مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل امیر اکرمینیا نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امریکی افواج کو رسد، ایندھن اور دیگر ضروریات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کے دوران اپنے اہداف کو اپ ڈیٹ کرنے، فوجی سازوسامان کو بہتر بنانے اور نئے آلات کو دفاعی نظام میں شامل کرنے پر توجہ دی ہے، تاکہ کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ مؤثر جواب دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے 12 روزہ جنگ کے بعد اپنی فوجی حکمت عملی میں پیشگی کارروائی کو شامل کیا ہے اور اگر کسی دشمن کے حملے کا خطرہ قریب محسوس ہوا تو ایران پیشگی کارروائی کرے گا۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس حکمت عملی کے تحت عراق کے کردستان میں مخالف گروہوں کے ٹھکانوں اور بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیشگی کارروائی میں تناسب، ضرورت اور فوری نوعیت کے اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
امیر اکرمینیا نے واضح کیا کہ امریکہ خطے میں مطلوبہ پوزیشن میں نہیں ہے اور اس کے کئی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے خطے کے ممالک کی سلامتی اور قومی مفادات کے بجائے اسرائیل کی سلامتی کو ترجیح دی ہے، جبکہ ایران عرب ممالک کو اپنا حریف نہیں بلکہ دوست اور برادر سمجھتا ہے۔
جنرل امیر اکرمی نیا نے کہا کہ خطے کے ممالک کو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر غور کرنا چاہیے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران اس آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور دشمن ممالک کو اس راستے سے آسانی سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمان کے ساتھ جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک معاہدہ طے پایا ہے، تاہم امریکی رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے یمن کے بحیرۂ احمر اور باب المندب پر اثر و رسوخ کو بھی خطے کی جغرافیائی صورتحال میں اہم تبدیلی قرار دیا۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران نے روزانہ کی بنیاد پر ڈرون تیار کیے اور اپنے ذخائر استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
جنرل کرمی نیا نے کہا کہ کم لاگت والے ڈرون امریکی دفاعی نظام کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج طویل جنگ جاری رہنے کی صورت میں بھی فوجی، ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے موجودہ جنگ کو ایران عراق جنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح صدام حسین نے 1359 ہجری شمسی میں ایران کی دفاعی صورتحال کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا، اسی طرح امریکہ نے بھی ایران کی کمزوری کا غلط اندازہ لگایا۔
جنرل اکرمینیا کے مطابق، عراقی حملے کے صرف ڈھائی گھنٹے بعد ایرانی فضائیہ نے جواب دیا تھا، جبکہ حالیہ امریکی حملے کے تقریباً دو گھنٹے بعد ایرانی مسلح افواج نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔
آپ کا تبصرہ