29 ستمبر، 2026، 7:28 PM

سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کا امریکی عوام کے نام اہم خط

سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کا امریکی عوام کے نام اہم خط

سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے ترجمان نے آج ایک پریس کانفرنس میں ایک خط کی وضاحت کی تھی، اب امریکی عوام کے نام اس خط کا مکمل متن جاری کر دیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی جانب سے جاری امریکی عوام کے نام خط کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم

إِنَّ اللَّهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّیٰ یُغَیِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ. قرآن کریم

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے معزز عوام، دانشوروں، طلبہ اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد!

احترام کے ساتھ اور عظیم انبیائے کرام، بالخصوص حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزہ ارواح پر خراجِ عقیدت و تشکر پیش کرتے ہوئے عرض ہے کہ
سات ماہ قبل امریکہ کی جارح فوج نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک جنگی جرم کے ارتکاب میں میناب کے ایک پرائمری اسکول پر حملہ کیا اور 168 طالب علم بچوں کو قتل کیا۔ اسی دوران رہبرِ انقلابِ اسلامی امام سید علی خامنہ ای کے دفتر پر حملہ کرکے انہیں اور ان کے خاندان، حتیٰ کہ ان کی 14 ماہ کی نواسی کو بھی شہید کر دیا۔ اس طرح ایران کے خلاف جنگ شروع کی گئی، جس میں اب تک 3600 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر عام شہری اور 400 بچے شامل ہیں، شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 8 جامعات، 3 اسپتال اور 8 اسکولوں پر بمباری کی گئی۔ لیکن اس جنگ میں بے مثال بے رحمی اور جرائم کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کو سخت شکست ہوئی اور انقلابِ اسلامی نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔

امریکہ کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کی تاریخ میں حقیقت ہمیشہ پہلی قربانی بنی ہے اور امریکی عوام ان جنگوں کے مستقل شکار رہے ہیں۔ ان جنگوں کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں ان حقائق سے آگاہ ہونے کا حق ہے جو ان سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔

آئیے چند سوالات سے آغاز کرتے ہیں۔

ایران کیوں کامیاب ہوا اور امریکی فوج، جس کا سالانہ بجٹ ایرانی مسلح افواج کے بجٹ سے سو گنا زیادہ ہے اور جس کے پاس سینکڑوں گنا زیادہ ہتھیار اور سازوسامان ہے، اسلامی جمہوریہ کے ساتھ جنگ میں کیوں شکست کھا گئی؟

کیا ایرانی امریکی عوام سے دشمنی رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ایرانی عوام ’’مردہ باد امریکہ‘‘ کا نعرہ کیوں لگاتے ہیں؟
کیا امریکی حکومت کا سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دینے کا دعویٰ درست ہے؟

ایران پر دوبارہ تسلط قائم کرنے کے لیے امریکی حکومت کی 48 سالہ وسیع کوششیں مسلسل ناکام کیوں ہوتی رہی ہیں؟

موجودہ صورتِ حال جاری رہنے کی صورت میں امریکی حکومت تیزی سے زوال کی طرف کیوں بڑھ رہی ہے؟

اس جنگ کا مستقبل کیا ہوگا؟ امریکی عوام ظالمانہ جارحیت کے نتائج سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں اور آنے والی تباہی سے کیسے نجات حاصل کر سکتے ہیں؟

یہ وہ مسائل ہیں جنہیں ہم اس دوستانہ خط کے ذریعے آپ کے ساتھ درمیان میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کو ہماری صداقت پر شک ہو تو آپ ایران کے کسی بھی حصے، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز کا مختصر سفر کرکے خود ہمارے بیانات کی صحت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

امریکی جارحیت کے مقابلے میں ایران کی فتح کے عوامل

ایران امریکہ کے سالانہ دفاعی بجٹ کے صرف ایک سویں حصے کے برابر بجٹ کے باوجود جنگ کیسے جیت گیا؟

جنگ کے فاتح کو پہچاننے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس فریق نے اپنے مقصد کو حاصل کیا۔ امریکی اور اسرائیلی حکام اور اداروں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ایران پر حملے کا مقصد ’’اسلامی جمہوریہ کا نظام تبدیل کرنا‘‘ اور ’’ایران کو تقسیم کرنا‘‘ ہے۔ لیکن ان دونوں مقاصد میں ناکامی کے بعد ایک ایسی جنگ میں، جس کی کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں تھی، ہر ہفتے نیا مقصد سامنے لایا گیا۔

’’ایران کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا‘‘، ’’خارک جزیرے پر قبضہ اور ایران کے تیل پر تسلط‘‘، ’’زمینی حملہ اور ایرانی سرزمین پر قبضہ‘‘، ’’تمام صنعتی بنیادی ڈھانچے کی تباہی‘‘، ’’توانائی کے تمام بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے ایران کو پتھر کے زمانے میں پہنچانا‘‘، ’’ایرانی تہذیب کی تباہی‘‘، ’’آزادی کے نام پر آپریشن کرکے آبنائے ہرمز پر قبضہ‘‘، ’’ایران کی برآمدات اور درآمدات روکنا‘‘، ’’ایران کی جوہری صنعت کو تباہ کرنا‘‘، ’’ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو تباہ کرنا‘‘، ’’آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین میں شامل کرکے 20 فیصد ٹول وصول کرنا‘‘، ’’ایران کے فضائی دفاع کو تباہ کرکے اس کی فضائی حدود پر قبضہ‘‘ اور ’’ایران کی اسلامی مزاحمت کی حمایت ختم کرنا‘‘؛ یہ وہ 13 نئے اہداف تھے جو امریکی صدر نے ابتدائی دو مقاصد میں ناکامی کے بعد جنگ کے دوران پیش کیے۔

امریکہ اور اسرائیل نے انتظامی اور رہائشی عمارتوں، پرانے روایتی ہتھیاروں اور فوجی و غیر فوجی ذیلی بنیادی ڈھانچے پر ہزاروں بم اور میزائل برسائے، لیکن جوہری صنعت کے ایک حصے اور محدود تعداد میں دفاعی تنصیبات کی تباہی کے علاوہ اپنے اعلان کردہ اہداف میں کوئی پیش رفت حاصل نہ کر سکے۔

اب سات ماہ کی ظالمانہ جنگ کے بعد امریکی فوج، جس کا سالانہ بجٹ ایران سے سو گنا زیادہ اور سازوسامان سینکڑوں گنا زیادہ ہے، اسرائیلی فوج کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کے باوجود اپنے اعلان کردہ 15 میں سے کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکی۔ جنگ کا پوشیدہ مقصد، یعنی فلسطین میں اسرائیل کے بھیانک جرائم کو فراموش کروانا، بھی پورا نہیں ہوا اور غزہ کی نسل کشی کا معاملہ اب بھی دنیا کی رائے عامہ کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح کے عملی مظاہر

ایران کی فتح صرف دشمن کو اپنے اہداف حاصل کرنے سے روکنے تک محدود نہیں رہی۔ بڑی کامیابی یہ تھی کہ امریکی فوج کی ہیبت ٹوٹ گئی اور امریکہ اس جنگ میں سپر پاور کے مقام سے نیچے آ گیا۔ ہماری یہ بڑی کامیابی سامراج کے لیے ناقابلِ تلافی شکست تھی۔

200 سے زائد مہنگے اسٹریٹجک ڈرون، 12 ایندھن بھرنے والے اور ٹرانسپورٹ طیارے، 30 جنگی طیارے، کم از کم ایک آواکس طیارہ، درجنوں ہیلی کاپٹر، درجنوں انتہائی مہنگے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام اور امریکی فوجی اڈوں کی 350 سے زائد تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہوئے۔ خطے میں امریکہ کے 18 اڈوں کی عملیاتی صلاحیت تقریباً صفر تک پہنچ گئی۔

ان سب سے اہم، متعدد حیرت انگیز اسٹریٹجک کامیابیاں یہ ہیں:

۱۔ ایران کی نئی نسلوں کو مغرب نواز بنانے اور انہیں ایرانی اسلامی ثقافت و تہذیب سے بیگانہ کرنے کے لیے کئی دہائیوں پر محیط امریکی فکری جنگ کی تمام کوششیں خاک میں مل گئیں۔ امریکہ کی اسرائیلی حکومت کے ساتھ اتحاد کی بڑی غلطی اور میناب کے معصوم بچوں اور رہبرِ انقلابِ اسلامی کی شہادت نے امریکی حکمرانوں کی مجرمانہ حقیقت کو نئی نسل کے لیے نمایاں کر دیا اور انہیں جہاد پر مزید پختہ کرکے انقلابِ اسلامی کے اگلی دو نسلوں تک تسلسل کو یقینی بنا دیا۔

۲۔ امریکی عوام کو ایران سے بدظن کرنے کی میڈیا جنگ بے اثر ہوگئی اور امریکی رائے عامہ میں ایران کی حیثیت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ اسی طرح جنگ کے بنیادی عامل یعنی اسرائیل کے بارے میں عوامی شناخت اور نفرت میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

۳۔ ایرانی عوام کا قومی اتحاد مزید گہرا ہوا، ایران کو تقسیم کرنے کے لیے دشمن کی نصف صدی کی کوششیں ختم ہوگئیں اور مختلف اقوام پہلے سے کہیں زیادہ ایرانی ہونے پر فخر کر رہی ہیں۔

۴۔ تاریخ میں پہلی بار ایران نے آبنائے ہرمز پر آپریشنل کنٹرول قائم کیا، امریکی بحری بیڑا بحر ہند کی گہرائیوں میں فرار ہوگیا اور اب ایک بھی جہاز امریکی پانچویں بحری بیڑے کی بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔

۵۔ ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر تباہ نہیں ہوئے، بلکہ ان کی پیداوار مزید جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اور زیادہ محفوظ حالات میں بڑھ گئی۔

۶۔ ایران کا فضائی دفاع جنگ گزرنے کے ساتھ روز بروز زیادہ پختہ اور مضبوط ہوتا گیا اور بالآخر اس نے انتہائی مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ جنگی طیارے مار گرائے۔

۷۔ جنگ کے آغاز میں منامہ اور دوحہ کی سڑکوں پر لوگوں نے امریکی فوجیوں کو اڈوں سے فرار ہوتے دیکھا، جو زیر جامہ لباس میں چھپنے کی جگہ تلاش کر رہے تھے۔ بعد کے دنوں میں بھی امریکی فوج کی سرکاری بیانات میں خطے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعداد و شمار مسلسل جاری ہوتے رہے۔ امریکی اڈے بھوتوں کے گھروں جیسے ہو گئے اور ان کے خاتمے کی بنیاد پڑ گئی۔

۸۔ مزاحمت کے لیے ایران کی حمایت مزید گہری ہوگئی اور حتیٰ کہ امریکہ نے مفاہمت کی یادداشت میں مزاحمت کے مختلف محاذوں کے اتحاد کو تسلیم کیا۔

۹۔ ایرانی تہذیب نہ صرف تباہ نہیں ہوئی، بلکہ اس کی چمک مزید بڑھ گئی۔ ایران کو اقوام کے دلوں میں کہیں بلند مقام حاصل ہوا۔ ایران کی سیاسی ساکھ اور عالمی حیثیت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ناقابلِ موازنہ طور پر بہتر ہوئی۔ آپ دنیا کے کسی بھی ملک کا سفر کرکے خود کو ایرانی ظاہر کریں، آپ دیکھیں گے کہ عام طور پر مسلمان، عیسائی، بدھ مت کے پیروکار، حتیٰ کہ بہت سے یہودی اور غیر مذہبی افراد بھی تحسین آمیز ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔

۱۰۔ ایران کی فتح نے دنیا کی اقوام میں زبردست خود آگاہی اور خود اعتمادی پیدا کی ہے، جو اقوام کی قوتِ ارادی کے اظہار اور ظلم و جبر کے خاتمے میں تاریخ کی عظیم ترین تبدیلیوں کا سرچشمہ بنے گی۔

۱۱۔ امریکی فوج کا بحر ہند میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت روکنے کا غیر قانونی اقدام، جسے امریکی حکومت نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا نام دیا، عملاً ایران کی داخلی پیداوار میں مزید ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی تعامل کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کا باعث بنا۔

۱۲۔ امام خامنہ ای کی شہادت نے ولایتِ فقیہ کے نظام کو دنیا کے سامنے متعارف کروایا۔ ولایتِ فقیہ کے آمر ہونے کی جھوٹی داستان، کروڑوں افراد کی محبت بھری تشییعِ جنازہ اور رہبر کی عدم موجودگی میں ملک کے بغیر کسی معمولی خلل کے انتظام کے ذریعے باطل ثابت ہوئی اور اس نظام کی حقانیت اور برتری ثابت ہوگئی:

ولایتِ فقیہ یعنی عوام اور حکمرانوں کے درمیان محبت، شفقت اور باہمی اعتماد کی انتہا۔

ولایتِ فقیہ یعنی سینکڑوں گنا زیادہ طاقت رکھنے والی شیطانی طاقتوں کے مقابل کھڑے ہونے اور سو فیصد مقامی ہتھیاروں کے ذریعے، بغیر کسی غیر ملکی مدد کے کامیابی حاصل کرنے کی طاقت۔

ولایتِ فقیہ یعنی ہزاروں گنا زیادہ طاقتور میڈیا کی دشمنی کے باوجود دنیا کی اقوام کے دلوں کو فتح کرنا۔

ولایتِ فقیہ یعنی 48 سال کی پابندیوں اور اقتصادی تباہی کے باوجود کسی ایک دکان کی بھی شیلف خالی نہ ہونا۔

ولایتِ فقیہ یعنی شدید ترین سائنسی اور ٹیکنالوجی پابندیوں کے باوجود دنیا کی تیز ترین سائنسی ترقی۔

ولایتِ فقیہ یعنی 37 سال تک حکمرانی، اپنے اور اپنی اولاد کے لیے معمولی ترین مادی فائدہ بھی حاصل نہ کرنا اور محروم طبقات کی سطح پر زندگی گزارنا۔

ایران کی فتح کی بنیادی وجہ

ایران کی فتح کی بنیادی وجہ ڈرون اور میزائل نہیں ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس بھی ہم سے زیادہ میزائل اور ڈرون اور دیگر متنوع ہتھیار موجود ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ہماری کامیابی کی بنیادی وجہ تین چیزیں ہیں: قرآن کا ممتاز توحیدی مکتب اور جہان بینی، اس مکتب کے گرد ملت کا ایمان و اتحاد اور الٰہی قیادت۔

۱۔ مکتب

ایران معاصر دور کے سب سے مشہور اور اس کے باوجود سب سے زیادہ نامعلوم انقلابات کی جائے پیدائش ہے؛ ایسا انقلاب جو قرآن، خدا کے دین اور عظیم الٰہی انبیاء و مصلحین کے تسلسل پر قائم ہے۔ اس انقلاب کی مضبوط بنیاد اور بنیادی فکر قرآن کی توحیدی جہان بینی ہے۔

سچائی، آزادی، انسانوں کی برابری، سماجی انصاف اور دوسروں کے حقوق کا احترام، معاشرے کے افراد میں خود آگاہی، خیر خواہی اور ذاتی خواہشات پر انسانی اقدار کو ترجیح دینا اسلامی نظام کے سماجی اصول ہیں۔ قرآنی فکر میں تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی بہن اور خدا کے بندے ہیں۔ نسلوں، رنگوں اور مختلف سرزمینوں کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں، اور یہ چیزیں کسی فرد یا قوم کی برتری کا سبب نہیں۔ انسانیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور ایک انسان پر حملہ پوری انسانیت پر حملہ ہے۔

ہماری فکر کی بنیاد انبیاء کی بعثت کے مقصد، یعنی خدا پر ایمان اور عدل کے قیام پر ہے۔ ہم نے قرآن سے سیکھا ہے کہ ’’نہ ظلم کرو اور نہ ظلم قبول کرو‘‘۔ ہمیں چاہیے کہ ان اقدار کی حفاظت کے لیے اپنے بازو کو مضبوط کریں، شر اور فساد کے شیطانوں کا راستہ روکیں، جہالت اور ظلم سے لڑیں اور علم، عدل اور آزادی کی حفاظت کریں۔ فضیلت اور عدالت کے دشمنوں کے سامنے تسلیم ہونا ان اقدار کی تباہی کو قبول کرنا ہے۔ مسلسل بڑی طاقتوں کی دشمنیوں کے باوجود ایرانی قوم کی تسلیم نہ ہونے کا راز انہی اصولوں کی پابندی ہے۔

۲۔ اس مکتب کے گرد متحد قوم

یہ بنیادیں محض نظری مسائل نہیں ہیں۔ ہماری جذبے سے سرشار اور جانثار قوم کے پاس قرآن سے عملی نمونے موجود ہیں، جو تاریخ کی نمایاں مثالیں ہیں اور جو قوم بھی ان کی پیروی کرے گی، ناقابلِ شکست ہوگی۔

اگر آپ ایرانی قوم کے ناقابلِ شکست ہونے کا راز جاننا چاہتے ہیں تو واقعۂ عاشوراء کا مطالعہ کریں اور امام حسین علیہ السلام کو ایرانیوں کے لیے عدل اور پاکیزگی کی خاطر آخری دم تک ثابت قدمی کے نمونے کے طور پر جانیں۔ وہ مظلومانہ طور پر پیاسے شہید کیے گئے، لیکن کبھی ظلم کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔

آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ایرانی قوم امریکی فوج کی میناب میں بچوں کے قتل کی شدید بے رحمی سے کیوں نہیں ڈری اور پیچھے کیوں نہیں ہٹی؟ پیاس کے واقعے کو پڑھیں اور امام حسین علیہ السلام کے شیر خوار فرزند حضرت علی اصغر کو جانیں، جو پیاس کی حالت میں اپنے والد کے ہاتھوں پر دشمن کے تیر سے شہید ہوئے۔

آپ پوچھتے ہیں کہ ایرانی فریب پر مبنی وعدوں سے گمراہ کیوں نہیں ہوتے؟ اس کا جواب حضرت عباس علیہ السلام کے کٹے ہوئے ہاتھوں کے واقعے میں تلاش کریں، جنہوں نے دشمن کا امان نامہ مسترد کیا اور پیاسے بچوں کے لیے پانی لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔

48 سال کی شدید پابندیوں اور نہ ختم ہونے والی سازشوں کے مقابل ایرانی قوم کی کامیابی کا راز حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر و استقامت کی داستان کے مطالعے سے دریافت کیا جا سکتا ہے؛ وہ جو اسیری کی حالت میں بھی اپنے بلیغ خطبوں کے ذریعے ظالم حکمرانوں کے سامنے ڈٹ گئیں، وہ خاتون جو حضرت مریم مقدسہ سلام اللہ علیہا کی طرح عالمین کی خواتین کی سردار ہیں۔

۳۔ اہل اور صالح رہبر

محدود وسائل کے ساتھ بے شمار ہتھیاروں سے لیس فوجوں کے مقابل ہماری فتح کی بنیادی وجہ ایسی قیادت ہے جو اس مکتب کے معیار کے مطابق منتخب ہوئی اور تاریخ کے ان بے مثال نمونوں کا مجسمہ ہے؛ ایسی قیادت جو عادل ہے اور عدل کے نفاذ کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی بے مثال قیادت کے ذریعے دنیا کی دو بڑی عسکری طاقتوں کو عاجز کردیا۔ خدا سے ڈرنے والے اور عادل رہبر، حکیم عالم اور پاکیزہ و بہادر زاہد کی یہی چیز ہے جس سے آپ کی مسلح افواج اور ملک محروم ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے مطابق رہبر اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ولی فقیہ ہیں، جنہیں ماہرین اور فقہاء کا ایک گروہ شناخت کرتا ہے اور ان ماہرین کو بھی عوام براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب کرتے ہیں۔

ولی فقیہ کے لیے لازمی طور پر پانچ خصوصیات کا حامل ہونا ضروری ہے:

اول: ممتاز عالم، فقیہ اور دانا حکیم ہو۔
دوم: عادل ہو؛ کسی پر ظلم نہ کیا ہو اور نہ ظلم کرے۔
سوم: متقی ہو؛ گناہ سے دور اور ذاتی مفادات میں مشغول نہ ہو۔
چہارم: زمانے کے مسائل سے آگاہ ہو۔
پنجم: بہادر ہو۔

اس حکمرانی کا تاریخی نمونہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام ہیں، جو انسانی تاریخ کے ممتاز ترین علماء اور پاکیزہ و عادل ترین حکمران تھے۔

موجودہ دور میں ایسی قیادت کی مثال شہید امام سید علی خامنہ ای تھے، جنہیں امریکی دہشت گرد فوج نے شہید کیا۔ وہ عوام کے ساتھ اس قدر عادلانہ اور محبت آمیز سلوک کرتے تھے کہ لوگ ہر روز ان کی رہنمائی کے مزید تشنہ ہوتے گئے۔ دنیا نے دیکھا کہ 37 سالہ قیادت کے بعد وہ عوام کے دلوں میں اس قدر مقام رکھتے تھے کہ کروڑوں افراد نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ انہیں الوداع کیا۔ انہیں صرف ایران میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے عوام میں بھی خاص احترام حاصل تھا۔ عراق میں، جو پہلے امریکہ کی اشتعال انگیزی اور صدام کے ظلم کے نتیجے میں 8 سال تک ہمارے ساتھ جنگ میں رہا تھا، عراق کے 12 ملین باشعور، کریم اور صاحبِ معرفت عوام نے ان کے جسد خاکی کو 80 کلومیٹر کے راستے پر 23 گھنٹے تک تشییع کیا اور ان کی جدائی میں اس ماں کی طرح روئے جس نے اپنا بچہ کھو دیا ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر یہی تشییع لندن اور نیویارک میں بھی ہوتی تو محبت اور جذبات سے بھرپور یہی مناظر دہرائے جاتے۔

امریکہ اور اسرائیل کی شکست کی بنیادی وجہ

ایسے مغرور کمانڈروں کی شکست جو بے مثال اور بے شمار ہتھیاروں پر فخر کرتے ہیں، لیکن ایک تھکی ہوئی، فرسودہ فوج رکھتے ہیں جس کے پاس کوئی مشترکہ مقصد اور نظریہ نہیں اور جو 70 سال سے مسلسل بے مقصد اور بے نتیجہ جنگوں میں مصروف ہے، نہ عجیب تھی اور نہ غیر متوقع۔ تاریخ کی تمام بڑی سلطنتیں ایسے ہی حالات میں زوال پذیر ہوئی ہیں۔

ایسی فوج جو یہ نہیں جانتی کہ اسے مسلسل دنیا کے مختلف حصوں میں کیوں لڑنا چاہیے؟ اسے ایسی جنگوں میں کیوں داخل ہونا چاہیے جن میں سے کسی کا انجام خوشگوار یا مفید نہیں رہا؟ اسے ایسے دولت جمع کرنے والے حکمرانوں کے لیے اپنی جان کیوں خطرے میں ڈالنی چاہیے جو قومی اور نظریاتی مقاصد کے لیے کبھی اپنے ذاتی مفادات سے دستبردار نہیں ہوتے؟ اسے غاصب اور وحشی اسرائیلی حکومت کے لیے کیوں لڑنا چاہیے؟ اسے ایسے نظریے کی پیروی کیوں کرنی چاہیے جو کسی انسانی حد اور اخلاقی قدر کا پابند نہیں؟ ایسی سوچ جس میں ظلم کو برا نہیں سمجھا جاتا، فوج کے لیے بچوں کے قاتل اور مجرم کہلانے کی رسوائی لاتی ہے۔ ایسی فوج جس کے پاس فخر کا کوئی قابلِ احترام نمونہ نہیں اور اسے مجبوراً خیالی فلموں اور پرتشدد کمپیوٹر گیمز سے تحریک حاصل کرنی پڑتی ہے۔ یہ تمام مسائل، جن میں سے ہر ایک اکیلا بھی کسی فوج کی شکست کے لیے کافی ہے، ایک بنیادی خامی کا نتیجہ ہیں: ’’اہل قیادت کا فقدان‘‘۔

لیکن امریکہ کی بے شمار ہتھیاروں کے باوجود شکست کی بنیادی وجہ صرف صالح قیادت کا فقدان نہیں ہے، بلکہ اگر امریکہ کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کو ایران میں قیادت کے لیے استعمال ہونے والے علم، حکمت، صداقت، پاکیزگی و تقویٰ، شجاعت اور زمانے کی آگاہی کے معیار پر پرکھا جائے تو آپ تسلیم کریں گے کہ حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین حد تک انہیں ان درست اہلیت کے معیار کے بالکل برعکس منتخب کیا گیا ہے۔

امریکی قومی سلامتی اور امریکی فوجیوں کا خون ایسے شخص کے سپرد ہے جو نہ صرف شدید جھوٹا ہے بلکہ دنیا اور دولت کا انتہائی حریص بھی ہے؛ وہ دولت مند ممالک سے تعلقات میں ان سے رشوت لیتا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں سرکاری اداروں کے بجائے اپنے خاندان کے افراد اور کاروباری شراکت داروں کو امریکہ کا نمائندہ بناتا ہے، حتیٰ کہ جنگ کی رفتار بھی امریکی قومی مفادات کے بجائے اپنی جیب بھرنے اور اپنے اور اپنے قریبی لوگوں کے لیے جائداد کی خرید و فروخت کی بنیاد پر طے کرتا ہے۔

یہ بالکل واضح ہے کہ ان دونوں رہنماؤں کے مقابلے میں خدا کس کی حمایت کرے گا؛ اور یہ بھی واضح ہے کہ مظلوم اور انصاف پسند اہلِ ایمان اور ظالم و جارح امریکی حکومت کے درمیان جنگ میں خدا کبھی ظالم اور بچوں کے قاتل لشکروں کا ساتھ نہیں دے گا۔

امریکی صدر مسلسل کہتے ہیں کہ ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج اور لامحدود ہتھیار ہیں۔ یہی حقیقت ان افواج کی اعلیٰ کمان کی نااہلی کی سب سے بڑی دلیل ہے، کیونکہ ایسی عظیم فوج رکھنے کے باوجود وہ ہمیشہ اور ہر جگہ شکست کھاتی ہے۔ ویتنام میں دائمی رسوائی چھوڑی، افغانستان سے فرار ہوئی، عراق سے نکالی گئی، یمن کی جنگ میں فرار ہوئی اور آج ایران میں سخت شکست کھا چکی ہے۔

کامیابی وسائل پر منحصر نہیں، خدا تمام طاقتوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ وہ جس کی مدد کرے وہ کامیاب ہے۔ وہی خدا جس نے نوح کو عالمگیر سیلاب کے ذریعے مستکبرین پر غالب کیا اور ابراہیم کو نمرود کی آگ سے نجات دی؛ وہی خدا جس نے یوسف کو کنویں کی گہرائی سے نکالا اور مصر کا حکمران بنایا، موسیٰ اور ان کی قوم کو سمندر پار کرایا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کیا؛ وہی خدا جس نے عیسیٰ کو مردوں کو زندہ کرنے کی اجازت دی، آج فرعونِ زمانہ کو غرق کرنا چاہتا ہے اور کرے گا۔

کیا ایرانی عوام امریکی عوام سے دشمنی رکھتے ہیں؟

اگر نہیں تو ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کا نعرہ کیوں؟

سپاہ کا دہشت گردی سے کیا تعلق ہے؟

 ایران اور امریکہ کی اقوام کا مشترکہ درد

ایرانی قوم اور امریکی قوم، دونوں کسی نہ کسی صورت میں وائٹ ہاؤس کے حکمرانوں کے ظلم کا شکار ہیں۔ ہمارے اور آپ کے مشترکہ درد کی جڑ یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے آمر حکمران، جو گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کے ووٹ حاصل کرتے ہیں، امریکی عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بلکہ بڑے صہیونی سرمایہ داروں کے نمائندے ہیں اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہ صرف دوسری اقوام کے حقوق بلکہ آپ کے حقوق بھی پامال کرتے ہیں اور ہمیشہ صہیونیوں کے مفادات کو امریکی عوام کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سربراہان امریکی عوام پر جو ظلم کرتے ہیں وہ دوسری اقوام پر ان کے ظلم سے کم نہیں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔

امریکہ کی آبادی دنیا کی آبادی کا ۴ فیصد ہے، لیکن دنیا کے ۲۰ فیصد قیدی امریکی جیلوں میں ہیں، جبکہ بہت سے ایسے کام جو دیگر ممالک میں جرم شمار ہوتے ہیں، امریکہ میں جرم نہیں ہیں۔

ہر سال1300 سے زیادہ امریکی شہریوں کو پولیس سڑکوں پر بغیر کسی عدالتی کارروائی کے گولی مار کر ہلاک کر دیتی ہے، ایسی تعداد کی مثال چین اور بھارت، جن میں سے ہر ایک کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے، میں بھی نہیں ملتی۔

وائٹ ہاؤس کے حکمرانوں نے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کو نہ صرف دوسری اقوام کے وسائل پر جابرانہ تسلط اور لوٹ مار کے لیے بلکہ امریکی قوم کے خلاف بھی استعمال کیا ہے۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ آج امریکی قوم کو کس قدر گہری تقسیم اور اختلافات کا شکار بنا دیا گیا ہے۔ ایسی شدید تقسیم جو خانہ جنگی کے زمانے سے اب تک بے مثال ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ہمیشہ امریکی قوم اور تمام دوسری اقوام کے مفادات کو اسرائیل کے مفادات پر قربان کیا ہے۔ یہاں تک کہ شدید ترین اقتصادی حالات میں، جبکہ کروڑوں امریکی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ہر سال اربوں ڈالر کی بلاعوض امداد اسرائیلی فوج کو دی جاتی ہے تاکہ وہ بچوں کا قتل جاری رکھ سکے۔ مزید ٹیکس لے کر ہزاروں کلومیٹر دور لڑی جانے والی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے ہزاروں ارب ڈالر کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکہ کو مہنگائی، بے روزگاری، غربت، فوجیوں کی ہلاکت اور بدنامی ملتی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے عوام کو موت، تباہی اور بے گھری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسا ملک جس کے پاس بے شمار سائنس دان، دانشور، فنکار اور کھیلوں کے ہیرو ہیں اور جو دنیا کا سب سے محبوب ملک بن سکتا ہے، آج بدعنوان سیاست دانوں کی کارکردگی کے باعث دنیا کا سب سے بدنام اور ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے۔

یہ اور اس طرح کی بہت سی دوسری نشانیاں اس بات کے واضح دلائل ہیں کہ ہم اور آپ ایک ہی درد رکھتے ہیں۔

’’مرگ بر امریکہ‘‘ سے مراد

لہٰذا ’’مرگ بر امریکہ‘‘ سے مراد امریکی عوام کی موت نہیں ہو سکتی، جو خود ظلم کا شکار ہیں۔ ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کا مطلب وائٹ ہاؤس کے ظالم حکمرانوں کے خلاف موت کا نعرہ ہے؛ یہ ظلم کے درد کی پکار ہے۔ کیا مظلوم سے یہ حق بھی چھین لیا جائے؟

وائٹ ہاؤس کے بادشاہ ہم پر بھی اور آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ہم نے اس ظلم سے نجات کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس راہ میں قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ اسلام طاقت اور زور پر مبنی اور ظلم، جہالت، گھٹن، آمریت، انسان کی تحقیر اور نسلوں، قوموں، خونوں اور زبانوں کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والے نظاموں کو مسترد کرتا ہے اور انہیں غلط قرار دیتا ہے۔ وہ ہر اس نظام اور شخص کے خلاف، جو اسلامی نظام سے ٹکرانے کے لیے کمر باندھے، شدت اور مزاحمت کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے، جبکہ ان کے علاوہ تمام انسانوں، خواہ ہم مذہب ہوں یا غیر ہم مذہب، کے ساتھ محبت اور مدد کا حکم دیتا ہے۔

دنیا میں کوئی بھی انقلاب عالمی نظامِ تسلط کی دشمنی سے محفوظ نہیں رہا؛ لیکن ۴۸ سال کے دوران ہمارے خلاف ہونے والی دشمنیوں کا تنوع، گہرائی، وسعت اور شدت ایک ایسی غیر معمولی داستان ہے جو اس خط میں بیان نہیں ہو سکتی۔ تاہم امریکی حکمرانوں کی جانب سے ایرانی قوم پر روا رکھے گئے ظلم کی فہرست کے ایک حصے کا جائزہ لینے سے نہ صرف آپ ہمیں دن رات ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کا نعرہ لگانے کا حق دیں گے بلکہ خود بھی ہمارے ساتھ یہ نعرہ دہرائیں گے۔

ایرانی قوم پر ۷۳ سال کے ظلم و جرائم کی مختصر فہرست

۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو شروع ہونے والی جنگ کسی دشمنی کا آغاز نہیں بلکہ ایرانی قوم کے خلاف امریکی حکومت کے ۷۳ سالہ ظلم و جرائم کی آخری کڑی ہے۔ یہ ظلم ۱۹۵۳ میں ایران کی قانونی حکومت کے خلاف بغاوت اور فرار ہونے والے آمر شاہ کو اقتدار میں لانے، ساواک اور خوفناک تشدد کے مراکز قائم کرنے، تیل کی لوٹ مار کی راہ ہموار کرنے کے لیے عوام کا قتل عام کرنے اور ایران کی خصوصی جغرافیائی حیثیت کو دوسرے ممالک پر تسلط کے لیے استعمال کرنے سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔

۱۹۷۹ میں ایرانی قوم نے شاہ پر غلبہ حاصل کیا اور ۲۵ سالہ تشدد اور قتل و غارت کا خاتمہ کیا، جو ایران میں موجود ۵۰ ہزار امریکی فوجی اور غیر فوجی مشیروں کی مدد سے انجام دیا جاتا تھا۔ ایرانی قوم کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہتی تھی، وہ صرف آزاد ہونا، اپنے وسائل کی مالک بننا اور اپنی قومی و مذہبی اقدار کی حفاظت کرنا چاہتی تھی۔ لیکن شاہ کی آمریت کے خاتمے کے فوراً بعد تہران میں امریکی سفارت خانہ، جو سفارت خانہ نہیں بلکہ خطے میں سی آئی اے کا مرکزی جاسوسی مرکز تھا، سرحدی علاقوں میں اقوام کو مسلح کرکے، انہیں انقلاب کی عوامی حکومت کے خلاف جنگ پر اکسا کر، شہری ہنگاموں کو منظم کرکے اور بار بار فوجی بغاوتیں کروا کر انقلابی عوامی حکومت کو گرانے کی کوشش کرتا رہا۔ ایرانی عوام کو اس بحران سازی سے نجات کے لیے امریکی جاسوسی اڈے پر قبضہ کرکے اس کا خاتمہ کرنا پڑا۔

پرتشدد دہشت گردی انقلاب کے خلاف دیگر دشمنانہ کارروائیوں میں شامل تھی۔ عوامی حمایت سے محروم گروہوں نے امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی حمایت سے سب سے بڑا دہشت گرد نیٹ ورک قائم کیا۔ انفرادی اور اجتماعی قتل، خوفناک دھماکے، طیارہ اغوا، اغوا کاری، تشدد اور ہولناک قتل عام وہ کارروائیاں تھیں جو امریکہ کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں انجام پائیں۔ اس ظلم و تشدد کی لہر کے متاثرین کی تعداد ۲۰ ہزار سے زیادہ تھی، جن میں صدر، وزیراعظم، چیف جسٹس، پارلیمنٹ کے ارکان، سائنس دانوں سے لے کر عام شہری، مزدور، محنت کش، خواتین، بچے اور بے خبر راہگیر سب شامل تھے۔

ان سازشوں کی ناکامی کے بعد امریکی حکومت نے عراق کے آمر صدام کو ایران کے خلاف جنگ پر اکسایا۔ کئی سال کی جنگ اور صدام کی شکست کے آثار ظاہر ہونے کے بعد امریکی فوج نے بعثی فوج کے ساتھ مشترکہ آپریشن روم قائم کرکے اپنے بحری جہاز خطے میں لائے اور صدام کو بچانے کے لیے بحران پیدا کرنے کی غرض سے ایرانی بحری جہازوں اور تیل کے پلیٹ فارموں پر براہِ راست حملے شروع کیے، صدام کی حکومت کو ایرانی اور عراقی شہریوں کے قتل کے لیے کیمیائی ہتھیار فراہم کیے اور ایرانی مسافر طیارے پر حملہ کرکے ۲۹۰ مردوں، خواتین اور بچوں کو شہید کر دیا۔

آٹھ سال گزرنے اور مسلط کردہ جنگ میں شکست کے بعد وائٹ ہاؤس نے، جس نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز ہی سے امریکی مرکزی حکومت کے زیر کنٹرول بینکوں میں ایرانی اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد اور اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، ایک نئے اقدام کے طور پر ایران کے خلاف تاریخ کی بے مثال اقتصادی پابندیاں نافذ کر دیں۔

اسی دوران ایرانی عوام کے خلاف نفسیاتی جنگ کے لیے انہی سابق شکست خوردہ دہشت گردوں کے ذریعے، جن میں سے اکثر اپنے جرائم کی ذمہ داری بھی قبول کر چکے تھے، امریکہ اور یورپ میں درجنوں سیٹلائٹ چینلز قائم کیے گئے جو ایران کی سلامتی کو متاثر کرنے کے لیے فکری جنگ میں مصروف تھے۔ دہشت گرد گروہوں اور غنڈہ عناصر کو مسلح کیا گیا۔ ایران میں کئی مرتبہ بدامنی پیدا کرنے کے باوجود امریکی حکومت ایران کے انقلابی نظام کو گرانے کے مطلوبہ مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی۔ آخرکار امریکی حکومت نے داعش کو قائم کرکے شام، عراق اور ایران میں عام شہریوں کا بے رحمانہ قتل عام شروع کرنے کی اپنی نئی چال آزمائی۔ جب طویل اور سخت جنگ میں داعش مزاحمتی قوتوں سے شکست کھا گئی تو داعش کے خلاف جنگ کے ہیرو جنرل سلیمانی، جنہوں نے ایک اختراعی جنگ کے ذریعے داعش کو شکست دی تھی، کو امریکی صدر ٹرمپ کے حکم پر عراق کے سرکاری دورے کے دوران امریکی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے قتل کر دیا گیا۔

یہ ایرانی قوم کے خلاف امریکی حکومت کی شرارتوں کا صرف ایک حصہ ہے۔ ان بڑے جرائم کے درمیان بھی ہمارے خلاف دیگر دشمنانہ کارروائیاں مسلسل جاری رہیں۔ افغانستان پر قبضہ، وہاں منشیات کی پیداوار میں اضافہ اور ایرانی نوجوانوں میں سستی قیمت پر اس کی تقسیم، سائبر اسپیس کے ذریعے خاندان سے باہر تعلقات کے کلچر کو فروغ دے کر خاندانوں کو توڑنے کی کوشش، مذہبی مراکز میں دھماکوں کے لیے دہشت گرد گروہوں کا قیام، مساجد، کتب خانوں اور دینی علوم کے مراکز کو آگ لگانا، اور ایسی دواؤں پر پابندیاں جن کے نتیجے میں ای بی کے مریضوں کی موت واقع ہوئی، نیز سینکڑوں دیگر غیر انسانی اور تخریبی اقدامات، جن کی صرف فہرست ایک مکمل کتاب کے برابر ہے۔

ان تمام جنگوں اور سازشوں کی ناکامی اور ایران کے خلاف بالواسطہ جنگوں اور سازشوں کے بے نتیجہ ہونے کے بعد امریکی حکومت نے براہِ راست جنگ کا راستہ اختیار کیا اور جون2025 میں صہیونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی، لیکن یہ جنگ بھی ایک ہزار سے زائد ایرانی شہریوں، جن میں درجنوں سائنس دان اور 120سے زائد بچے شامل تھے، کی شہادت کے باوجود ۱۲ دن کے اندر امریکہ اور صہیونی حکومت کی شکست کے ساتھ ختم ہوگئی۔

امریکہ اور اسرائیل نے 12 روزہ جنگ میں اپنی شکست کی وجہ ایران کا داخلی استحکام قرار دیا اور یہ تصور کیا کہ اگر پہلے داخلی صورتِ حال کو خراب کیا جائے اور پھر حملہ کیا جائے تو وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے دہشت گرد عناصر بھیجے، بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کیے اور جنوری2026 میں نفسیاتی و میڈیا جنگ کے ذریعے بدامنی پیدا کی۔ سی آئی اے اور موساد کے ایجنٹوں نے مظاہرین میں نفوذ کرکے 2300 سے زیادہ اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کو شہید کیا، تاکہ خود جن افراد کے قتل کے ذمہ دار تھے، ان کے قتل کی تعداد میں اضافہ کرکے اسلامی نظام پر قتل عام کا الزام عائد کیا جا سکے اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرکے ایرانیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے اور ایک فریق کی حمایت کے بہانے جنگ میں داخل ہوا جائے۔ یہ بڑی سازش بھی عوام کی بیداری، اتحاد برقرار رکھنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بروقت ردعمل کے باعث ناکام ہوگئی۔

امریکی حکومت نے اسلامی انقلاب سے 48 سال کی مسلسل شکست کی وجوہات سے سبق سیکھنے اور ان کی جڑ تلاش کرنے کے بجائے ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو صہیونیوں کے ساتھ اتحاد کرکے ہمارے خلاف ایک نئی جنگ شروع کر دی، جو اب تک جاری ہے۔ اس جنگ میں ایران کی فتح کے آثار ہر روز مزید نمایاں ہو رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ امریکہ بھی جلد حتمی شکست کا مزہ چکھے گا۔

آپ نے جو شرارتوں کی فہرست دیکھی ہے وہ امریکی عوام کے خلاف فردِ جرم نہیں بلکہ امریکی حکومت کے سربراہان کے سیاہ کارنامے کا ایک حصہ ہے۔ ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کا نعرہ ان جرائم کے خلاف ہے، امریکی عوام کے خلاف نہیں۔ اگر امریکی عوام کو معلوم ہو کہ ان کی حکومت نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے تو وہ خود اس فردِ جرم پر دستخط کریں گے۔

یہ بے سبب نہیں کہ گزشتہ 48 برسوں میں کسی امریکی صدر نے کبھی اسلامی جمہوریہ ایران کے کسی صحافی کے سامنے بیٹھ کر اس کے سوالات کے جوابات دینے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسے انٹرویو میں وہ امریکہ میں اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کی رائے عامہ کو بھی قائل نہیں کر سکیں گے اور اس کا نتیجہ ایران کی حقانیت کے اثبات کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

سپاہ کا دہشت گردی سے تعلق

ہمیشہ کی طرح عالمی نظامِ تسلط تصورات کے ساتھ اپنی مرضی سے کھیلتا ہے، انہیں اپنے مفادات کے مطابق تبدیل کرتا ہے اور انہیں رائج کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرتا ہے۔ دہشت گردی اور انسانی حقوق ایسے ہی تبدیل شدہ تصورات کی مثالیں ہیں۔

سیاست کے حیرت انگیز کھیلوں میں سے ایک یہ ہے کہ دہشت گردی کے سب سے مظلوم متاثرین ہی پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے، اور وہ بھی ان لوگوں کی جانب سے جو خود دہشت گردوں کو منظم اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جو لوگ ظلم اور قبضے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں انہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے اور جیسے ہی وہ ہتھیار ڈال کر قابضین کے جرائم میں شریک ہوجائیں، انہیں دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں صہیونیت کے مفادات کی تکمیل کے سوا کوئی معیار موجود نہیں۔

ہمارے انقلاب اور اس کی حفاظت کے لیے قائم سپاہ پاسداران کے بارے میں معمول سے زیادہ متعصبانہ یا جاہلانہ باتیں کی گئی ہیں۔ یہ انقلاب اپنے آغاز ہی میں سو فیصد عوامی تھا۔ نہ کوئی مسلح گوریلا گروہ، نہ کوئی فعال سیاسی و فوجی جماعت، نہ انقلابی اور آزادی پسند افسران کا گروہ اور نہ ہی کوئی دوسری روایتی قوت جو عام طور پر ممالک میں انقلابی تبدیلیاں لاتی ہے، ہمارے انقلاب میں موجود تھی۔ صرف عوام تھے، اور وہ بھی بالکل غیر مسلح اور خالی ہاتھ۔ ان کا ہتھیار ایمان، مضبوط ارادہ اور ان کا خون تھا۔ ہمارے انقلاب میں حقیقتاً خون نے تلوار پر فتح حاصل کی۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کے آئین کے مطابق انقلاب کی حفاظت کے لیے لاکھوں عوام پر مشتمل ایک مکمل عوامی ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارے کا نام ’’سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی‘‘ رکھا گیا تاکہ عوام کی لاکھوں نفری کو متحرک کرکے عوام کے انقلاب کی آزادی، خود مختاری اور کامیابیوں کو سازشوں کے مقابل محفوظ رکھا جا سکے۔ اگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی حکومت اور بعض استعماری یورپی حکومتیں سپاہ کو دہشت گرد قرار دیتی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بغاوتوں، قتل، سازشوں، مسلط کردہ جنگوں اور دیگر استعماری اہداف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ، جن کے ایک حصے کی فہرست آپ نے دیکھی، سپاہ رہی ہے۔

سپاہ پاسداران کا جرم یہ ہے کہ وہ ان جنگوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں دشمن کی شکست کا بنیادی عامل رہی ہے۔ ہمارے پاس خطے کے سینکڑوں ممتاز سیاسی، مذہبی اور علمی شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں نے قتل کیا، لیکن سپاہ کو دہشت گرد قرار دینے والوں کے ہاتھ کسی بھی ثبوت سے خالی ہیں۔

اگر کوئی بھی علمی ادارہ اسلامی انقلاب کی48 سالہ تاریخ کا تحقیق و مطالعہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ سپاہ کوئی دہشت گرد ادارہ نہیں بلکہ دنیا کا سب سے بڑا اور کامیاب ترین دہشت گردی مخالف ادارہ ہے۔

امریکی حکومت زوال کی طرف کیوں بڑھ رہی ہے؟

ظلم و زیادتی اور خونریزی میں حد سے تجاوز، جھوٹ کا فروغ، کم تر لوگوں کو فضلا اور دانشوروں پر ترجیح دینا، ضمنی مسائل میں الجھ جانا اور بنیادی مسائل سے غفلت، وہ عوامل ہیں جنہیں تاریخ کے ممتاز حکما حکومتوں کے خاتمے اور زوال کی علامات قرار دیتے ہیں اور یہ تمام خصوصیات آج کی امریکی حکمرانی کی صورتِ حال پر صادق آتی ہیں۔

اگر ’’وائٹ ہاؤس‘‘ کا نام عمارت کے رنگ کے بجائے اس کی ماہیت کی بنیاد پر رکھا جائے تو ’’ظلم کا محل‘‘ اس کے لیے سب سے موزوں نام ہوگا۔

دنیا میں امریکی جارحیت اور تشدد کی تاریخ

صرف ایران ہی امریکی حکومت کے بھیانک جرائم کا نشانہ نہیں رہا۔ بیسویں صدی کے وسط سے، جب امریکہ ایک سپر پاور کے طور پر ابھرا، کم از کم 70 ممالک امریکی فوجی جارحیت، بغاوتوں یا براہِ راست تخریبی مداخلت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جاپان، کوریا، ویتنام، کمبوڈیا، فلپائن، لیبیا، سوڈان، افغانستان، عراق اور شام جیسے متعدد ممالک کے عوام نے امریکہ کے ہاتھوں لاکھوں افراد کے قتل عام اور بعض اوقات لاکھوں افراد کی نسل کشی کا تجربہ کیا ہے، جبکہ کیوبا، میکسیکو، نکاراگوا، وینزویلا، پاناما، چلی، برازیل، لبنان اور فلسطین سمیت درجنوں دیگر ممالک کے جسم پر امریکی حکومت کے گہرے زخم موجود ہیں۔

اکثر ظالم آمریتیں، غیر جمہوری ممالک اور ایسے بادشاہتیں جہاں انتخابات نہیں ہوتے، امریکہ کے اہم اتحادی ہیں۔ امریکہ کی دشمنی ان ممالک سے ہے جہاں مضبوط ترین جمہوریتیں اور عوام کے ووٹ پر سب سے زیادہ انحصار موجود ہے۔ جہاں بھی بغاوت اور عوامی حکومتوں کو گرانے کی بات ہوتی ہے، وہاں سی آئی اے کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ یہی حقائق آج امریکی حکومت کو دنیا کے عوام میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ حکومت بنا چکے ہیں اور انہی وجوہات کی بنا پر دنیا کے عوام امریکہ کو ’’شیطان بزرگ‘‘ سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر کے آزادی پسند اور انصاف پسند مظاہروں میں امریکی پرچم کو ظلم کی علامت کے طور پر جلایا جاتا ہے اور آج دنیا کے عوام امریکی اور اسرائیلی فوجوں کو ’’بچوں کے قاتل لشکر‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی نہ ختم ہونے والی حمایت اور سینکڑوں ارب ڈالر کی امداد کے باعث 80 برس سے دنیا فلسطینی عوام پر ظلم سے دوچار ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں یہ ظلم عروج پر پہنچا اور غزہ میں ۷۳۹۰۰ سے زیادہ افراد کی نسل کشی، ۲۱۷۰۰ سے زائد معصوم بچوں کے دردناک قتل اور ۳۱۵۰۰۰ گھروں کی تباہی پر منتج ہوا۔ غزہ کے تمام طبی مراکز امریکی فراہم کردہ بموں سے تباہ کیے گئے، یہاں تک کہ ایک دن کے نوزائیدہ بچوں کی آکسیجن بھی بند کردی گئی اور درجنوں نومولود بچوں کو کیمروں کے سامنے قتل کیا گیا۔ اب بھی بعض ڈاکٹر اور نرسیں قید ہیں۔ گیارہ جامعات اور ۵۶۰ اسکولوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ دو ملین انسان خوراک، پانی، بجلی، ادویات اور ایندھن کی پابندیوں کے بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جرائم کی شدت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ جس انسان میں ذرہ بھر بھی ضمیر ہو، اس کے لیے یہ قابلِ برداشت نہیں۔ یہاں تک کہ ہم نے امریکی فوج کے ایک آزاد منش اور بہادر نوجوان فوجی، مرحوم ’’آرون بوشنل‘‘ کو دیکھا جس نے احتجاجاً واشنگٹن میں صہیونی حکومت کے سفارت خانے کے سامنے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی اور جان دے دی۔

جھوٹ، امریکی حکمران کی بنیاد

وائٹ ہاؤس کے اہم ترین فیصلہ کن اقدامات جھوٹ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ وہاں جھوٹوں کا کوئی اختتام نہیں، ایسے جھوٹ جن میں سے ہر ایک نے دنیا میں ایک تباہی پیدا کی ہے۔ انہیں ان جھوٹوں کی رسوائی کی کوئی پروا نہیں۔ جڑواں ٹاورز پر حملے میں افغانستان کے کردار کا جھوٹ، عراق میں غیر روایتی ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹ اور صدی کا سب سے بڑا جھوٹ، یعنی ایران کے جوہری بم کے دعوے کا جھوٹ، جسے ایک سادہ لوح شخص بھی جھوٹ ثابت کر سکتا ہے۔

• ۲۵ سال سے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے سے چند ماہ یا چند ہفتے دور ہے۔ اگر یہ بات جھوٹ نہیں تھی اور ایران ایسا ارادہ رکھتا تھا تو ۲۵ سال بعد بھی یہ چند ہفتوں کا راستہ کیوں طے نہیں کیا گیا؟

• اگر وائٹ ہاؤس کا یہ دعویٰ جھوٹ نہیں کہ اسے ایران کے ایٹم بم سے مسلح ہونے کی تشویش ہے تو امریکی صدر نے ’’برجام‘‘ کے معاہدے کو کیوں پھاڑا، جو ایران، امریکہ، چین، روس اور تین یورپی ممالک کے درمیان طے پایا تھا، جس میں امریکہ اور یورپ کی مسلسل نگرانی کے ذریعے ایران کے جوہری بم نہ بنانے کی ضمانت موجود تھی اور جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد نافذ ہوا تھا؟

• اگر امریکی صدر کے سرکاری بیانات اور بار بار کے دعوے، جن میں انہوں نے جون ۲۰۲۵ میں ایران پر جارحیت کے بعد کئی مرتبہ کہا کہ ہم نے ایران کی تمام جوہری صلاحیت تباہ کردی ہے، جھوٹ نہیں تھے تو ۹ اسفند ۱۴۰۴ کو اسی بہانے سے دوبارہ ایران پر حملہ کیوں کیا گیا؟ ایران کی جوہری ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے دعوے کے بعد بھی بار بار ہونے والے حملوں کے باوجود جوہری صلاحیت کا وجود جنگ جاری رکھنے کا بہانہ کیوں بنا ہوا ہے؟

• اگر ایران پر حملے کا دعویٰ ایران کو ایٹمی بم سے مسلح ہونے سے روکنے کے لیے پیشگی اقدام کے طور پر کیا گیا تھا تو حملے کے آغاز میں دنیا کے شیعہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دینی مرجع کو، جنہوں نے جوہری بم کے حرام ہونے کا تاریخی فتویٰ دیا تھا، کیوں شہید کیا گیا؟

ایران کا ایک مختصر سفر آپ کو ثابت کر دے گا کہ وائٹ ہاؤس ایران کے بارے میں دنیا سے مسلسل ہر چیز کے متعلق جھوٹ بولتا ہے؛ آمریت اور عوام کے قتل کے الزام سے لے کر ایران کی سائنسی و اقتصادی صورتِ حال، عوام کے حکومت سے تعلقات اور ایران کے بارے میں آپ کو بتائی جانے والی دیگر تمام باتوں تک۔

کاش وائٹ ہاؤس کے جھوٹ صرف ایران اور دوسرے ممالک کے بارے میں ہوتے۔ وہ سب سے زیادہ آپ سے خود امریکہ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ تمام جنگوں کا خاتمہ کریں گے، دنیا میں امریکی مداخلت ختم کریں گے، واشنگٹن کی دلدل خشک کریں گے اور ارب پتیوں کے خلاف کھڑے ہوں گے؛ لیکن ہم سب نے دیکھا کہ عوام سے ووٹ لینے کے بعد ان کی مداخلت سے یوکرین، غزہ، لبنان اور یمن کی جنگیں مزید شدت اختیار کر گئیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ امریکہ کے سب سے زیادہ جنگ پسند صدور میں سے ایک ہیں اور انہوں نے موجودہ جنگوں میں ایران کی جنگ شامل کرکے امریکہ کی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگ شروع کر دی، ایسی جنگ جو امریکی تسلط کا خاتمہ کرے گی۔ اس کے علاوہ یمن اور سعودی عرب کی جنگ بھی دوبارہ شروع ہوگئی۔ وہ ان جنگوں میں انسانی جانی نقصان، فوجی نقصانات اور حتیٰ کہ جنگی اخراجات کے بارے میں بھی آپ سے شدید جھوٹ بولتے ہیں اور انہیں حقیقت سے کئی گنا کم ظاہر کرتے ہیں۔

واشنگٹن کی دلدل خشک کرنے کا جھوٹا وعدہ پورا نہ ہوا؛ جنگوں اور مداخلتوں کے خاتمے کے وعدے کے بجائے گرین لینڈ اور کینیڈا جیسے تنازعات بھی امریکہ کی مشکلات میں شامل ہوگئے۔ سستی اور فراوانی کا جھوٹا وعدہ بھی اس وقت حقیقت کے برعکس ثابت ہوا جب ممالک نے امریکی بانڈز خریدنے سے گریز کیا اور ایندھن و اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے اور اقتصادی بدنامی کے ساتھ امریکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔

جب امریکی معاشرہ، جو اپنے اندر سچائی کو ایک معتبر قدر سمجھتا ہے، مسلسل اپنی حکومت کی باگ ڈور ایسے جھوٹوں کے ہاتھ میں دیتا رہے تو زوال کے سوا اس کا کیا انجام ہو سکتا ہے؟

فضلا اور دانشوروں پر کم تر لوگوں کو ترجیح دینا

ملک کے سربراہ ایسے بے عقل اور بے حکمت رہنماؤں کا بن جانا جو اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتے اور دور اندیشی و مستقبل بینی کے بغیر غلط اہداف اور منصوبے اختیار کرتے ہیں، جن کے نتائج سے نمٹنے کے لیے کئی گنا زیادہ اخراجات کرنا پڑتے ہیں، اور ’’معیوب چکروں‘‘ کو جنم دیتے ہیں جو گرداب کی طرح آپ کے ملک کو اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں۔

وہ بے گناہوں پر بمباری اور قتل عام کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ جب امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کے خلاف دنیا بھر میں نفرت کی لہر اٹھتی ہے تو دوبارہ کئی ارب ڈالر میڈیا کو دیتے ہیں تاکہ ان کی نفرت انگیز شکل کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے۔ دنیا کے ۸ ارب انسانوں میں کیا کوئی ایسا ہے جو ویتنام میں امریکی فوج کی کارکردگی کی تعریف کرے؟

وہ آزادی پسند ممالک میں مداخلت، عدم تحفظ اور بدامنی پھیلانے یا ممالک کی دولت لوٹ کر ان کے عوام کو غربت میں رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ نتیجتاً غریب اور بدحال ممالک کے عوام کی ہجرت کا سیلاب مغرب کی طرف آتا ہے، پھر وہ مہاجرین کو کنٹرول کرنے اور ملک بدر کرنے کے لیے دوبارہ اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔

پوری دنیا کی معیشت پر غلبہ حاصل کرنے کی لالچ میں اقتصادی عالمگیریت کا منصوبہ بنایا جاتا ہے اور بغیر کسی دوراندیشی کے ۲۰ سال تک آزاد تجارت اور محصولات کی ممانعت کا ڈھول پیٹا جاتا ہے۔ جب اس کے نتیجے میں زیادہ تر پیداوار امریکہ سے باہر منتقل ہوگئی تو دوبارہ بغیر دوراندیشی اور عجلت میں بھاری اور عجیب و غریب محصولات عائد کیے گئے، جس سے حالات مزید خراب ہوگئے۔

زیادہ منافع کے لیے ماحولیاتی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوتے ہیں اور پھر آلودگی ختم کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید ٹیکس عائد کرتے ہیں۔

ضمنی مسائل میں الجھنا اور بنیادی مسائل سے غفلت

امریکی صدر ملک کو وائٹ ہاؤس کے رقص ہال، جھیل اونٹاریو اور خلیج میکسیکو کے نام تبدیل کرنے، عکاسی والے تالاب کو رنگنے اور کینیڈی سینٹر کی تختیوں پر اپنا نام درج کرنے جیسے ضمنی معاملات میں الجھاتے ہیں، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے، امریکی عوام کی صحت، رہائش کے اخراجات اور دیگر بنیادی مسائل کے معاملات نظر انداز ہو رہے ہیں۔

شاہ کی آمرانہ حکومت کے باقی ماندہ عناصر کی غلط معلومات کی بنیاد پر جذباتی فیصلوں کے ذریعے ایرانی عوام کو اسلامی نظام کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے ہزاروں جدید میزائل چھوٹی پولیس اور بسیج یونٹوں اور چیک پوسٹوں پر فائر کیے گئے، جبکہ خالی کی گئی عمارتوں کی قیمت بھی دس ہزار ڈالر تک نہیں پہنچتی تھی۔ اس طرح میزائلوں کے ذخائر انتہائی کم قیمت اہداف پر ضائع کیے گئے۔ اس کا نتیجہ بھی بالکل الٹا نکلا اور ایرانی عوام کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے کے بجائے امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب ملی، یہاں تک کہ ایک بے مثال اور تاریخی واقعے میں ۲۱۰ راتوں سے لاکھوں ایرانی عوام بغیر ایک رات بھی تعطیل کیے پورے ایران میں امریکہ کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے اور اجتماعات کر رہے ہیں۔

صرف چین کی مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی اور امریکہ کے اسی سات ماہ کے دوران پیچھے رہ جانے کی رپورٹس کا جائزہ لے لیں، جس عرصے میں آپ کے صدر نے امریکی قومی صلاحیتوں کو ایک ثانوی مسئلے اور بے نتیجہ جنگ میں الجھا رکھا ہے، تو آپ سمجھ جائیں گے کہ امریکہ کیوں زوال کی طرف جا رہا ہے۔

امریکہ کے ضمنی مسائل میں الجھنے کی ایک مثال افغانستان اور عراق میں بے مقصد، مہنگی اور بے فائدہ جنگیں ہیں۔ امریکی فوج نے بظاہر عراق اور افغانستان کے عوام کی مدد کے بہانے ان دونوں ممالک پر قبضہ کیا، ایسے وقت میں جب ان ممالک کے عوام مرکزی حکومت کے ساتھ تنازعات میں بعض علاقوں کا کنٹرول حکومت سے چھین چکے تھے۔ لیکن تشدد کے مراکز قائم کرنے اور عام شہریوں کے قتل عام جیسے مجرمانہ رویے کے باعث امریکی فوج نے عوام کو اپنے خلاف کر دیا اور انہیں امریکہ کے خلاف جدوجہد اور اسے نکالنے پر پختہ کر دیا۔

افغانستان میں ۲۰ سال کی جنگ، ۳ ٹریلین ڈالر کے اخراجات اور امریکی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم ۲۳۵۴ امریکی فوجیوں اور ۱۶۸۰۰۰ افغان شہریوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج کی کامیابی یہ رہی کہ ۸۵ ارب ڈالر کے ہتھیار اور سازوسامان چھوڑ کر شرمناک انداز میں وہاں سے فرار ہوگئی۔ کابل میں امریکی سفارت خانہ بند ہوگیا اور تمام امریکیوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ حکومت اسی قوت کے ہاتھ میں چلی گئی جسے ہٹانے کے لیے امریکہ نے ۲۰ سال قبل افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

اگر امریکی قیادت ذرا سی عقل سے کام لیتی تو افغانستان کی جنگ کے اخراجات کے ۳ فیصد سے بھی کم رقم، یعنی افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کی قیمت سے بھی کم رقم سے، ہر افغان خاندان کے لیے ایک گھر بنا سکتی تھی اور عوام کو اپنا ہمنوا بنا کر امریکی پرچم کو، جو آج کابل میں عوام کے قدموں تلے روندہ جا رہا ہے، کئی نسلوں تک افغانستان میں بلند رکھ سکتی تھی۔ لیکن جب امریکی مسلح افواج کی کمان ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جس کی ترجیح اسلحہ ساز فیکٹریوں کے شراکت داروں کی جیب بھرنا ہو تو استعمار کے لیے بھی درست طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ ان رویوں کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ اب کوئی شخص اپنی امریکی شہریت پر فخر نہیں کر سکتا۔

عراق میں ۸ سال اور ۸ ماہ کی جنگ، ۴ ٹریلین ڈالر کے اخراجات، امریکی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۴۸۰۰ امریکی فوجیوں اور کم از کم ۲۶۵۰۰۰ عراقیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج کی کامیابی یہ تھی کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی صدام کی حکومت گر گئی اور ایک کے بعد دوسرا ایران دوست حکومتیں اقتدار میں آئیں۔ عراقی پارلیمنٹ نے امریکہ کے انخلا کا منصوبہ منظور کیا، امریکی فوج کے ایک اڈے کے علاوہ تمام اڈے ختم کردیئے گئے اور باقی رہ جانے والا اڈہ، جو اربیل میں ہے اور جنگ کے دوران مسلسل عراقی عوام کی گولہ باری کی زد میں رہا، ان دنوں عراق سے آخری امریکی فوجیوں کے جبری انخلا کے مرحلے میں ہے۔

امریکی حکومت نہ صرف ان دونوں ممالک میں انتہائی ناپسندیدہ ہے، یہاں تک کہ کوئی امریکی اہلکار حفاظتی دستے کے ساتھ بھی کابل یا بغداد کی سڑکوں پر چلنے کی جرأت نہیں کرتا، بلکہ ابو غریب، بگرام اور گوانتانامو کے تشدد کے مراکز کی خبریں اور ان کی تصاویر منظر عام پر آنے سے دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ گئی۔

ثانوی کاموں اور بے نتیجہ جنگوں میں مصروف ہونے کے اقتصادی نتائج

گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ مہنگی اور بے نتیجہ جنگیں امریکی معیشت اور ترقی کے لیے بدبختی کے سوا کچھ نہیں لائیں۔ عالمی مجموعی پیداوار میں امریکہ کا حصہ ۲۰۰۰ میں ۲۳.۵ فیصد سے کم ہوکر تقریباً ۱۴ فیصد رہ گیا ہے۔ ایسے اخراجات جن کا کوئی اقتصادی نتیجہ نہیں نکلا، جیسے دہشت گردوں کی مدد اور سینکڑوں ایران مخالف میڈیا ادارے اور بدامنی پھیلانے پر خرچ کیے گئے سینکڑوں ارب ڈالر، اور بالخصوص مغربی ایشیا میں بے نتیجہ جنگ پر خرچ کیے گئے ۸ ٹریلین ڈالر نے امریکہ کو ۴۰ ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے قرض کے ساتھ تاریخ کا سب سے مقروض ملک بنا دیا ہے، اور یہ بڑھتا ہوا قرض آپ کی معیشت کو تیزی سے اپنے اندر نگل رہا ہے۔

امریکہ ایک ایسے ملک سے، جس کی بنیادی آمدنی جدید ٹیکنالوجی کی برآمدات تھی، ایک ایسے تیسری دنیا کے ملک سے مشابہ ہوگیا ہے جسے زیرِ زمین وسائل کی خام فروشی پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ ان برسوں میں امریکہ دنیا کے اہم ترین کوئلہ اور خام تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ امریکہ کی خام تیل کی برآمدات ۲۰۱۵ میں ۵ لاکھ بیرل سے بڑھ کر ۴ ملین بیرل روزانہ سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ امریکی معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کو خام مال فروخت کرنا ہوگا تاکہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک صارفین کی اشیا تیار کرکے امریکہ کو برآمد کریں۔ یہی آپ کی معیشت کی حقیقت ہے۔

زوال پذیر امریکی معیشت کو بچانے کے لیے امریکی حکومت نے عجلت میں اقتصادی عالمگیریت، آزاد تجارت اور بغیر محصولات کی دنیا، جسے پہلے لبرل معیشت کی ترقی سمجھا جاتا تھا اور جس پر فخر کیا جاتا تھا، کو ترک کرکے ۱۸۰ درجے کا رخ بدلتے ہوئے غیر معقول محصولات کا سہارا لیا اور غیر متوازن رویے سے اپنے تمام اتحادیوں کو امریکہ کا سب سے بڑا دشمن بنا دیا۔

اس خراب صورتِ حال کے آثار ۴۰ ملین افراد کے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے اور بڑے امریکی شہروں میں لاکھوں جھونپڑیوں اور سڑکوں پر زندگی گزارنے والوں کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں، اور یہ ابھی آغاز ہے۔ کیا واقعی ایسے فیصلہ ساز اس بات کے اہل ہیں کہ دنیا کے سب سے مسلح ملک کی جنگ اور امن کا اختیار انہیں سونپا جائے؟

امریکی حکمران ذاتی مفادات اور عالمی صہیونزم کے دولت مند بڑے لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے دنیا کے ۲۰ ملین سے بھی کم صہیونیوں کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر امریکہ کو دو ارب مسلمانوں کے مقابل کھڑا کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ عمل امریکی حکمرانی کے نظام کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ اقوام کا دور آ چکا ہے اور طاقت پر مبنی ایسے تعلقات پائیدار نہیں ہو سکتے۔

تاریخ میں ہر وہ ملک جو دنیا کی واحد سپر پاور بنا، اس نے سو سال سے زیادہ عالمی طاقت کو برقرار رکھا، سوائے امریکہ کے، جس کی بے تدبیری اور نااہل رہنماؤں کی بدعنوانی کے باعث اس کی بلاشرکت غیرے سپر پاور کی حیثیت ۳۰ سال سے بھی کم عرصے میں ختم ہوگئی۔

امریکی عوام کی تباہی اور ظالمانہ جارحیت کے نتائج سے نجات کا راستہ

امریکہ کے زوال کا باعث بننے والے ان رجحانات کو کیسے روکا جا سکتا ہے اور امریکی قوم کو اس تباہی کے انجام سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ خدا نے اس سوال کا جواب مختلف آسمانی کتابوں میں دیا ہے۔

مقدس کتاب، عہد نامہ قدیم، یرمیا ۱۸:۷-۱۰ میں فرمایا گیا ہے:

کبھی میں کسی قوم یا مملکت کے بارے میں اعلان کرتا ہوں کہ اسے جڑ سے اکھاڑ دوں گا، گرا دوں گا اور تباہ کردوں گا۔

لیکن اگر وہ قوم، جس کے بارے میں میں نے یہ کہا ہے، اپنی برائی سے باز آ جائے تو میں بھی اس آفت سے باز آ جاؤں گا جو میں نے اس پر نازل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

 اور کبھی میں کسی قوم یا مملکت کے بارے میں اعلان کرتا ہوں کہ اسے تعمیر کروں گا اور آباد کروں گا۔

لیکن اگر وہ قوم میری نظر میں برائی کرے اور میری آواز نہ سنے تو میں بھی اس خیر سے باز آ جاؤں گا جو میں نے اس کے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

قرآن، مسلمانوں کی آسمانی کتاب میں بھی یہی مضمون واضح طور پر بیان ہوا ہے:’’خدا کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کے لیے نہ اٹھ کھڑی ہو۔‘‘(قرآن کریم، ۱۳:۱۱)

جب تک آپ کی طرف سے کوئی اقدام نہیں ہوگا، خدا آپ کی قسمت میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ بحمدللہ امریکی قوم کا ضمیر بیدار ہو چکا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں نسل کشی کے خلاف مظاہروں میں امریکی عوام کی مسلسل نفرت کا اظہار اور ’’شاہ کو نہیں‘‘ کے مظاہروں میں آمریت کی طرف امریکی حکومتی ڈھانچے کے جھکاؤ پر نفرت کا اظہار، آپ کے اجتماعی ضمیر کے بیدار ہونے کی علامت ہے۔

حکومت کے خلاف طلبہ اور اساتذہ کے احتجاج اور فوجی و حکومتی مقاصد اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون کے مشتبہ اداروں سے متعلق تحقیقی منصوبوں میں شرکت سے انکار بالکل بجا ہے۔ ایک طالب علم یا استاد محقق جب دیکھتا ہے کہ اس کی علمی کوشش کا نتیجہ ملک کے دفاع کے بجائے بچوں اور بے دفاع خواتین کے قتل، اسپتالوں، جامعات اور رہائشی مکانات پر حملوں میں استعمال ہو رہا ہے تو وہ افسردہ ہوجاتا ہے اور سکون سے سو نہیں سکتا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت، خصوصاً نوجوان، اب دوسری اقوام، بالخصوص مظلوم اور مزاحمت کرنے والی فلسطینی قوم کے خلاف جرائم میں شریک نہیں ہونا چاہتے۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے لوگ بھی، جو موجودہ امریکی حکومت کے ووٹر تھے، اس کی تباہ کن پالیسیوں کو دیکھ کر اہم بنیادی سوالات اٹھا رہے ہیں اور ان پالیسیوں، بالخصوص ایران کے خلاف جنگ، میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دنیا کے عوام آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کام مکمل کریں۔ اٹھ کھڑے ہوں اور اس بدبخت صورتِ حال کا خاتمہ کریں۔ اپنی حکومت کو اس شرمناک استعماری عادت کو جاری رکھنے کی اجازت نہ دیں کہ فوج کی طاقت یا جاسوسی اداروں کے فریب کے ذریعے آمروں کو ممالک پر مسلط کرے اور ان کے ذریعے ممالک کے وسائل لوٹے اور ہر اس ملک کو قتل عام کے ذریعے دبائے جو آزاد ہونا اور اپنے وسائل کا انتظام خود کرنا چاہتا ہے۔ دوسرے ممالک کی دولت لوٹنے اور ان کے عوام کا قتل عام کرنے سے امریکہ کے خلاف ان کی نفرت میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا؛ آپ مظلوموں کے خون پر قائم معیشت سے لطف اندوز نہیں ہو سکیں گے۔

امریکی معیشت کو ترقی دینے کے لیے صرف دنیا بھر میں موجود ۸۰۰ مہنگے، بے فائدہ اور پریشانی پیدا کرنے والے فوجی اڈے ختم کرکے فوج کو امریکہ واپس لائیں، اسرائیل کو نہ ختم ہونے والی امداد بند کریں، بے مقصد اور جارحانہ جنگوں میں داخل نہ ہوں، بغاوتوں، آمروں کی حمایت، مداخلت اور ممالک کی سلامتی کو خراب کرنے کے لیے قائم سینکڑوں مہنگے میڈیا اداروں اور جاسوسی نیٹ ورک کو بند کریں اور ان اقدامات پر خرچ ہونے والے ہزاروں ارب ڈالر تحقیق، پیداوار اور خدمات کے شعبے میں منتقل کریں تاکہ آپ دوبارہ ایک مضبوط معیشت حاصل کریں اور خوشحال زندگی گزاریں۔

یہ شرمناک ہے کہ امریکہ جیسے بڑے ملک کی معیشت دوسرے ممالک کی دولت لوٹ کر اور انہیں غریب بنا کر چلائی جائے۔ امریکہ کے بانی رہنماؤں کے مقامی باشندوں کے ساتھ رویے اور غلامی و نسل پرستی کی تاریخ سے قطع نظر، آج آپ کے پاس بے پناہ زیرِ زمین وسائل، بڑے توانائی ذخائر، پانی، زرخیز زمین اور طویل ساحلوں اور دریاؤں سے مالا مال ایک انتہائی دولت مند سرزمین موجود ہے۔ اگر آپ اپنی قیادت کے انتخاب میں علم، حکمت، دیانت داری، راست گوئی اور انسانی اخلاق کو معیار بنائیں تو دوسروں کی دولت پر ہاتھ ڈالے بغیر امریکی عوام کے لیے خوشحال زندگی فراہم کر سکتے ہیں اور امید رکھ سکتے ہیں کہ امریکی حکومت اپنی بدبخت تاریخ کے ایک حصے کا ازالہ کرے گی۔

انسانی ضمیر اور شرافت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ آپ ایسے حکمرانوں کو امریکہ کی قیادت پر فائز کریں جو فلسطین اور لبنان کے عوام کی اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے قابضین کے خلاف جائز مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیں، انہیں نسل کشی کا مستحق سمجھیں اور غزہ کے ۲۱ ہزار سے زیادہ بچوں حتیٰ کہ ایک دن کے نومولود بچوں کے قتل کو صہیونی حکومت کا جائز دفاع قرار دے کر اس پر فخر کریں۔ خبردار! اپنے ووٹ سے ایسی کانگریس منتخب نہ کریں جو ایک بار پھر امریکی فوج کو ۴۰۰ معصوم ایرانی طلبہ کے قتل پر جواب دہ نہ ٹھہرائے اور اس جرم پر کم از کم زبانی معافی بھی نہ مانگے۔

انسانوں اور معاشروں کے باہمی تعلقات کے بارے میں تمام ادیان اور مذہبی و غیر مذہبی مکاتب میں ایک سنہری اصول مشترک ہے: ’’جو اپنے لیے پسند نہیں کرتے، وہ دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرو۔‘‘ اسلام کے تمام رہنماؤں کی تعلیمات میں یہ بات دہرائی گئی ہے۔ یہودی تلمود میں بھی ہے: ’’جس چیز سے تم خود نفرت کرتے ہو، وہ اپنے ہم نوع کے ساتھ نہ کرو‘‘، جس طرح انجیل کی تعلیم ہے: ’’دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔‘‘(متی ۷:۱۲، لوقا ۶:۳۱)۔

اپنے ضمیر کی طرف رجوع کریں؛ کیا آپ میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ امریکہ کے شہروں میں غزہ اور جنین کی طرح تین لاکھ گھر ملبے کا ڈھیر بنا دیے جائیں؟ یا امریکہ کے دیہات جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات کی طرح دھماکوں سے زمین سے مٹا دیے جائیں؟ کیا آپ پسند کریں گے کہ آپ کے اسکولوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو امریکی فوج نے میناب کے اسکول کے ساتھ کیا؟

یقیناً اگر صہیونی حکومت کو امریکہ کی نہ ختم ہونے والی مدد اور وائٹ ہاؤس کی اسرائیل سے اندھی اطاعت نہ ہوتی تو ان میں سے زیادہ تر جرائم انجام نہ پاتے۔ فلسطین اور لبنان میں نسل کشی اور نہ ختم ہونے والی جنگیں آپ کے ٹیکسوں کے پیسے سے لڑی جا رہی ہیں اور دنیا کے عوام آپ سے ان جرائم کو روکنے کی توقع رکھتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ آپ کا جواب یہ ہے: ’’ہم بھی ان اقدامات کو قبول نہیں کرتے لیکن ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں۔‘‘ لیکن یہ جواب قابلِ قبول نہیں، کیونکہ آپ ہی اپنے ووٹ کے ذریعے ایسی حکومت اور کانگریس تشکیل دیتے ہیں جو ان جرائم کی حمایت کرتی ہے۔ اگرچہ وہ اکثر ٹرمپ کی طرح جنگوں کے خاتمے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے آپ کے ووٹ حاصل کرتے ہیں، لیکن ان افراد کی شخصیت اور کارکردگی کو اہل قیادت کے معیار پر پرکھنا آپ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ آپ ایک عظیم قوم ہیں۔ کم تر لوگوں کی حکمرانی آپ کی توہین کرتی اور آپ کو پستی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو شخص دنیا کے سامنے آپ کو اس طرح حقیر بنائے کہ گویا انتخابات میں آپ کے عقائد اور ووٹ پانچ ہزار ڈالر کے وعدے سے خریدے جا سکتے ہیں، وہ آپ کی صدارت کا اہل نہیں۔

یہ جنگ کہاں پہنچے گی؟

ہمارے شہید رہبر نے خبردار کیا تھا کہ اگر دشمن حملہ کرے گا تو جنگ علاقائی جنگ بن جائے گی۔ وائٹ ہاؤس نے یقین نہیں کیا، حیران و پریشان ہوا اور بند گلی میں پھنس گیا۔ انہوں نے فرمایا تھا: ’’اگر کوئی واقعہ پیش آیا تو ایرانی قوم مبعوث ہوگی اور کام تمام کردے گی۔‘‘ یہ پیش گوئی بھی پوری ہوگئی اور لاکھوں ایرانی سات ماہ سے ہر رات اپنے شہید امام کا انتقام لینے کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔

اب ان انتباہات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ظلم اور جرم میں حد سے تجاوز نے انسانی معاشرے کو غصے سے بھر دیا ہے اور اسے ایسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے جو پھٹنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ کے جرائم کا تسلسل دنیا کی انصاف پسند اقوام کو اٹھ کھڑا کرے گا اور عوام کے غصے کا دھماکہ دنیا میں امریکہ اور امریکی کمپنیوں کے تمام مفادات کو آگ کی لپیٹ میں لے آئے گا۔ امریکی معیشت زلزلے سے دوچار ہوگی اور آپ سب کی زندگی متاثر ہوگی۔

اس انجام کو بدلنے کی صلاحیت رکھنے والے خود آپ امریکی عوام ہیں۔ فلسطین پر قابضین سے اپنا حساب الگ کریں، جو بالآخر وہاں سے نکل کر اپنے ممالک کو واپس جائیں گے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی اختیار کر سکتے ہیں۔ باغی، بچوں کے قاتل، عیاش اور بے عقل حکومت کو ہٹا دیں، اپنے معاملات غنڈوں کے بجائے دانشوروں کے سپرد کریں اور انہیں یاد دلائیں کہ دنیا بدل چکی ہے، دنیا کے عوام بیدار ہو چکے ہیں، طاقت کے زور پر قوموں کی دولت لوٹنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ ’’یہ صدی اقوام کی قوتِ ارادی کی فتح کی صدی ہے۔‘‘ اس انسانیت دشمن راستے کا تسلسل امریکہ کے لیے ایک دردناک انجام لائے گا، کیونکہ ’’مظلوم کا دن ظالم کے دن سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔‘‘

تمام مشکلات اور دشمنوں کے دباؤ کے باوجود ہم گزشتہ 48 برسوں کی طرح انسانیت کو زور زبردستی اور استکبار سے آزاد کرانے کی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بہت جلد مقبوضہ فلسطین آزاد ہوگا۔ ہم منتظر ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام، آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری وصی حضرت مہدی علیہ السلام کے ہمراہ واپس آئیں اور انسانیت کو تمام ظلم سے نجات دلانے کے لیے اس کی قیادت کریں۔

یہ واضح ہے کہ مہدی و مسیح علیہما السلام مظلوم، پاکیزہ اور انصاف پسند لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے، نہ کہ ظالم، فاسد اور مستکبر قوتوں کے ساتھ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس دن آپ امریکی عوام بھی ہمارے ساتھ اور مستضعف و انصاف پسند لوگوں کے محاذ پر ہوں، نہ کہ ان ظالم مجرموں کے محاذ پر جن کی شکست اور تباہی یقینی ہے۔

ظلم و جارحیت کے خاتمے، تمام اقوام کی مستکبرین کی غلامی سے آزادی اور بھائی چارے و عالمی امن کی زندگی کی امید کے ساتھ۔

«وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ»(قرآن کریم)

News ID 1941743

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha