مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک نے پیر کے روز اعلان کیا کہ بجٹ کی کمی کے باعث غزہ کی پٹی میں اپنی غذائی امداد میں تقریباً ایک تہائی کمی کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں موسمِ سرما کی آمد کے موقع پر بڑی تعداد میں کمزور اور ضرورت مند خاندانوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس ادارے نے بتایا کہ اب غزہ میں 11 لاکھ افراد کو امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ گزشتہ ماہ امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد 16 لاکھ تھی۔ اسی طرح غذائی امداد کے حصے بھی نصف کر دیے گئے ہیں اور خاندانوں کو دو غذائی پیکٹوں کے بجائے ایک پیکٹ اور گندم کا نسبتاً کم آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔
روزانہ فراہم کیے جانے والے گرم کھانوں کی تعداد بھی ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کر دی گئی ہے۔ دشوار گزار علاقوں، بالخصوص اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول ’’یلو لائن‘‘ کے قریب رہنے والے خاندانوں کو بھی اب روزانہ کے بجائے ایک دن چھوڑ کر گرم کھانا فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 75 ہزار خاندانوں کے لیے نقد امداد کی رقم بھی کم کر دی گئی ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک کے اندازوں کے مطابق، غزہ کی تقریباً 14 لاکھ آبادی، یعنی مجموعی آبادی کے 67 فیصد افراد کو خوراک کی شدید قلت یا اس سے بھی بدتر صورتِ حال کا سامنا ہے۔ تقریباً 2 لاکھ افراد ہنگامی صورتِ حال سے دوچار ہیں اور بھوک سے ہونے والی اموات کو روکنے کے لیے انہیں فوری غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
اس ادارے نے مزید بتایا کہ غزہ میں ہر پانچ میں سے صرف ایک بچہ متنوع اور مناسب غذا حاصل کر پا رہا ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس صورتِ حال نے بہت سے خاندانوں کی غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد غذائی تحفظ کی صورتِ حال میں آنے والی محدود بہتری ناپائیدار ہے اور انسانی امداد میں مزید کمی کے باعث یہ بہتری تیزی سے ختم ہو سکتی ہے۔
مالی وسائل کی کمی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اس ادارے کی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جہاں امداد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 4 لاکھ سے کم ہو کر 2 لاکھ رہ گئی ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں آئندہ چھ ماہ، یعنی مارچ 2027 تک اپنی اہم امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اسے فوری طور پر 45 کروڑ ڈالر کے بجٹ کی ضرورت ہے۔
آپ کا تبصرہ