مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکومت کی آٹھویں کونسل برائے اطلاعات کا اجلاس، ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے بحرانوں اور مسائل کے حل کے لیے حکومت کی کامیابیوں اور اقدامات کی وضاحت کرنے کی غرض سے ذرائعِ ابلاغ اور مختلف اداروں کے شعبہ ہائے تعلقاتِ عامہ کی صلاحیتوں سے استفادے کے لیے کونسل کے اقدامات اور منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
صدر پزشکیان نے اس اجلاس میں مختلف شعبوں میں انصاف کے قیام کے لیے ذرائع ابلاغ کی صلاحیتوں سے بھرپور اور ہدفمند استفادے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مسلسل اور ہمہ جہت کوششوں پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت، دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کے نفاذ اور ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے حملوں کا دشمنوں کا بنیادی مقصد عوام اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور انہیں مزید گہرا کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کو ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور ذرائعِ ابلاغ سمیت تمام دستیاب صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پزشکیان نے دشمن کی فوجی جارحیت اور اقتصادی محاصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ملک کے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی مسائل حل کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کی ہیں اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ اس راستے میں عوام کی معاشی ضروریات پوری کرنا ہم سب کی پہلی اور بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم عوام کا اعتماد حاصل کر لیں اور انہیں اپنے ساتھ لے کر چلیں تو کوئی طاقت ہمارے ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ صدر نے مزید کہا کہ دشمن کی فوجی اور اقتصادی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام دباؤ اور مشکلات کے باوجود حکومت نے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی ہیں، تاکہ عوام کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔ اسی طرح بنیادی اور ضروری اشیا کی فراہمی بھی بھرپور انداز میں اور شب و روز کی مسلسل کوششوں کے ذریعے جاری رکھی گئی ہے۔
پزشکیان نے توانائی کے زیادہ استعمال اور اقتصادی محاصرے کے حالات میں ملک کی ضروریات کے مطابق ایندھن کی فراہمی کے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ توانائی اور ایندھن کے شعبے میں مزید مسائل پیدا ہونے سے روکنے کے لیے ہم نے بچت اور استعمال کے انتظام کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔ عوام کے تعاون سے نمایاں بچت ہوئی ہے اور آج ہم پٹرول درآمد کرنے سے بے نیاز ہو گئے ہیں، جبکہ ہمیں اپنی ضروریات کا پٹرول درآمد کرنے کے لیے 12 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑتے۔
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، بچت اور استعمال کے بہتر انتظام سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی عوام ہی کو واپس کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے استعمال کے انتظام، پٹرول کی بچت، قومی اتحاد اور سماجی یکجہتی کو مضبوط بنانے جیسے اہم معاملات میں عوام کا تعاون حاصل کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں اور تنظیموں کے سربراہان کو بھی باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے سرکاری ملازمین کو ان اقدامات میں شریک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ’بغیر گاڑی کے منگل‘ جیسے منصوبوں پر عمل درآمد، ذاتی گاڑیوں کا کم استعمال، کاموں کی کارکردگی میں اضافہ اور گھر سے کام کرنے کی سہولت سے استفادے کے ذریعے توانائی اور ایندھن کے بے جا استعمال کو کنٹرول اور منظم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے تعاون سے امریکہ اور صیہونی حکومت کی تمام سازشوں اور مذموم منصوبوں کے مقابلے میں ڈٹی رہے گی اور ہم ایران کے دشمنوں کو ان کے مقاصد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیداوار کو مضبوط بنانے اور کارکردگی میں اضافے کے لیے تمام اداروں، سرکاری تنظیموں، کمپنیوں اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی اس سلسلے میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، میں اسے تعاون کی دعوت دیتا ہوں۔ ملک کے منتظمین کو ماہر اور تجربہ کار افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ملک کے مشکل حالات بہتر بنانے، عوامی مسائل حل کرنے اور کارکردگی میں اضافے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
پزشکیان نے ملک کے تعلیمی شعبے میں کیے گئے اہم اور بڑے اقدامات پر زور دیتے ہوئے ہفتے کی صبح تعلیمی منصوبوں اور اسمارٹ اسکولوں کے افتتاح کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مختصر عرصے میں انجام دیے گئے بڑے اقدامات کو دیکھ کر آج مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔ ملک میں تعلیمی جگہوں میں اضافہ، تدریسی طریقوں کی اصلاح اور تعلیمی مراکز میں ثقافتی اور کھیلوں کی سہولتوں کو وسعت دینا قابلِ ذکر ہے۔ اس سلسلے میں مخیر حضرات نے 48 ہزار ارب تومان کی مالی معاونت کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر نے نسلی اور صنفی انصاف کے نفاذ کے حوالے سے بھی حکومت کی کوششیں اور اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ فیصلہ سازی اور پالیسیوں پر عمل درآمد میں مختلف قومیتوں اور خواتین کی شرکت کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں ہم آہنگی بڑھانے اور دشمنوں کی مشکلات، دباؤ اور دھمکیوں کے مقابلے میں عوام کی ثابت قدمی اور مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ذرائع ابلاغ اور شعبہ ہائے تعلقاتِ عامہ کو بھی اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائی کے ساتھ اس راستے میں تعاون کرنا چاہیے۔
صدر پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ذرائع ابلاغ اور مختلف اداروں کے شعبہ ہائے تعلقاتِ عامہ کا تعاون ہرگز اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ حکومت کے اقدامات کی تعریف و توصیف کریں۔
انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میری تعریف کرے؛ ہماری خامیاں اور کوتاہیاں بیان کریں تاکہ ہم انہیں دور کرنے اور اصلاح کرنے کی کوشش کر سکیں۔
آپ کا تبصرہ