مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ کے ادارتی بورڈ نے ’’ایران جنگ کی حقیقی قیمت‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے مختلف پہلوؤں اور امریکی عوام پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
اس رپورٹ میں خاص طور پر جنگ کے مالی اخراجات کے بجائے امریکی فوجی اخراجات، دفاعی صلاحیت کے زوال اور فوجی وسائل پر پڑنے والے دباؤ کو موضوع بنایا گیا ہے۔
اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اس معاملے میں معلومات چھپائی جا رہی ہیں اور شفافیت کا فقدان ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز ہی مناسب جائزے اور نگرانی کے بغیر کیا گیا تھا اور اب بھی یہ جنگ ضرورت سے زیادہ رازداری اور حقائق چھپانے کے ماحول میں جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شروع کردہ جنگ کی حقیقی لاگت کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی ہے؛ ایسی لاگت جو صرف مالی نقصان تک محدود نہیں، بلکہ امریکی فوج کی جنگی تیاری کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق، متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے امریکی وزیرِ جنگ پِیٹ ہیگست کو خبردار کیا ہے کہ ایران میں وسیع پیمانے پر جاری فوجی کاروائیوں کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا اور اس کے نتیجے میں امریکی فوج کی دیگر خطرات، حتیٰ کہ امریکی سرزمین کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی کم ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے زور دیا ہے کہ جنگ کا دباؤ صرف امریکی بجٹ تک محدود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ کے دوران پینٹاگون کے تقریباً ایک چوتھائی MQ-9 ریپر ڈرونز استعمال کیے جا چکے ہیں۔ بعض اہم اور حساس ہتھیاروں کے ذخائر میں بھی کمی آ رہی ہے۔ امریکی فوجی اہلکار معمول سے کہیں زیادہ تعداد میں تعینات اور مسلسل کاروائیوں میں مصروف ہیں، جس کا اثر فوجیوں کے حوصلے اور مورال پر بھی پڑ رہا ہے۔
مزید برآں، بحرالکاہل کے خطے میں موجود امریکہ کا واحد طیارہ بردار بحری جہاز بھی اگست کے اوائل میں مشرقِ وسطیٰ منتقل کر دیا گیا۔ امریکی اتحادی بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا شکار اور غیر یقینی کا سامنا کر رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق،اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ امریکہ نے جنگ پر کتنے ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کے محدود فوجی وسائل کا کتنا حصہ استعمال ہو چکا ہے اور ان وسائل کو دوبارہ پورا کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اس سے قبل یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں امریکی افواج کے ذمہ دار کمانڈروں کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے بھی ہیگست کی جانب سے فوجی تعیناتی میں توسیع کے حکم کی مخالفت کی تھی، تاہم ان کمانڈروں نے کہا تھا کہ وہ بالآخر اس حکم پر عمل کریں گے۔
رپورٹ میں اس کے بعد ٹرمپ کی جانب سے جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر تنقید کی گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، چھ ماہ قبل ٹرمپ نے امریکہ کو ایک پیشگی جنگ میں دھکیل دیا، جبکہ وہ اس جنگ کی قومی مفادات کے لیے ضرورت کے حوالے سے کوئی قابلِ اطمینان وضاحت پیش نہیں کر سکے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جنگ کے لیے کوئی واضح اور جامع حکمتِ عملی بھی پیش نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ جنگ کس طرح ختم ہوگی اور جنگ شروع کرنے کے لیے کانگریس سے باضابطہ اجازت بھی نہیں لی۔
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت کا خیال تھا کہ یہ جنگ آسان ثابت ہوگی۔ سرمقالے کے مطابق اس تصور پر امریکہ کی جانب سے وینزویلا میں نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کی کاروائی میں حاصل ہونے والی کامیابی کا بھی اثر تھا۔ تاہم اخبار کے مطابق اس کے برعکس موجودہ صورتحال ایک ’’دلدل‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے؛ ایسی صورتحال جس سے ٹرمپ اب کم از کم امریکہ کے وسط مدتی انتخابات تک ایران کے مسئلے کو سیاسی ایجنڈے سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کی قیمت کا اندازہ صرف ڈالر کی رقم سے نہیں لگایا جانا چاہیے۔ اس جنگ کی حقیقی لاگت میں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی، ڈرونز کا استعمال، فوجیوں کی تھکن اور ذہنی دباؤ، دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکی فوج کی تیاری میں کمی، جنگی بحری جہازوں اور فوجی دستوں کی نقل مکانی، اور امریکہ کے اتحادیوں میں پیدا ہونے والی تشویش بھی شامل ہے۔
آپ کا تبصرہ