29 ستمبر، 2026، 11:57 AM

شہید نصراللہ نے مزاحمت کو مضبوط اور گہری جڑوں والے ڈھانچے میں تبدیل کردیا، مخبر

شہید نصراللہ نے مزاحمت کو مضبوط اور گہری جڑوں والے ڈھانچے میں تبدیل کردیا، مخبر

رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر اور معاون ڈاکٹر محمد مخبر نے شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی رہنماؤں کی شہادت سے یہ تحریک رک نہیں سکی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے لبنان کی العہد نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے، شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کی دوسری برسی کے موقع پر کہا کہ آج سید حسن نصراللہ کی شہادت کو دو سال گزرنے کے باوجود، پہلے سے کہیں زیادہ اس عظیم مجاہد کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور مزاحمت کی تشکیل و اقتدار میں ان کے تاریخی کردار کو دیکھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید نصراللہ مزاحمت اور جہاد کی علامت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال لبنانی قوم کے دفاع، لبنان اور فلسطین کے عوام کی حمایت اور جارحیت و قبضے کے مقابلے میں صرف کیے۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر و معاون نے کہا کہ سید حسن نصراللہ صرف ایک شخصیت یا سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ انہوں نے کئی دہائیوں کی جدوجہد کے دوران خطے اور دنیا میں مزاحمتی تحریک کی ایک اہم علامت کی حیثیت حاصل کی اور ایسی نسل تیار کی جو اپنے کمانڈروں کی شہادت کے بعد بھی مزاحمت کا راستہ جاری رکھتی ہے۔

ڈاکٹر مخبر نے گزشتہ دو برس کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ سید حسن نصراللہ اور حزب اللہ کے دیگر کمانڈروں کو شہید کرکے مزاحمت کو کمزور کیا جاسکتا ہے، لیکن اس عرصے میں جو کچھ سامنے آیا اس سے ثابت ہوا کہ مزاحمت افراد تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں عوام اور اس راستے پر ایمان رکھنے والی قوتوں کے درمیان مضبوط ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ کی سب سے بڑی میراث میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے مزاحمت کو گہری جڑوں والے ڈھانچے میں تبدیل کردیا؛ ایسا ڈھانچہ جو اپنے کمانڈروں کی شہادت سے رک نہیں جاتا اور مشکل حالات میں بھی اپنا راستہ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کے انقلابِ اسلامی، امام خمینی اور شہید امام خامنہ ای کے ساتھ تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں شہداء کا امامین انقلاب کے ساتھ ہمیشہ گہرا تعلق اور عقیدت رہی اور وہ اس تعلق کو مزاحمت کے مشترکہ راستے سے پیدا ہونے والا گہرا رشتہ سمجھتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان دونوں شہداء کی اسلامی انقلاب کے نظریات سے وفاداری اور مزاحمتی محاذ میں امامِ کبیر و امامِ شہید، حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کی قیادت کے مقام پر ان کا زور، ان کی جدوجہد کے نمایاں پہلوؤں میں شامل تھا اور یہ تعلق ان کی زندگی کے آخری لمحے اور شہادت تک برقرار رہا۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر و معاون نے شہید سید ہاشم صفی الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید صفی الدین بھی حزب اللہ کی ایک تجربہ کار اور بااثر شخصیت تھے، جنہوں نے طویل عرصے تک شہید نصراللہ اور مزاحمت کے دیگر مجاہدین کے ساتھ اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور اپنی زندگی اسی راستے میں گزاری۔

انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ، شہید صفی الدین اور مزاحمت کے دیگر شہداء کے درمیان تعلق ایک ایسی نسل کے مجاہدین کا تعلق تھا جو فلسطین اور لبنان کے عوام کے دفاع کو اپنی تاریخی ذمہ داری سمجھتے تھے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی جان تک قربان کردی۔

ڈاکٹر مخبر نے ان دونوں شہداء کی برسی کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ان شہداء کی یاد منانا محض شخصیات اور ماضی کے واقعات کو یاد کرنا نہیں ہے؛ ان کی شہادت کی دوسری برسی اس حقیقت کی طرف دوبارہ توجہ دینے کا موقع ہے کہ جس فکر اور راستے کے لیے انہوں نے جدوجہد کی، وہ اس فکر کے علمبرداروں کی شہادت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزاحمت کے رہنماؤں اور کمانڈروں کو ختم کرنے کی صیہونی حکومت کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں کے تجربے سے ظاہر ہوا ہے کہ کمانڈروں کو نشانہ بنانا، اگرچہ مزاحمتی محاذ کے لیے نقصان اور صدمہ ہے، لیکن وہ مزاحمت کے عزم کو ختم نہیں کرسکی؛ جس طرح شہید نصراللہ سے پہلے بھی شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس جیسے بڑے کمانڈر اور شخصیات شہید ہوئے، لیکن یہ راستہ جاری رہا۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر و معاون نے مزید کہا کہ دشمن نے ہمیشہ اپنے حساب کتاب میں یہ تصور کیا کہ ایک کمانڈر کو ختم کرکے ایک تحریک کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے، جبکہ مزاحمت کا مکتب ایمان، عوام اور مجاہدین کی ایک نسل پر استوار ہے اور یہی خصوصیت اس کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سید حسن نصراللہ کا نام آج لبنان کی معاصر تاریخ کے ایک اہم حصے اور صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جبکہ شہید سید ہاشم صفی الدین بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اس راستے کی تشکیل، تنظیم اور تسلسل میں کردار ادا کیا۔

News ID 1941732

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha