کہ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرا ہے اور مختلف اوقات میں متعدد ثالث بھی اس میں شامل رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری مسائل اس معاملے کا صرف ایک حصہ ہیں، تاہم یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی مسائل اس تنازعے کے آغاز کا سبب بنے، جو بعد میں مزید وسیع شکل اختیار کرگیا۔
آپ کا تبصرہ