18 اکتوبر، 2026، 9:31 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

حجاب پر پابندی اور آزادیِ آذربائیجان کا دعویٰ؛ حقوقِ نسواں کے حامی خاموش کیوں ہیں؟

حجاب پر پابندی اور آزادیِ آذربائیجان کا دعویٰ؛ حقوقِ نسواں کے حامی خاموش کیوں ہیں؟

جمہوریہ آذربائیجان میں حجاب کی وجہ سے طالبات کو تعلیم سے محروم کیے جانے کے واقعے نے ایک بار پھر آزادی کے دعوؤں اور تفریق کو قبول کرنے کے درمیان تضاد کو آشکار کر دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، مہر میگزین: دوسروں پر ہونے والے ظلم کے بارے میں بات کیوں کرنی چاہیے؟ اس لیے کہ جب کسی شخص پر ظلم ہوتا ہے اور آپ اس کے بارے میں بات کرتے ہیں تو آپ صرف اس کے ذاتی درد کو بیان نہیں کرتے، بلکہ اس نظام میں خلل ڈالتے ہیں جس نے ان مظالم اور تکالیف کو نظر انداز کرنے کو ترجیح دی ہوتی ہے۔ ظلم کے بارے میں بات کرنا، اسے بیان کرنا، اس کے بارے میں لکھنا اور اسے یاد رکھنا، مزاحمت کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہ ان طریقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے کسی حذف شدہ حقیقت کو دوبارہ منظر عام پر لایا جا سکتا ہے، اگرچہ ممکن ہے کہ اس کی بازگشت کبھی مکمل طور پر بیان نہ ہو سکے۔

آنا اخماتووا ان شاعروں میں سے ہیں جن کی شاعری میں مزاحمت کا پہلو ہمیشہ نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی نظم ’’مرثیہ‘‘ کے دیباچے میں لکھا ہے: ’’یژوف کے دورِ وحشت میں، میں نے سترہ ماہ لینن گراڈ کی جیل کے باہر قطاروں میں گزارے۔ ایک دن کسی نے مجھے پہچان لیا۔ اس وقت میرے پیچھے کھڑی ایک عورت، جس نے یقیناً میرا نام کبھی نہیں سنا تھا، مجھ سے پوچھنے لگی: کیا آپ اس کیفیت کو بیان کر سکتی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، کر سکتی ہوں۔ تب اس کے چہرے پر مسکراہٹ سے ملتی جلتی کوئی چیز نمودار ہوئی۔‘‘ کبھی یہ ظلم جیلوں کی قطاروں میں جنم لیتا ہے، جسے بیان کرنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی ایک مسلمان ملک، جمہوریہ آذربائیجان کے اسکول کی کھڑکی کے پیچھے دکھائی دیتا ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکول میں کھڑکی کے پیچھے کھڑی اس طالبہ کی تصویر بھی اسی تکلیف اور زخم کی عکاسی کرتی ہے جسے بہت سے لوگ نہ صرف دیکھنا نہیں چاہتے، بلکہ اسے فراموش کر دینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی کے نام نہاد علم بردار خود جبر کے راستے پر چل رہے ہیں اور ہمیشہ ایک ہی چیز پر بھروسہ کرتے ہیں:

فراموشی۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر تکلیف کو بیان نہ کیا جائے اور اسے لوگوں کی اجتماعی یادداشت میں جگہ نہ ملے تو وہ رفتہ رفتہ ابہام کی دھند میں گم ہو جاتی ہے۔ جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب کرنے والی طالبات کو داخلے سے روکنے کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹیں محض تعلیمی ضابطے کا معاملہ نہیں ہیں، کیونکہ جو ملک آزادی کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے وہ عملی طور پر اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

حجاب پر پابندی اور آزادیِ آذربائیجان کا دعویٰ؛ حقوقِ نسواں کے حامی خاموش کیوں ہیں؟

آزادی کے مفہوم کی آپ کیا تشریح کریں گے؟

جمہوریہ آذربائیجان بھی ان بہت سے ممالک کی طرح، جو خود کو مغربی سیاسی اور ثقافتی نمونوں سے ہم آہنگ ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور آزادی کے مغربی گہوارے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں؛ اس سوال کی زد میں ہے کہ آزادی کو سرکاری طور پر دی جانے والی تعریف میں کیا مقام حاصل ہے اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں اس پر کس طرح عمل ہوتا ہے؟

آزادی صرف یہ نہیں کہ کوئی حکومت حقِ انتخاب کی بات کرے یا خود کو جدید اقدار کا محافظ قرار دے؛ آزادی کا حقیقی امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی فرد دوسروں سے مختلف انتخاب کرتا ہے۔

مختلف انتخاب اور طرزِ زندگی اختیار کرنے والے افراد کے ساتھ معاشروں کا برتاؤ، آزادی کے موضوع پر غور و فکر کے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔

اس سلسلے میں سرکاری قوانین کے علاوہ ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار اور افراد و شہری حقوق پر ان کے اثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی تناظر میں جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب کرنے والی طالبات کا معاملہ اس بحث کا حصہ بنتا ہے کہ عمومی ضوابط، تعلیم کے حق اور انفرادی اختلافات کے احترام کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟

حجاب کرنے والی طالبہ کو جب کلاس میں جانے سے روک دیا جاتا ہے تو اسے صرف لباس سے متعلق ایک پابندی کا سامنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایسی صورتِ حال میں پہنچ جاتی ہے جہاں اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے اور اپنے ذاتی انتخاب کو برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

ایسی صورت میں اسکول اپنے بنیادی مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ تعلیم کا مقصد ترقی اور سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ طالبات کی ظاہری شکل و صورت کو یکساں بنانے یا انہیں اپنے اختلافات ترک کرنے پر مجبور کرنے کا ذریعہ بننا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں آزادی کا دعویٰ محض نعرہ بن کر رہ جاتا ہے اور عملی طور پر طالبات کو اپنے لباس کی وجہ سے کھڑکیوں کے پیچھے کھڑے ہو کر رنج و غم برداشت کرنا پڑتا ہے اور وہ تعلیم سے محروم رہتی ہیں۔ اگر سب کے لیے تعلیم کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے تو پھر کسی لڑکی کا لباس اس کے کلاس میں حاضر ہونے کی راہ میں رکاوٹ کیوں بننا چاہیے؟

حجاب پر پابندی اور آزادیِ آذربائیجان کا دعویٰ؛ حقوقِ نسواں کے حامی خاموش کیوں ہیں؟

آزادی اور انتخاب کے مفہوم کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا اہم ہے کہ مختلف انتخاب کرنے والے افراد کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتا ہے اور قوانین و ضوابط ان کی زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟

یہ موضوع بالخصوص اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب کسی فرد کے ذاتی انتخاب اور معاشرے کے سرکاری ضوابط کے درمیان فرق موجود ہو۔

البتہ مغربی آزادی کے حوالے سے یہ تضادات صرف مسلمان ملک جمہوریہ آذربائیجان تک محدود نہیں ہیں۔ مغربی ممالک بھی، جو خود کو آزادی، انصاف اور انسانی حقوق کا گہوارہ قرار دیتے ہیں، مختلف لباس اور طرزِ زندگی اختیار کرنے والے افراد کے معاملے میں چیلنجوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ فرانس اس کی ایک مثال ہے، جہاں اسکولوں میں مذہبی لباس سے متعلق پابندیوں کا معاملہ کئی مرتبہ تنازعے کا موضوع بن چکا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ تمام ممالک کی پالیسیاں یکساں ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی حکومت محض آزادی اور انصاف جیسے الفاظ دہرا کر اپنے طرزِ عمل کے بارے میں جواب دہی سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔

تاہم، مغرب کے تضادات کی نشاندہی کو جمہوریہ آذربائیجان میں پیش آنے والے واقعات کو نظر انداز کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ مختلف ممالک میں آزادی اور لباس سے متعلق پابندیوں کا عائد ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہر معاملے کا جائزہ متعلقہ ملک کے حالات اور پالیسیوں کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں جمہوریہ آذربائیجان میں حجاب کرنے والی طالبات کی صورتِ حال کا جائزہ بھی دوسرے ممالک میں پیش آنے والے ملتے جلتے واقعات سے الگ، تعلیم کے حق پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جانا چاہیے۔

آزادی کے تضادات واضح و آشکار ہو گئے!

اس معاملے میں اصل مسئلہ صرف حجاب کا نہیں، بلکہ آزادی کے مفہوم کا ہے۔ انتخاب کی آزادی اور اس کی حدود، بالخصوص مختلف انتخاب کرنے والے افراد کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے، انفرادی حقوق اور سماجی ضوابط کی بحث کے اہم موضوعات ہیں۔ وہ لڑکیاں جو حجاب کی وجہ سے اسکول کے دروازے کے باہر رہ جاتی ہیں، غیر ارادی طور پر اسی تضاد کو آشکار کرتی ہیں: ایک طرف آزادی کے وعدے ہیں جو زبانی طور پر کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ حق ہے جس سے عملی طور پر انسان کو محروم کر دیا جاتا ہے۔

اس بچی کی تصویر، جسے حجاب کی وجہ سے اسکول میں داخلے سے محروم کر دیا گیا اور جو کلاس کی بند کھڑکی کے پیچھے کھڑی ہے تاکہ شاید وہیں سے سبق سن سکے، ایسی تکلیف کی داستان ہے جو اسکول کے دروازے بند ہونے سے ختم نہیں ہوتی۔

جمہوریہ آذربائیجان میں تعلیم سے محروم کی گئی طالبات کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر تعلیم کے حق اور انفرادی اختلافات کے ساتھ برتاؤ کا معاملہ توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اس صورتِ حال میں اہم بات وہ معیار ہے جس کی بنیاد پر ہم انسانوں کی تکالیف کو دیکھتے اور ناانصافی کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔

حجاب پر پابندی اور آزادیِ آذربائیجان کا دعویٰ؛ حقوقِ نسواں کے حامی خاموش کیوں ہیں؟

جمہوریہ آذربائیجان میں حجاب کی وجہ سے لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنا، طالبان حکومت میں جنس کی بنیاد پر لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنا اور امتیازی سلوک کی دیگر صورتیں، ہر ایک اپنے انداز میں تعلیم کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔ ایک کی اہمیت کو دوسرے کو نظر انداز کرنے کی قیمت پر کم نہیں کیا جا سکتا۔

قومیت، جغرافیہ اور سیاسی و فکری ہم آہنگی کو اس بات کا تعین نہیں کرنا چاہیے کہ کس کی تکلیف توجہ کے لائق ہے اور کس کی تکلیف کو پس منظر میں دھکیل دیا جائے۔ اگر انسانی حقوق کا دفاع ان لوگوں کی شناخت اور عقائد سے مشروط ہو جائے جنہیں ان حقوق سے محروم کیا گیا ہے تو ہمیں اپنے معیاروں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

اس ظلم کو بیان کرنا شاید تنہا انصاف قائم نہ کر سکے، لیکن یہ ناانصافی کو معمول کی چیز سمجھنے سے روک سکتا ہے۔ ان طالبات کی کہانی بیان کرنا بھی اسی فرق کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہے؛ اس حق کے درمیان فرق جو سب کے لیے محفوظ ہونا چاہیے اور اس حقیقت کے درمیان فرق جس میں ایک طالبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آزادی اور تعلیم کا حق اسی وقت حقیقی معنی اختیار کرتے ہیں جب مختلف طرزِ فکر اور انتخاب رکھنے والے افراد کے معاملے میں بھی ان حقوق کو تسلیم کیا جائے۔

News ID 1942205

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha