1 ستمبر، 2026، 1:07 PM

جزیرہ لارک پر امریکی جارحیت، ایران کا سلامتی کونسل کو خط

جزیرہ لارک پر امریکی جارحیت، ایران کا سلامتی کونسل کو خط

ایران نے جزیرہ لارک پر امریکی فوجی حملے کو اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوری ایران کے سفیر و ناظم الامور غلامحسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام خط میں امریکہ کی جانب سے جزیرہ لارک پر کیے گئے تازہ فوجی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

درزی نے اپنے خط میں کہا کہ اتوار 30 اگست 2026 کی شب امریکی فوج نے ایک مرتبہ پھر طاقت کے غیرقانونی استعمال کا سہارا لیتے ہوئے خلیج فارس میں واقع جزیرہ لارک پر فوجی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوری ایران کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ایران کے متعدد وطن کے محافظ اور شہری شہری شہید اور زخمی ہوئے جبکہ سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

ایران نے اس اقدام کو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔

ایرانی سفیر نے خط میں واضح کیا کہ اسلامی جمہوری ایران کی مسلح افواج نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری حق دفاع کو استعمال کرتے ہوئے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف دفاعی اور متناسب حملے کیے، جنہیں ایران کے خلاف امریکی حملوں اور جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سلامتی کونسل کے صدر اور رکن ممالک کو یاد دلایا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کے لیے واحد خطرہ امریکہ اور صہیونی حکومت کا غیرقانونی اور جارحانہ طرز عمل اور ان کی عدم استحکام پیدا کرنے والی مہم جوئیاں ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی یہ غیرقانونی کارروائیاں 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف وسیع فوجی حملے اور بلاجواز جارحیت سے شروع ہوئیں اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران مختلف شکلوں میں جاری رہی ہیں، جن میں غیرقانونی بحری ناکہ بندی، اقتصادی دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ جبری اقدامات اور دیگر اشتعال انگیز و مداخلت پسندانہ کارروائیاں شامل ہیں۔

ایران نے ان اقدامات کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور ریاستی دہشت گردی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مصداق قرار دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں امریکہ پر بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور قانونی عناصر ثابت ہونے کی صورت میں ایسے اقدامات کا حکم دینے، ان کی ہدایت کرنے یا انہیں عملی جامہ پہنانے والے افراد پر انفرادی فوجداری ذمہ داری بھی عائد ہوسکتی ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ اور وہ تمام فریق جو کسی بھی طریقے سے امریکی جارحانہ اقدامات یا اس کے دیگر غیرقانونی اقدامات کی تیاری، ارتکاب یا نفاذ میں مدد، سہولت، حمایت یا شرکت کرتے ہیں، ان اقدامات کے تمام سنگین نتائج اور ان سے ہونے والے نقصانات کے مکمل ذمہ دار ہوں گے۔

ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی اس کھلی خلاف ورزی کا ازالہ کرنے، طاقت کے غیرقانونی استعمال پر جواب دہی یقینی بنانے اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق مزید خطرات اور کشیدگی کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

ایران نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل امریکہ سے کہیں کہ وہ فوری طور پر اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی اور ایسے جارحانہ اقدامات بند کرے جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، بحری تحفظ اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق عمل کیا ہے، تاہم ایران اپنے عوام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

ایران نے واضح کیا کہ اس کی مسلح افواج اپنے فطری حقِ دفاع کے استعمال میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گی اور کسی بھی فوجی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیں گی۔

News ID 1941039

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha