مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے روس یوکرین جنگ اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد راستہ قرار دیا ہے۔
نریندر مودی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 2026 کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی تنازع اور کشیدگی کا حل میدان جنگ میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں سلامتی کا دائرہ مزید وسیع ہو چکا ہے، اور مشرق وسطی کے بحران نے ثابت کر دیا ہے کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا تنازع صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہتا۔
بھارتی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اس طرح کے بحرانوں کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کی سلامتی، سمندری تجارت اور سپلائی چین پر مرتب ہوتے ہیں، جبکہ عالمی جنوب کے ممالک کو ان کے نتائج کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مودی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام سے گزر رہی ہے، ضروری ہے کہ مشترکہ جغرافیائی تعلقات کو مشترکہ مواقع میں تبدیل کیا جائے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امن و استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دے۔
آپ کا تبصرہ