1 ستمبر، 2026، 3:10 PM

3800 سے زائد مقامات پر دفاعی نظام تعینات کر دیے گئے، ایرانی فوجی کمانڈر

3800 سے زائد مقامات پر دفاعی نظام تعینات کر دیے گئے، ایرانی فوجی کمانڈر

ایرانی فوج کے فضائی دفاعی شعبے کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ ملک کے دشوار گزار علاقوں سمیت 3800 سے زیادہ مقامات پر فضائی دفاعی نظام فعال ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کے فضائی دفاعی شعبے کے نائب رابطہ کار بریگیڈیئر جنرل محمد صادقیان نے کہا ہے کہ ایران نے ملک بھر میں 3800 سے زائد مقامات پر فضائی دفاعی نظام تعینات کیے ہیں، جن میں سے کئی مقامات انتہائی دشوار گزار علاقوں میں واقع ہیں۔

جنرل محمد صادقیان نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں خاتم الانبیا فضائی دفاعی اڈے کے قیام کی سالگرہ اور قومی یوم فضائی دفاع کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاع ملک بھر میں چار بنیادی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے، جن میں نگرانی، شناخت، تعاقب اور دشمن کی فضائی تنصیبات کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فضائی دفاع کا بنیادی مشن اسلامی جمہوریہ ایران کی فضاؤں اور ملک کی فضائی حدود سے باہر بھی موجود کسی بھی پرواز کرنے والی چیز کی شناخت کرنا ہے۔

جنرل صادقیان کے مطابق کسی ہدف کی شناخت کے بعد اس کی نوعیت کا تعین کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے جنگی طیاروں کے ذریعے روکا جاتا ہے یا میزائل اور دفاعی نظاموں کے ذریعے کارروائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ فضائی دفاع کا آخری مقصد دشمن کے طیاروں کو اپنے مشن کی تکمیل سے روکنا اور ضرورت پڑنے پر انہیں تباہ کرنا ہے۔

ایرانی فضائی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ فضائی دفاع کا کردار صرف جنگی حالات تک محدود نہیں ہے، بلکہ عام حالات میں بھی ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ہر مسافر طیارے، مختلف شہروں کے درمیان پرواز کرنے والے طیاروں اور امدادی یا دیگر مشن انجام دینے والے ہیلی کاپٹروں کی سرگرمیاں فضائی دفاعی نظام کی نگرانی اور اجازت کے دائرے میں ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران مختلف جغرافیائی خصوصیات رکھنے والا ملک ہے، جہاں دفاعی اہلکار صحراؤں، ساحلی علاقوں، جزائر اور بلند پہاڑی علاقوں میں تعینات ہیں۔

جنرل صادقیان نے بتایا کہ نگرانی کرنے والی فورسز جدید آلات، الیکٹرو آپٹیکل نظام، جدید ترین ٹیکنالوجی اور ریڈار نیٹ ورک سے لیس ہیں، جو دن رات 24 گھنٹے ملک کی فضاؤں اور ایران سے باہر کی فضائی سرگرمیوں کی نگرانی اور کنٹرول کرتی ہیں۔

News ID 1941047

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha