مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں یمن سے متعلق قرارداد میں ایران کے مؤقف کا لحاظ نہ رکھا گیا اور انصاف و توازن کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا تو ایران اس قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا۔
اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اختتامی اعلامیے اور قراردادوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الحال قراردادیں منظور نہیں ہوئی ہیں اور حتمی اعلامیے کی تیاری بھی مکمل نہیں ہوئی۔ ایرانی وفد گزشتہ چند روز سے تمام قراردادوں کی تدوین میں حصہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام قراردادیں گزشتہ سال کی قراردادوں کا اعادہ ہیں، تاہم یمن کے معاملے پر اجلاس میں سنجیدہ بحث ہوئی۔ سعودی عرب نے اپنا مؤقف پیش کیا، جبکہ ایران نے بھی اپنی پوزیشن واضح کی۔ دیگر ممالک نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس حوالے سے ایک قرارداد زیر غور ہے، جسے ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔
عراقچی نے زور دیا کہ یمن سے متعلق قرارداد اور اجلاس کے حتمی اعلامیے میں انصاف اور توازن کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران اس قرارداد کا حصہ نہیں بن سکے گا اور خود کو اس سے الگ کر لے گا۔ ایران یا تو قرارداد پر اپنے تحفظات درج کرائے گا یا واضح طور پر اعلان کرے گا کہ وہ اسے قبول نہیں کرتا۔ اس کا فیصلہ قرارداد کے حتمی متن کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم میں ایسے حلقوں کی موجودگی کی جانب بھی اشارہ کیا جو سعودی عرب کے مؤقف کے قریب ہیں۔ ایران نے اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر مشاورت کی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بھی منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کی تجاویز اور مؤقف کو مناسب اہمیت دی جائے گی۔
آپ کا تبصرہ