28 ستمبر، 2026، 10:32 AM

شہید حسن نصر اللہ کی دوسری برسی، سید مقاومت زندہ ہیں، سپاہ پاسداران انقلاب

شہید حسن نصر اللہ کی دوسری برسی، سید مقاومت زندہ ہیں، سپاہ پاسداران انقلاب

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ زندہ ہیں اور ان کا راستہ پوری عظمت اور طاقت کے ساتھ جاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سید مقاومت کا راستہ ہمیشہ قائم رہے گا اور ان کا پاکیزہ خون مزاحمت کے پیکر میں اقتدار کے جوشاں چشمے اور حزب اللہ و اسلامی مزاحمت لبنان کی عزت و سربلندی کا سرچشمہ بن گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خونریز اور دہشت گردانہ جرم کو دو سال گزر چکے ہیں، جب مجرم صہیونی حکومت نے آزادی کے علمبردار سید حسن نصراللہ کو اسلامی مزاحمت کے محاذ، بالخصوص لبنان کی حزب اللہ سے جدا کردیا، لیکن دشمن کے تصور اور شیطانی ارادے کے برخلاف ان کا پاکیزہ خون خاموش نہیں ہوا بلکہ مزاحمت کے پیکر میں اقتدار اور نشوونما کے ایک جوشاں چشمے میں تبدیل ہوگیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا۔

سپاہ کے بیان کے مطابق سید حسن نصراللہ صرف ایک رہنما نہیں تھے بلکہ جدید مزاحمت کے اسٹریٹجک معمار، میدان اور سفارت کاری کے ماہر اور خطے کی مزاحمت کرنے والی اقوام کے ناقابل تسخیر باہمی تعلق کی عملی علامت تھے۔ انہوں نے مزاحمت کو محض ایک حکمت عملی سے ایک فکری، شناختی اور تمدنی نظام میں تبدیل کیا اور ثابت کیا کہ مزاحمت محض ردعمل نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک انتخاب اور عزت و اقتدار پر مبنی طرز زندگی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سید حسن نصراللہ کی گفتگو اپنی غیر معمولی شجاعت، صداقت، فصاحت اور استقامت کے باعث پہاڑوں کو ہلا دیتی اور دلوں کو روشن کرتی تھی۔ شہید نصراللہ کا اثر خطے سے باہر تک پھیلا ہوا تھا اور لبنان و فلسطین سے یمن، عراق، شام اور اس سے آگے تک ان کی آواز امت مسلمہ کے بیدار ضمیر کی آواز بن گئی تھی۔

سپاہ پاسداران نے کہا کہ شہید نصراللہ کا یقین تھا کہ مزاحمت ایک متحد محاذ ہے اور اس محاذ کے کسی بھی حصے میں کامیابی سب کی کامیابی ہے۔

بیان میں سید حسن نصراللہ کی قیادت کے دور کو لبنان کی تاریخ کے روشن اور قابل فخر ادوار میں شمار کرتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کی معاصر تاریخ میں بھی ان کا مقام منفرد اور دیرپا ہے۔ ان کا نام مزاحمت کی فکری روایت میں ایسے اسٹریٹجسٹ اور نظریہ ساز کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس نے مزاحمت کو حاشیے سے نکال کر خطے کے سیاسی معادلات کے مرکز میں پہنچایا اور صہیونی حکومت کے خلاف ڈیٹرنس قائم کرتے ہوئے اس کے ناقابل شکست ہونے کے وہم و گمان کو ختم کردیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سید حسن نصراللہ کا راستہ لبنان کی اسلامی مزاحمت اور حزب اللہ کے مجاہدین، ان کے جانشین حجت الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم کی قیادت میں پوری عزت و اقتدار کے ساتھ جاری رکھیں گے۔

سپاہ پاسداران نے کہا کہ جنوبی لبنان میں مزاحمت اور تاریخی شجاعتوں و حماسی کارناموں نے صہیونی آبادکاروں میں نقل مکانی کے رجحان میں اضافہ کیا اور اسرائیلی حکومت کے قریب الوقوع انہدام کی نوید دی۔

بیان میں کہا گیا کہ آج پورے خطے میں مزاحمت کا محاذ، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے بعد، عزت، آزادی، تسلط اور قبضہ مخالف مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے بیان کے اختتام پر امام خمینی اور امام خامنہ ای، انقلاب کے شہیدوں اور مزاحمت کے محاذ کے شہداء، بالخصوص سید حسن نصراللہ اور بریگیڈیئر جنرل عباس نیلفروشان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بیان میں آبنائے ہرمز پر مزاحمت کے مجاہدین کے کنٹرول، نگرانی اور انتظام کو ایمان اور اللہ کی نصرت پر یقین کا ثمر قرار دیا گیا۔

سپاہ پاسداران نے مزید کہا کہ مزاحمت کے محاذ کی حمایت، مستضعفین کے حقوق کا دفاع اور قدس شریف کی مکمل آزادی تک استقامت، سپاہ پاسداران اور ملک کی دیگر مسلح افواج کا دائمی، قومی اور انسانی فریضہ ہے۔ ایران کی مسلح افواج آخری فتح تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

News ID 1941720

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha