مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: سعودی عرب کے بھاری فوجی اخراجات، جدید لڑاکا طیاروں، پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی نظاموں اور جدید ریڈار آلات کی موجودگی کے باوجود، تحریکِ انصار الله یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنا اب بھی متعدد چیلنجز کا حامل ہے۔ سعودی عرب کا وسیع جغرافیہ، انصارالله کے حملہ آور ذرائع میں تنوع اور انٹرسیپٹر میزائلوں کے استعمال پر آنے والے بھاری اخراجات ان عوامل میں شامل ہیں جو طویل تنازعے کے دوران ریاض کی دفاعی صلاحیت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
وسیع جغرافیہ؛ اہم تنصیبات کی حفاظت کا چیلنج
سعودی عرب ہر سال فوجی اخراجات کے لیے دسیوں ارب ڈالر مختص کرتا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تخمینوں کے مطابق، 2024 میں اس ملک کے فوجی اخراجات تقریباً 80 ارب ڈالر تھے۔ تاہم، جدید آلات کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ملک کے تمام بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب کا وسیع رقبہ، تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں اور تزویراتی مراکز کا مختلف علاقوں میں پھیلا ہونا ان تمام اہداف کی بیک وقت حفاظت کو مشکل بنا دیتا ہے۔ دفاعی نظاموں کو مختلف علاقوں میں خطرات کی نشاندہی اور ان کا راستہ روکنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اہم تنصیبات کو مناسب دفاعی تحفظ حاصل ہو۔ ان حالات میں دفاعی وسائل کی تقسیم اور تعیناتی ریاض کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
انصارالله کی ڈرون اور میزائل حکمت عملی
دوسرا عامل حملہ آور ذرائع میں تنوع اور ڈرونز و میزائلوں کو بیک وقت استعمال کرنے کا امکان ہے۔ مختلف نوعیت کے خطرات کا استعمال نشاندہی اور روک تھام کے نظاموں پر عملی دباؤ ڈال سکتا ہے اور متعدد اہداف سے بیک وقت نمٹنے کی ضرورت بڑھا سکتا ہے۔
ایسی صورت حال میں مسئلہ صرف ایک میزائل یا ڈرون کو روکنے کی صلاحیت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ مسلسل حملوں کا مقابلہ کرنے اور متعدد خطرات کے باوجود دفاعی تحفظ برقرار رکھنے کے لیے دفاعی نظاموں کی تیاری بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ تاہم، ہر حملے میں اس طرح کی حکمت عملیوں کی کامیابی کا انحصار ہتھیاروں کی نوعیت، اہداف کی تعداد، پرواز کے راستے اور دفاعی نظاموں کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔
حملے اور دفاع کے اخراجات میں فرق؛ سستا ڈرون اور کئی ملین ڈالر کا انٹرسیپٹر میزائل
اس چیلنج کے اہم پہلوؤں میں سے ایک بعض حملہ آور ڈرونز کی تیاری اور جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی لاگت میں فرق ہے۔ بعض تخمینوں کے مطابق، یمنی افواج کے زیرِ استعمال طویل فاصلے تک مار کرنے والے بعض خودکش ڈرونز کی تیاری پر صرف دسیوں ہزار ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں، جبکہ ایک جدید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت، اس کے ماڈل اور معاہدے کی شرائط کے مطابق، کئی ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
مثال کے طور پر، اگر ایک ڈرون کی قیمت 20 ہزار ڈالر اور ایک انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت 40 لاکھ ڈالر فرض کی جائے تو دونوں کی لاگت میں تقریباً 200 گنا فرق ہوگا۔ تاہم، یہ ایک تخمینی موازنہ ہے اور ڈرونز و میزائلوں کی حقیقی قیمت ان کے ماڈل، اضافی آلات اور فراہمی کی شرائط کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
اس فرق کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حملے میں لازماً ہر ڈرون کے مقابلے کے لیے ایک انٹرسیپٹر میزائل داغا جاتا ہے۔ تاہم، حملوں کے بار بار ہونے اور مہنگے گولہ بارود کے استعمال کی ضرورت دفاعی اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہے اور اسلحے کے ذخائر پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
امریکہ پر انحصار اور گولہ بارود کی فراہمی کا مسئلہ
تیسرا چیلنج انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر اور ان کی جگہ نئے میزائل فراہم کرنے کے امکان سے متعلق ہے۔ دفاعی میزائلوں کا ہر استعمال قابلِ استعمال ذخائر کا ایک حصہ کم کر دیتا ہے اور اگر حملے جاری رہے تو گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اس عمل کا انحصار مالی اخراجات کے علاوہ پیداواری صلاحیت، ترسیل کے وقت اور سپلائی چین تک رسائی پر بھی ہوتا ہے۔
سعودی عرب اپنے جدید آلات اور گولہ بارود کے ایک بڑے حصے کی فراہمی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔ دوسری جانب، علاقائی تنازعات میں امریکی گولہ بارود کے بڑھتے ہوئے استعمال سے آرڈرز کی ترجیحات اور واشنگٹن کے اتحادیوں کو ترسیل کے اوقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر پر دباؤ اور بعض اتحادیوں کو کیے گئے آرڈرز کی ترسیل میں تاخیر کے بارے میں بھی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں۔ یہ صورت حال پیداواری صلاحیت اور ذخائر کو دوبارہ بھرنے کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
اسی تناظر میں، سعودی عرب کے اسلحہ معاہدے سے متعلق رپورٹوں میں 730 پیٹریاٹ میزائلوں کی خریداری کے لیے تقریباً 9 ارب ڈالر کی رقم کا ذکر کیا گیا ہے، جو ان میزائلوں کی فراہمی کے مالی حجم کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، معاہدے کی حتمی رقم، آلات کی تفصیلات اور ترسیل کے نظام الاوقات کا جائزہ اسی معاہدے کی سرکاری تفصیلات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
خلاصہ
سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کا اندازہ صرف اس کے فوجی اخراجات کے حجم یا جدید دفاعی نظاموں کی تعداد کی بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا۔ وسیع جغرافیہ، اہداف کا مختلف علاقوں میں پھیلاؤ، ڈرون اور میزائل حملوں میں تنوع اور گولہ بارود کی جگہ نئے ذخائر فراہم کرنے کے اخراجات، یہ تمام عوامل ملک کے دفاعی نظام کی پائیداری کے جائزے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
مختصر تنازعے میں جدید دفاعی نظاموں کی موجودگی ایک اہم برتری فراہم کر سکتی ہے، لیکن طویل اور تھکا دینے والی محاذ آرائی میں گولہ بارود کی تیاری اور فراہمی کی صلاحیت، حملوں کو روکنے کے اخراجات اور عملی دفاعی تیاری برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے سعودی عرب کا چیلنج صرف حملوں کا مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ بار بار ہونے والے حملوں کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا اور اس کے لیے درکار وسائل کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔
آپ کا تبصرہ