مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس کے وزیراعظم سباستین لیکورنو نے ہفتے کے روز ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران 1200 افراد کی گرفتاری اور 150 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے وزیراعظم سباستین لیکورنو کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئیں۔

فرانس کے شہر لیون میں تقریباً 10 ہزار شہریوں، جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی، نے وسیع پیمانے پر مظاہرے کیے اور حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور تعلیمی نظام کے حالات کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

فرانسیسی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے صوتی بموں، آنسو گیس اور تیز دباؤ والے پانی کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں کی پیش قدمی روکنے کے لیے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی۔
سکیورٹی فورسز نے لیون کے مرکزی علاقے میں مظاہرین کو دونوں جانب سے گھیرے میں لے لیا اور بڑی تعداد میں افراد کو گرفتار کیا۔
فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی نے بھی ہفتے کے روز اطلاع دی کہ لیون کے بیلیکور اسکوائر میں واقع سیاحتی دفتر احتجاج اور بدامنی کے دوران آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ رپورٹ کے مطابق، نقاب پوش افراد نے عمارت کی کھڑکیاں توڑنے اور اس کے بعض حصوں کو نقصان پہنچانے کے بعد اسے آگ لگا دی۔
ادھر، پیرس میں ہفتے کے روز ہونے والی احتجاجی ریلی بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور متعدد افراد کی گرفتاری کے باعث تاخیر سے شروع ہوئی۔
فرانس گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے بدامنی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ احتجاج پیرس کے مضافات میں طلبہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کے نامناسب حالات کے خلاف مظاہروں کے بعد شروع ہوا تھا۔
آپ کا تبصرہ