مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یورپی ممالک میں معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی، پرتگال کے مختلف شہروں میں بھی زندگی کے اخراجات میں اضافے، مکانات کی مہنگائی اور شہریوں کی قوتِ خرید میں کمی کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
واضح رہے یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب فرانس میں اسی نوعیت کے مظاہرے پولیس کی انسدادِ فسادات فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف شدید کارروائی پر منتج ہوئے۔
یورونیوز کے نامہ نگار مینوئل ریبیرو کے مطابق، رہائش کے حق کے لیے سرگرم کئی تحریکوں نے پرتگال کی جنرل کنفیڈریشن آف ورکرز (CGTP) سے وابستہ مزدور یونینوں کے ساتھ مل کر لزبن، پورٹو اور کوئمبرا شہروں میں مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس مزدور کنفیڈریشن نے ’’زیادہ اجرتیں، بہتر پنشن اور عوامی خدمات؛ اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے خلاف اور پرتگال میں ایک نئے راستے کے لیے‘‘ کے نعرے کے تحت حکومت کی معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔
بنیادی اشیائے ضروریہ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مناسب قیمت پر مکانات کی قلت بھی متعدد یورپی ممالک کے شہریوں کی اہم ترین تشویشات میں شامل ہو گئی ہے۔ اس صورتِ حال نے ہزاروں افراد کو معاشی دباؤ کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پرتگال کی جنرل کنفیڈریشن آف ورکرز کے ایک ترجمان نے کوئمبرا شہر میں ٹیلی ویژن چینل ایس آئی سی این (SICN) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کی ضروریات، رہائش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث، روزمرہ خریداری کی ایک سادہ سی ٹوکری کی قیمت بھی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئی ہے۔
پرتگال کے دوسرے بڑے شہر پورٹو میں مظاہرین کی ریلی صبح تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر ’’پراسا دا باتالیا‘‘ (Praça da Batalha) سے شروع ہوئی اور اس کا اختتام ’’دون ژواؤ اول‘‘ (Dom João I) چوک پر ہونا طے پایا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی اس مقام پر رہائشی بحران کے خلاف احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے تھے۔
آپ کا تبصرہ