مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس میں زندگی کے اخراجات میں اضافے کے خلاف ہفتے کے روز ہونے والے عوامی مظاہرے متعدد شہروں میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی پرتشدد مداخلت اور کریک ڈاؤن کے باعث مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں تبدیل ہوگئے۔
ان پرتشدد واقعات کے دوران متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
فرانسیسی وزیراعظم سباستین لیکورنو نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے شہریوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے چند فیصلے کیے ہیں۔ پہلا فیصلہ یقیناً ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف وسیع پیمانے پر اور سخت عدالتی کارروائی کرنا ہے۔ دوسرے مرحلے میں عدالتی کارروائی نہایت احتیاط کے ساتھ، منظم اور باقاعدہ طریقے سے انجام دی جائے گی۔
فرانسیسی وزیراعظم نے سماجی رابطوں کے ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دکانوں میں لوٹ مار کے شبہے میں جن افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں نے ان کارروائیوں کے دوران اپنے چہرے نہیں چھپائے تھے، اس لیے ان کی شناخت ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے آج سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نہایت وسیع کارروائی شروع کر دی ہے۔
سباستین لیکورنو نے یہ بھی اعلان کیا کہ پیرس پولیس کمانڈ کے تقریباً 200 تفتیش کاروں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والی بدامنی کے دوران ریکارڈ کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیں، تاکہ پیرس کے علاقے میں مشتبہ افراد کی شناخت کی جا سکے۔
پیرس پولیس سربراہ نے بھی پیر کے روز اعلان کیا کہ تمام دستیاب تصاویر کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ ان تصاویر میں شہری علاقوں میں نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ، دکانوں کے حفاظتی کیمروں کی فوٹیج اور سماجی رابطوں کے ذرائع ابلاغ پر شائع ہونے والی ویڈیوز شامل ہیں۔
فرانسیسی وزیراعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے مقامی حکام سے درخواست کی ہے کہ تشدد اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات کو دوبارہ پیش آنے سے روکنے کے لیے پیر کی شام بعض علاقوں میں محدود اور عارضی طور پر کرفیو نافذ کیا جائے۔
واضح رہے یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب فرانسیسی وزیرِ داخلہ لوران نونیز نے اعتراف کیا کہ بدامنی کے دوران بعض شہروں میں پولیس صورتحال پر قابو کھو چکی تھی۔
آپ کا تبصرہ