مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ فلسطین کے علاقے غرب اردن میں صہیونی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں کا دائرہ یورپی ممالک کے سیاسی و سفارتی وفود تک پھیل گیا ہے۔ آبادکاروں نے رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں الطیبہ میں یورپی وفود کی گاڑیوں پر حملہ کیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے معا کے مطابق گزشتہ روز شام کے وقت متعدد اسرائیلی آبادکاروں نے چہرے ڈھانپ کر یورپی ممالک کے سفارتی وفود پر دھاوا بول دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں نے بیلجیم کے قونصل خانے کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے اور گاڑی میں سوار ایک شخص کو باہر زمین پر پھینک دیا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کی فوٹو جرنلسٹ ہائیدی لیون مغربی کنارے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں ابو فلاح پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے دوران زخمی ہو گئی تھیں۔ اس حملے میں ان کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، ہائیدی لیون گاؤں ابو فلاح میں زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی کی کوریج کررہی تھیں کہ نقاب پوش آبادکاروں کے ایک گروہ نے ان پر حملہ کر دیا۔ صحافی نے ایسی حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی جس کے اگلے اور پچھلے حصے پر واضح طور پر ’’پریس‘‘ درج تھا، لیکن حملہ آوروں نے انہیں زمین پر گرا کر بار بار لاتیں ماریں اور ان کے کیمرے اور موبائل فون بھی چھین لیے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ہائیدی لیون کو علاج کے لیے رام اللہ کے علاقے میں واقع ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں بار بار لاتیں ماریں، تاہم ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹ نے انہیں مزید سنگین چوٹوں سے محفوظ رکھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ درجنوں نقاب پوش آبادکار قریبی پہاڑی سے نیچے اترے، زیتون کے درختوں کو آگ لگائی اور فصل کی کٹائی میں مصروف فلسطینیوں پر پتھراؤ کیا۔ حملے کے دوران موقع پر موجود صحافیوں کو بھی وہاں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔
آپ کا تبصرہ