مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے متعدد ردِعمل سامنے آئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس سے قبل ’’اقتصادی اخراج کی کاروائی‘‘ (Operation Economic Outcast) کو ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیا تھا، لیکن اب انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ اقدام عملی طور پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپ کی آزادی کے لیے اتحادی افواج کے حملے جیسی فیصلہ کن کاروائی کے بجائے محض ایک انتباہی فائر تھا۔
بیسنٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم سب کو اپنا غلط رویہ درست کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ آخر میں عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کرنا کیوں چاہوں گا؟
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینئر رکن سوزان مالونی نے کہا کہ جیسا کہ پہلے سے اندازہ تھا، اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے پیش کیا جانے والا نام نہاد ”اقتصادی ڈی ڈے“ محض شور شرابے اور پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ”بادشاہ برہنہ ہے“ اور ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس تباہ کن جنگ کے نتیجے میں امریکی قومی سلامتی کے مفادات اور خلیج فارس میں ہمارے اتحادیوں کے مفادات کو پہنچنے والے بڑے نقصان کے ازالے کے لیے کوئی عملی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
امریکی سرمایہ کار پیٹر شف نے کہا کہ چونکہ ٹرمپ ایران میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اب انہوں نے اقتصادی پابندیوں کا سہارا لیا ہے۔ تاہم ان کے بقول، ’’اقتصادی اخراج کی کاروائی‘‘ نہ صرف ناکام ہوگی، بلکہ بالآخر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جو اقتصادی محاصرہ مزید تنگ ہو رہا ہے، وہی ہمارے اپنے گلے کا پھندا بن جائے۔
تریتا پارسی نے بیسنٹ کی جانب سے ’’ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کے بعد چند اہم نکات کی نشاندہی کی ہے:
1۔ ہاں، یہ اقدامات ایرانی عوام پر قابلِ ذکر دباؤ ڈال سکتے ہیں، لیکن اب تک کے حالات نے واضح کیا ہے کہ کسی ملک پر درد اور دباؤ مسلط کرنا ایک بات ہے، جبکہ اس دباؤ کو اس کی پالیسی میں تبدیلی کا ذریعہ بنانا بالکل الگ معاملہ ہے۔ امریکہ تقریباً کبھی بھی اس مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں رہا۔
2۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ بیسنٹ نے یہ تک واضح نہیں کیا کہ امریکہ کے اصل مطالبات کیا ہیں۔ اس سے تہران میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پابندیوں کا مقصد ایران کو تسلیم و سرنڈر پر مجبور کرنا ہے۔ جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایرانی، تسلیم کرنے کے مقابلے میں کشیدگی میں اضافہ برداشت کرنے کو ترجیح دیں گے۔
3۔ یہی وہ بڑی غلط فہمی تھی جو ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ ایران جنگ سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ بالآخر وہ کپٹیولیشن اور مکمل تسلیم کا راستہ اختیار کر لے گا۔ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ تہران جنگ سے زیادہ تسلیم ہونے سے خوفزدہ ہے۔ یہ حقیقت آج بھی برقرار ہے۔
4۔ چنانچہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ’’ڈی ڈے‘‘ پابندیاں جنگ کے خاتمے کا باعث بننے کے بجائے ایران کی جانب سے جوابی کاروائی اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنیں گی اور بالآخر یہ معاملہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے ایک اور دور میں تبدیل ہو جائے گا۔
5۔ البتہ ایک ایسا منظرنامہ بھی ممکن ہے جس میں ایران پر پڑنے والا دباؤ محدود رہے اور اس کے نتیجے میں تہران فوری طور پر جوابی کشیدگی سے گریز کرے۔ لیکن محاصرے اور ان پابندیوں کا مجموعہ غالباً طویل مدت میں ایران پر دباؤ مزید بڑھائے گا۔ یہ دباؤ تہران کو بالآخر جوابی کشیدگی پر مجبور کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے موجود راستہ مسلسل تنزلی اور دباؤ کی جانب جاتا دکھائی دے گا۔
لہٰذا، یہ نئی صورتِ حال ذاتی طور پر غیر مستحکم ہوگی اور ایران کی جانب سے فوری ردِعمل نہ آنے کو غلطی سے عدمِ ردِعمل یا امریکی شرائط کی قبولیت نہیں سمجھنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ