مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے اسماعیل بقائی نے آج اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکی حکام اپنے رویوں اور پالیسیوں میں شدید چکرا رہے ہیں، تاہم ایران اس صورتِ حال سے غافل نہیں ہوگا اور دشمن کی سرگرمیوں پر پوری نظر رکھے گا۔
انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ ایران پر کسی بھی جارحیت کا مسلح افواج کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔
پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کے دورۂ ایران کے بارے میں سوال پر بقائی نے کہا کہ یہ دورہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں تھا۔ جنرل عاصم منیر ایران کے لیے نہ کوئی مثبت پیغام لائے تھے اور نہ منفی، بلکہ انہوں نے کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں کے تناظر میں اپنے خیالات پیش کیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے مستقل اصول قومی مفادات کا تحفظ ہے اور موجودہ حالات کے مطابق اسی بنیاد پر آئندہ کے فیصلے کیے جائیں گے۔
ایرانی ترجمان نے یورپی ممالک کی جانب سے امریکہ کی ایران مخالف پابندیوں کی حمایت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یورپ اگر ایران کو نقصان پہنچا کر امریکہ کا احترام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسیوں کے سامنے یورپ کی مسلسل پسپائی اور اطاعت واشنگٹن کی مزید جارحیت کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے امریکی پابندیوں کی حمایت بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔
بقائی نے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کو درپیش توانائی اور معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ایندھن اور معیشت سے متعلق ان کے موجودہ مسائل امریکی غیر قانونی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو اس حقیقت کا ادراک بہت پہلے ہو چکا ہے، لیکن اسے بیان کرنے کے لیے اخلاقی جرأت درکار ہے
اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپ نے حالیہ بیانات میں حقیقت کو نظرانداز کرنے اور جارح فریق کو خوش کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ تہران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ معمول کے رابطے میں ہے، لیکن کسی نئے مذاکرات یا بڑی پیش رفت کا معاملہ زیرِ بحث نہیں۔
انہوں نے کوہِ کلنگ میں جوہری سرگرمیوں سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ اس مقام پر کوئی جوہری سرگرمی نہیں ہو رہی۔
بقائی نے ایٹمی ایجنسی کے بعض عہدیداروں کے متضاد بیانات پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ ایجنسی اپنے طرزِ عمل کو اپنی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رکھے۔
بقائی نے کہا کہ امریکہ کے پاس دوسرے ممالک کو ایران کے خلاف اقتصادی جنگ میں شامل کرنے کے لیے کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں؛ جو ممالک بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انسانی اخلاقیات کو اہمیت دیتے ہیں، انہیں امریکی پالیسیوں کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کاروائیاں صرف ایران کے خلاف نہیں، بلکہ ان بین الاقوامی اصولوں کے خلاف بھی ہیں جن کی پابندی اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے قبول کر رکھی ہے۔
بقائی نے میناب، لامرد، قشم اور ایران کے دیگر علاقوں پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو جنگی جرم ثابت کرنے کے لیے مغربی میڈیا یا ماہرین کے حوالوں کی ضرورت نہیں۔ میناب میں معصوم شہریوں کی بڑی تعداد کی شہادت اور لامرد میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال نے ان حملوں کی سنگینی کو واضح کردیا ہے۔
ایران پر ممکنہ امریکی جوہری حملے سے متعلق سوال پر بقائی نے کہا کہ اس موضوع پر گفتگو ہی انتہائی تشویشناک ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس تصور کو معمول بنانے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جب تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT کا رکن ہے، اس کی ذمہ داریوں کا پابند رہے گا۔ ایران کا جوہری ہتھیاروں کے بارے میں مؤقف واضح اور مستقل ہے۔
بقائی نے چین کے امن و سلامتی سے متعلق اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے جو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ میں مددگار ہو۔
انہوں نے چین کو ایران کا اہم دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
بقائی نے امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی دشمنی ایران کے جوہری پروگرام سے شروع نہیں ہوئی بلکہ اس کی جڑیں 1953ء کی ایران میں حکومت کے خلاف امریکی حمایت یافتہ بغاوت تک جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے مختلف ادوار میں ایران کے خلاف متعدد بہانے استعمال کیے اور جوہری مسئلہ ان میں سے صرف ایک تھا۔ ایران کو اپنی دفاعی پالیسی کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا درست تجزیہ نہیں، کیونکہ ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بنیادی طور پر اپنے دفاع کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
بقائی نے واضح کیا کہ جنگ کا آغاز ایران نے نہیں کیا، تاہم جنگ کا اختتام بھی جارح فریق کی شرائط پر نہیں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ