مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک بار پھر ایران کے خلاف بیان جاری کیا۔
ایران پر سنگین جارحیت کے نتیجے میں اپنے ملک میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتِ حال کو پُرسکون کرنے کی کوشش میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت جب ہم بات کر رہے ہیں، امریکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے بڑے اور طاقتور ہیں اور ایرانیوں کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی ناکام کوشش کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ فی الحال آبنائے ہرمز میں کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں؛ انہیں مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے یا دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانیوں کی جانب سے داغے گئے 8 میزائلوں کے جواب میں بھی یہ کاروائی کی جا رہی ہے، جنہیں اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر کامیابی سے مار گرایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کے فوجیوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بڑھتے ہوئے خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران اس انتہائی جائز حملے کا جواب دیتا ہے تو اس پر دوبارہ کہیں زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر حملہ کیا جائے گا۔ تاہم یہ ان تمام حملوں میں سب سے بڑا حملہ نہیں ہوگا؛ ایک اور حملہ ابھی باقی ہے اور جب وہ مکمل ہوگا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا زیادہ کچھ باقی نہیں رہے گا۔
اس سے قبل امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ آج مشرقی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے امریکی افواج نے ایران میں سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے اہداف کے خلاف حملوں کا آغاز کیا۔
واضح رہے امریکی جارحیت کی ایران نے فوراً جوابی کاروائی کا آغاز کیا اور خطے میں امریکی متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
آپ کا تبصرہ