17 اکتوبر، 2026، 6:03 PM

عراق کی فضائی حدود میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مشقیں؛ ذرائعِ ابلاغ میں چہ میگوئیاں

عراق کی فضائی حدود میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مشقیں؛ ذرائعِ ابلاغ میں چہ میگوئیاں

بعض ذرائعِ ابلاغ کی جانب سے رواں ماہ 12 اکتوبر کی شب عراق کی فضائی حدود میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مشقوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد، ایک عربی اخبار نے اس خطرناک اقدام کے نتائج کی وضاحت کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، الیکٹرانک اخبار رائے الیوم نے اپنی ایک رپورٹ میں ذرائعِ ابلاغ کی ان خبروں کا حوالہ دیا ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے 12 اکتوبر کی شب عراق کی فضائی حدود میں مشترکہ فوجی مشقیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان مشقوں میں ایف 16 اور ایف 35 جنگی طیاروں کے ساتھ فضا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں نے بھی حصہ لیا۔

مضمون نگار نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ عراق کی خودمختار حکومت کی جانب سے فضائی حدود کی اس کھلی خلاف ورزی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، کہا کہ ان فوجی مشقوں کا انعقاد عراق کے اعلان کردہ مؤقف سے مکمل طور پر متصادم ہے۔

واضح رہے عراقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ خطے کی کسی بھی جنگ یا تنازع میں فریق نہیں بنے گی اور نہ ہی اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو ہمسایہ ممالک، بالخصوص ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے دے گی۔

اس خلاف ورزی کے ساتھ ہی عراق اور شام کے لیے امریکی نمائندے ٹام باراک نے عراقی حکام سے ملاقات کے دوران، عراق میں امریکی سفیر یا ناظم الامور کی موجودگی میں کہا کہ امریکہ صوبۂ نینویٰ کی حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

مضمون نگار کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ان مشترکہ فوجی مشقوں میں کئی پیغامات پوشیدہ ہیں:

اول: امریکہ عراق کی خودمختاری اور ان جنگوں و تنازعات کے بارے میں اس کے اعلان کردہ غیر جانب دارانہ مؤقف کا کوئی احترام نہیں کرتا جن میں عراق فریق نہیں ہے۔

دوم: عراق کی فضائی حدود اور فضائی حدود پر مکمل خودمختار کنٹرول امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔

سوم: عراق کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں امریکہ کے بیانات اور اس کے عملی اقدامات ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

چہارم: امریکی صدارتی محل، وزارتِ خارجہ، وزارتِ جنگ اور قومی سلامتی کونسل کے فیصلہ سازوں کو اسرائیلی حکومت کے ساتھ ان مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران اس بات کی کوئی تشویش نہیں تھی کہ اس خلاف ورزی سے دوطرفہ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔ اس کے برعکس، انہیں ان تعلقات کے استحکام، تسلسل اور موجودہ سطح پر برقرار رہنے کے بارے میں مکمل یقین ہے۔

رائے الیوم مزید لکھتا ہے کہ عراقی حکومت نے اس خلاف ورزی پر کوئی اعتراض نہیں کیا، بالخصوص اس لیے کہ یہ اقدام ایسی حکومت کی شرکت سے کیا گیا جو اب بھی عراق کے ساتھ جنگ یا دشمنی کی حالت میں ہے۔

مضمون کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ یہ درست ہے کہ امریکہ اب بھی عراق کے تیل سے حاصل ہونے والے ڈالروں کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے، لیکن یہ صورتِ حال عراقی حکومت کی جانب سے امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے عراق کی فضائی خودمختاری کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔

News ID 1942179

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha