مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط واضح ہیں اور انہیں سات نکاتی منصوبے کی صورت میں امریکی فریق کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔ اگر امریکہ ایرانی شرائط پر عمل کرتا ہے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور ساتویں روز مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق، عباس عراقچی نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بھی اپنی تجاویز پیش کی ہیں، جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی شرائط غیر معمولی نہیں ہیں، بلکہ ان معاملات پر امریکہ ماضی میں مفاہمتی یادداشت اور دیگر مذاکرات کے دوران اتفاق کر چکا ہے۔ ایران ان شرائط کو منصفانہ سمجھتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں سنجیدہ ہے تو وہ چند روز کے اندر ان پر عمل درآمد کر سکتا ہے۔
عراقچی نے امریکی نیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کی جانب سے حقیقی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے تو آبنائے ہرمز کو کھولنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔
انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے حوالے سے کہا کہ یہ تنظیم کا معمول کا سالانہ اجلاس ہے، جس کی صدارت اس سال عراق کو منتقل ہوئی ہے۔ انہوں نے عراق کو ایران کا دوست اور ہمسایہ ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی قیادت سنبھالنے میں عراق کی کامیابی ایران کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
عراقچی نے بتایا کہ اجلاس میں رکن ممالک کی جانب سے اچھی شرکت دیکھنے میں آئی اور تقریباً 20 وزرائے خارجہ اور 20 سے زائد نائب وزرائے خارجہ نے شرکت کی، جو تنظیم کے معیار کے مطابق ایک قابلِ ذکر تعداد ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران اسلامی تعاون تنظیم کا کردار اور اثر و رسوخ کم ہوا ہے اور عالم اسلام کے مسائل میں اس کی سرگرم موجودگی نمایاں نہیں رہی۔
عراقچی نے مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کے حل میں اسلامی تعاون تنظیم کے تعمیری کردار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ انہوں نے عراقی وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل سے ملاقاتوں میں بھی اٹھایا ہے۔
آپ کا تبصرہ