17 اکتوبر، 2026، 9:46 AM

اقوام متحدہ، آبنائے ہرمز کی صورت حال امریکی اقدامات کا نتیجہ ہے، ایرانی سفیر

اقوام متحدہ، آبنائے ہرمز کی صورت حال امریکی اقدامات کا نتیجہ ہے، ایرانی سفیر

ایرانی سفیر نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے فطری حق کو استعمال کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز و خلیج فارس کی موجودہ صورت حال امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا براہ راست نتیجہ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے مشرق وسطی اور فلسطین کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران جہاز رانی کی سلامتی اور تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے بدستور پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا احترام نہیں کرتی۔

ایرانی سفیر نے فلسطین کی صورت حال کو بدستور انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ میں حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ غزہ تباہ حال ہے اور فلسطینی عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے محروم کرنے کے اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

درزی نے غزہ پر جارحیت کے مستقل خاتمے، محاصرے کے خاتمے، مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی قابض افواج کے غیر مشروط اور مکمل انخلا اور انسانی امداد کی فوری و مسلسل فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے مستقبل کے لیے کسی بھی منصوبے میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، خودمختاری اور حقِ خود ارادیت کا مکمل احترام ضروری ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ فلسطینی عوام کو اپنے حق خود ارادیت کے استعمال اور القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد، خودمختار اور پائیدار فلسطینی ریاست قائم کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، جسے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت بھی حاصل ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک قبضہ، غیر قانونی بستیوں کی توسیع، جبری بے دخلی اور فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، خطے میں پائیدار حل ممکن نہیں ہوگا۔

غلام حسین درزی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں جارحانہ کارروائیاں اور خلاف ورزیاں بند کرے، لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی روزانہ ہونے والی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرے، لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا کرے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کرے۔

انہوں نے شام کے خلاف اسرائیلی فوجی حملے بند کرنے، مقبوضہ شامی جولان اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام پر بھی زور دیا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر جواب دہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیل نے فلسطین، لبنان، شام اور ایران کے عوام کے خلاف نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت سمیت سنگین بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

درزی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف دو بلاجواز جارحانہ جنگیں شروع کیں، جو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنا کر دونوں ممالک نے تمام حدود عبور کیں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ جارحیت کے ذمہ داروں اور ان کے جرائم کو ممکن بنانے، ان کی حمایت کرنے یا ان میں سہولت فراہم کرنے والوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر جواب دہ ہونا چاہیے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی موجودہ صورت حال 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جارحانہ جنگ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق، امریکی بحری ناکہ بندی سمیت بعد کے غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات نے بھی صورت حال کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تاریخ سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی تھی اور وہاں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری تھی۔ جو ممالک اس کھلی جارحیت پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، لیکن ایران کو موردِ الزام ٹھہرانے میں جلدی کرتے ہیں، وہ دوہرے معیار اور منافقانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس سے سلامتی کونسل کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ایران جہاز رانی کی سلامتی اور تحفظ برقرار رکھنے کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ ان کے مطابق، ایران کھلی جارحیت کا شکار ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور اہم قومی مفادات کے دفاع کا فطری حق استعمال کر رہا ہے۔

News ID 1942168

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha