مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر تیل اور نیشنل گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سعید توکلی نے ماسکو میں آٹھویں بین الاقوامی فورم ’’روسی انرجی ویک‘‘ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں حالیہ واقعات اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مختلف ممالک میں شروع کی گئی جنگیں توانائی کے بحران کی اہم وجوہات ہیں۔
انہوں نے اجلاس کے خصوصی سیشن میں علاقائی ممالک کے توانائی حکام کے ساتھ 3+3 تعاون کے فریم ورک کے تحت ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے پائیدار نظام کے لیے مستحکم نیٹ ورک، مناسب بنیادی ڈھانچے اور گیس و توانائی کی دستیابی کے علاوہ جغرافیائی و سیاسی سلامتی بھی ضروری ہے۔
توکلی نے کہا کہ 3+3 تعاون کے تحت خطے میں توانائی کے شعبے میں اشتراک کے لیے بہترین بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ جنوبی قفقاز اور اس کے آس پاس کے ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے توانائی کی پائیداری کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے، جبکہ توانائی کے مختلف شعبوں میں تعاون علاقائی استحکام کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے ممتاز جغرافیائی محل وقوع کی بدولت وسطی ایشیا کے توانائی نیٹ ورکس کو جنوبی قفقاز اور یہاں تک کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک سے منسلک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، خطے کے ممالک توانائی کی پائیداری کے لیے ایران کی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایران کی نیشنل گیس کمپنی کے سربراہ نے حالیہ امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کے دوران جنوبی پارس گیس فیلڈ کی بعض تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے باوجود ایران کے توانائی نیٹ ورک میں معمولی سا بھی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا۔
توکلی کے مطابق، یہ حملہ عالمی سطح پر گیس کی تنصیبات پر ہونے والے بڑے حملوں میں سے ایک تھا، تاہم متعلقہ فریق نقصان کی تلافی اور متاثرہ تنصیبات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ایرانی عوام کے عزم، بروقت اقدامات اور ہنگامی حالات میں مؤثر ردعمل کے باعث ملک میں توانائی کی فراہمی کا تسلسل متاثر نہیں ہوا۔
توکلی نے مزید کہا کہ ایران کے متنوع ایندھن نظام، توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں تنوع اور تجربہ کار و ماہر افرادی قوت کی مدد سے اب تک صورت حال کو مؤثر انداز میں سنبھالا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ